اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) نے امراض قلب کے مریضوں کے لیے استعمال ہونے والے سٹنٹس کی بڑھتی قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور عام شہریوں کی دسترس میں لانے کیلئے پرائسنگ پالیسی تیار کرلی۔ ڈریپ کے ذرائع کے مطابق سٹنٹس کی قیمتوں میں منافع کی شرح زیادہ سے زیادہ 50فیصد تک ہوگی۔ لاکھوں روپے میں فروخت ہونے والے سٹنٹس اب پاکستان میں ہزاروں روپے میں فروخت ہوں گے، چالیس ہزار سے بیالیس ہزار میں درآمد ہونے والا سٹنٹ 63 سے 65ہزار میں فروخت ہوگا 50ہزار تک درآمد ہونے والا سٹنٹ اب صرف 80ہزار تک بکے گا۔ مجوزہ پالیسی کے مطابق سٹنٹس اور درآمدی کی قیمتوں کا تعین ڈسٹری بیورٹرز کے کسٹم ریکارڈ اور درآمدی کی قیمت ریکارڈ کے موازنہ کے مطابق کیا جائے گا، ڈریپ کے مجوزہ فارمولے کے طمابق ڈسٹری بیوٹرز کے کسٹم ریکارڈ اور درآمدی قیمت کے ریکار ڈ پر قیمت مقرر ہوگی۔پچاس فیصد منافع میں ڈاکٹروں و ہسپتالوں کی فیس ، ڈسٹری بیوشن چارجز سمیت تمام دفتری ، ٹرانسپورٹ، مارکیٹنگ کے اخراجات بھی شامل ہیں30ہزار میں درآمد ہونے والا اسٹنٹ پاکستان میں 45ہزار سے لے کر 47ہزار میں فروخت ہوگا۔پالیسی کے تحت ڈسٹری بیوٹراب صرف 4سے 5فیصد منافع ہی کماسکے گا۔واضح پرائسنگ پالیسی کی عدم موجودگی کے سبب یورپ میں چند ہزار پاکستانی روپے میں دستیاب سٹنٹس کی پاکستان میں کم سے کم قیمت لاکھوں میں وصول کی جارہی تھی۔
امراض قلب کے مریضوں کیلئے بڑی خوشخبری
