آستانہ: قازقستان وسطی ایشیا کا پہلا ملک بننے جا رہا ہے جہاں جدید الیکٹرک ایئر ٹیکسی (eVTOL) سروس متعارف کرائی جائے گی۔ اس منصوبے کا مقصد شہری آمدورفت کو تیز، محفوظ اور ماحول دوست بنانا ہے۔
دارالحکومت آستانہ میں چینی کمپنی AutoFlight کی تیار کردہ "Prosperity” نامی ایئر ٹیکسی کا کامیاب مظاہرہ کیا گیا۔ یہ جدید طیارہ عمودی انداز میں ٹیک آف اور لینڈنگ کی صلاحیت رکھتا ہے، ایک پائلٹ اور پانچ مسافروں کو لے جا سکتا ہے، تقریباً 200 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کر سکتا ہے اور ایک بار چارج ہونے پر 200 کلومیٹر تک سفر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس منصوبے پر قازق کمپنی Alatau Advance Air Group (AAAG) اور چینی کمپنی AutoFlight مشترکہ طور پر کام کر رہی ہیں۔ حکام کے مطابق ایئر ٹیکسی سروس شہری ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے، جدید ٹرانسپورٹ نظام کو فروغ دینے اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
قازق حکومت نے اس مقصد کے لیے شہری فضائی نقل و حمل (Urban Air Mobility) کا فریم ورک تیار کرنا شروع کر دیا ہے، جبکہ مخصوص ورٹی پورٹس (Vertiports) بھی تعمیر کیے جا رہے ہیں جہاں سے ایئر ٹیکسیاں آپریٹ کریں گی۔
ماہرین کے مطابق اگر تمام ریگولیٹری اور حفاظتی مراحل کامیابی سے مکمل ہو گئے تو قازقستان وسطی ایشیا میں ایئر ٹیکسی سروس شروع کرنے والا پہلا ملک بن جائے گا، جو خطے میں جدید فضائی ٹرانسپورٹ کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

