بلو پاسپورٹ کے باوجود دبئی ائیرپورٹ پر ارکانِ پارلیمنٹ کو روکے جانے کا انکشاف، قائمہ کمیٹی کا تشویش کا اظہار
منگل کے روز ہونے والے سینیٹ/قومی اسمبلی کی وزارتِ داخلہ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستانی اراکینِ پارلیمنٹ کو سفری پابندیوں اور مشکلات کا سامنا کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا، جس میں ایسی رپورٹس بھی شامل ہیں کہ سفارت کاروں اور اراکینِ پارلیمنٹ کو "بلیو (سفارتی) پاسپورٹ” رکھنے کے باوجود دبئی کے ہوائی اڈوں پر آف لوڈ کیا گیا یا روکا گیا۔
کچھ قانون سازوں (اراکینِ پارلیمنٹ) نے امیگریشن چیکنگ کے دوران اراکینِ پارلیمنٹ اور ان کے خاندانوں کے ساتھ غیر مستقل اور ناہموار سلوک کی شکایت کی۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ غیر ملکی حکام کے ساتھ اس مسئلے کو باقاعدہ طور پر حل کرے۔
قانون سازوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا غیر ملکی امیگریشن حکام کے ساتھ کوئی غیر رسمی معاہدے وجود رکھتے ہیں؟ اس معاملے پر باخبر ذمہ دار حکام نے واضح کیا کہ تمام معاملات رسمی ذرائع سے نمٹائے جاتے ہیں اور غیر ملکی وزارتِ خارجہ کے ساتھ کوآرڈینیشن (رابطہ کاری) کا عمل جاری ہے۔
اس موقع پر فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) نے دبئی، قطر اور دیگر ہوائی اڈوں پر سفارتی اور سرکاری پاسپورٹس کے غلط استعمال کے کیسز بھی رپورٹ کیے، جہاں جعلی یا مشکوک سفری ریکارڈ کا پتہ چلا ہے۔
وزارتِ داخلہ نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ اراکینِ پارلیمنٹ کی سفری سہولیات کے حوالے سے تحفظات کو دور کرنے کے لیے سفارتی ذرائع (سفارتی چینلز) کا استعمال کیا جائے گا۔

