گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر ہونے والے انتخابات کےغیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔
اب تک حاصل ہونے والے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کو 10 ، مسلم لیگ ن کو 4، تحریک انصاف کے حمایت یافتہ ایک امیدوار اور 6 نشستوں پرآزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔
حلقہ جی بی اے 1 گلگت 1 کے تمام 80 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امجد حسین 10594 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے، پاکستان مسلم ليگ ن کے محمد شفیق الدین 6312 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
حلقہ جی بی اے 2 گلگت 2 کے 91 پولنگ اسٹیشنز میں سے 27 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حفیظ الرحمان 4129 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے جمیل احمد 2695 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 3 گلگت 3 کے تمام 82 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار سید سہیل عباس7877 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے آفتاب حیدر ایڈووکیٹ 7361 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
حلقہ جی بی اے 4 نگر 1 کے تمام 53 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد علی اختر 7654 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ اسلامی تحریک پاکستان کے محمد ایوب وزیری 6597 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
حلقہ جی بی اے 5 نگر 2 کے تمام 32 پولنگ اسٹیشنز کا غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی مراد 2705 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ مجلس وحدت مسلمین کے ریاض اکبر 2584 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
حلقہ جی بی اے 6 ہنزہ کے تمام 88 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار نیک نام کریم 6360 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امتیاز الحق 5417 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
حلقہ جی بی اے 7 اسکردو 1 کے تمام 31 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سید توقیر مہدی 4337 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے راجہ جلال حسین خان 3891 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
حلقہ جی بی اے 8 اسکردو 2 کے تمام 70 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق مجلس وحدت مسلمین کے محمد کاظم 10474 ووٹ لیکرجیت گئے، پیپلز پارٹی کے سید محمد علی شاہ 10118 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
حلقہ جی بی اے 9 اسکردو 3 کے تمام 54 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے فدا محمد ناشاد 6314 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ آزاد امیدوار وزیر محمد سلیم 6106 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
حلقہ جی بی اے 10 اسکردو 4 کے تمام 51 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پیپلز پارٹی کے ناصر علی خان 6582 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے وزیر محمد خان 4667 ووٹ لےکر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 11 کھرمنگ کے تمام 51 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے اقبال حسن 5944 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ پاکستان مسلم ليگن کے سید محسن رضوی 4589 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
حلقہ جی بی اے12 شگر کے تمام 71 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پیپلز پارٹی کے عمران ندیم 12944 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ اسلامی تحریک پاکستان کے راجہ محمد اعظم خان 8682 ووٹ لےکر دوسرے نمبر پر رہے۔
حلقہ جی بی اے 13 استور 1 کے 57 پولنگ اسٹیشنز میں سے 36 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رانا فرمان علی 4368 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ آزاد امیدوار شاہدہ 4312 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
جی بی اے 14 حلقہ 2 کا نتیجہ عارضی طور پر روک دیا گیا ہے، یہ عمل پیپلز پارٹی کے سید عباس موسوی کی درخواست پرکیا گیا، انہوں نے بعض پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا ہے، نتیجہ دوبارہ گنتی کے بعد جاری کیا جائے گا، یہاں پر پاکستان مسلم لیگ کے رانا فاروق جیتے ہیں لیکن دھاندلی کے الزامات کی وجہ دوبارہ گنتی کی جا رہی ہے۔
حلقہ جی بی اے 15 دیامر 1 کے 51 پولنگ اسٹیشنز میں سے 11 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار محمد دلپزیر 1426 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ولی الرحمان 996 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 16 دیامر 2 کے 42 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار امام ملک 6 ہزار 320 ووٹ حاصل کرکے پہلے نمبر پر رہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار عطا اللہ 6 ہزار 296 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
حلقہ جی بی اے 17 دیامر 3 کے 46 پولنگ اسٹیشنز میں سے 11 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد نسیم 2244 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ جے یو آئی ایف کے رحمت خالق 1128 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 18 دیامر 4 کے تمام 34 پولنگ اسٹیشنز کے نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم ليگ ن کے کفایت الرحمن 5521 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہے جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے گلبر خان 4916 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
حلقہ جی بی اے 19 غذر 1 کے تمام 78 پولنگ اسٹیشنز غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سید جلال شاہ 9613 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ آزاد امیدوار نواز خان ناجی 8210 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
حلقہ جی بی اے 20 غذر 2 کے تمام 69 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم ليگ ن کے عبدالجہاں 6917 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے نذیر احمد 6758 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
حلقہ جی بی اے 21 غذر 3 کے تمام 60 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے آزاد امیدوار امان علی 9938 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد ایوب شاہ 6643 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
حلقہ جی بی اے 22 گھانچے 1 کے تمام 58 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے محمد ابراہیم ثنائی 9308 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے عاشق حسین 8052 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
حلقہ جی بی اے 23 گھانچے 2 کے تمام 50 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار انور علی 12117 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ آزاد امیدوار عبد الحمید 4119 ووٹ لےکر دوسرے نمبر پر رہے۔
حلقہ جی بی اے 24 گھانچے 3 کے تمام 46 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار اسد شفیق 8092 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل 5072 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 9 لاکھ 58 ہزار سے زائد ہے۔ انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔
حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو 17 نشستوں کی سادہ اکثریت درکار ہے۔
