ٹیکسلا (بیوروریپورٹ )بارش برسی تو صاف ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت انتظامیہ کی پول کھول دی، ٹیکسلا کا ایوانِ عدل بھی پانی میں ڈوب گیا، انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان،تفصیلات کے مطابق ٹیکسلا میں بارش کے ساتھ ہی گلیوں اور محلوں کے علاوہ ایوانِ عدل کا صحن بھی بارش کے پانی سے بھر گیا، نکاسی? آب کے ناقص انتظامات کے باعث عدالتی امور سے وابستہ افراد اور سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ایوانِ عدل سے متصل اسسٹنٹ کمشنر آفس اور محکمہ مال کے دفاتر بھی بارش کے پانی سے متاثر ہوئے اور وہاں بھی صورتحال جل تھل کا منظر پیش کرتی رہی،اس موقع پر صدر بار ایسوسی ایشن ٹیکسلا ملک سجاد حسین ایڈووکیٹ نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صفائی ستھرائی، نکاسی? آب اور دیگر بنیادی سہولیات عوام کا بنیادی حق ہیں، اس حوالے سے متعدد بار درخواستیں اور اپیلیں صوبائی حکومت، اعلیٰ عدلیہ اور وفاقی حکومت تک پہنچائی گئیں، مگر تاحال کوئی مؤثر عملی اقدام سامنے نہیں آیا،ان کا کہنا تھا کہ جہاں بارش ہوئی اور ٹیکسلا ایوانِ عدل پانی سے بھر گیا، مگر اس کا پرسانِ حال کون ہے؟ کوئی والی وارث نظر نہیں آتا، بار ایسوسی ایشن نے انتظامیہ کی ناقص کارکردگی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے نکاسی? آب کے معاملے میں بری طرح ناکام قرار دیا،انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیکسلا میں نکاسی? آب کے مستقل اور مؤثر نظام کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، تاکہ ہر بارش کے بعد شہریوں اور سرکاری و عدالتی اداروں کو اسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔
