لاہور (مہران اجمل خان سے) لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی میں 4ارب 47کروڑ 96لاکھ روپے کی سرمایہ کاری پر بڑا آڈٹ اعتراض، سنڈیکیٹ سے منظوری نہ لینے کا انکشاف، فنانس ڈیپارٹمنٹ افسران سرکاری مزے لیتے رہے ۔ تفصیلات کے مطابق لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی میں 4ارب 47 کروڑ 96لاکھ 39 ہزار 638 روپے مختلف بینکوں میں ٹرم ڈیپازٹ رسیدوں کے ذریعے سرمایہ کاری کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق اتنی بڑی رقم کی سرمایہ کاری کے لیے یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ سے منظوری حاصل نہیں کی گئی جبکہ معاملہ فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کے ذریعے بھی سنڈیکیٹ کے سامنے منظوری کے لیے پیش نہیں کیا گیا۔ 2021-24 کے آڈٹ کے دوران سامنے آنے والے اعتراض میں کہا گیا ہے کہ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی ایکٹ 2012 کے تحت سنڈیکیٹ کو یونیورسٹی کی رقم اور غیر مختص آمدن کو مقررہ سکیورٹیز میں سرمایہ کاری کرنے کا اختیار حاصل ہے جبکہ فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کی ذمہ داریوں میں یونیورسٹی کی سرمایہ کاری، مالی معاملات اور اکائونٹس کے حوالے سے سنڈیکیٹ کو مشاورت فراہم کرنا بھی شامل ہے۔آڈٹ کے مطابق 4ارب 47 کروڑ روپے سے زائد رقم کی سرمایہ کاری مختلف بینکوں میں ٹی ڈی آرز کے ذریعے کی گئی مگر اس کے لیے سنڈیکیٹ کی منظوری نہیں لی گئی۔ رپورٹ میں مزید نشاندہی کی گئی کہ تمام سرمایہ کاری ایک ایسے انویسٹمنٹ کمیٹی کے ذریعے کی گئی جو سنڈیکیٹ نے 5 دسمبر 2005 کے 13ویں اجلاس میں تشکیل دی تھی تاہم بعد ازاں ہونے والی اربوں روپے کی سرمایہ کاری کو فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کے ذریعے سنڈیکیٹ کی منظوری کے لیے پیش نہیں کیا گیا۔آڈٹ حکام نے اس عمل کو بغیر سنڈیکیٹ منظوری کے غیر قانونی اور بے قاعدہ سرمایہ کاری قرار دیتے ہوئے ذمہ داران کا تعین کرنے کی سفارش کی ہے۔ آڈٹ اعتراض سامنے آنے کے بعد بھی یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے یا تو اعتراض کو صرف تعمیل کے لیے نوٹ کیا گیا یا اس کا جواب فراہم نہیں کیا گیا۔ آڈٹ کے مطابق معاملہ انتظامی محکمے کو رپورٹ کیے جانے کے باوجود اس پر نہ کوئی جواب موصول ہوا اور نہ ہی ڈیپارٹمنٹل اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا گیا۔ رپورٹ کی حتمی تیاری تک نومبر اور دسمبر 2024 میں یاددہانیاں بھی جاری کی جاتی رہیں۔
