سینیٹ میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق پاکستان میں بجلی کی پیداوار کی لاگت میں مختلف ذرائع کے درمیان نمایاں فرق سامنے آیا ہے۔ واپڈا کے ڈیموں سے پیدا ہونے والی بجلی بعض منصوبوں میں 2.70 روپے فی یونٹ تک ہے، جبکہ بعض نجی آئی پی پیز سے بجلی کی قیمت 34 روپے فی یونٹ سے بھی تجاوز کر رہی ہے۔
دستاویزات کے مطابق زیرِ جائزہ مدت کے دوران حکومت نے واپڈا کو 34.5 ارب یونٹ بجلی کی مد میں 186 ارب روپے ادا کیے، جبکہ نجی آئی پی پیز کو 49.8 ارب یونٹ بجلی کے لیے تقریباً 1.04 کھرب روپے کی ادائیگی کی گئی۔

