تازہ تر ین

عوامی سفر شروع ، قافلوں کے قافلے ریلی میں شامل ، ڈی چوک پرپہلا خطاب

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) سابق وزیراعظم نواز شریف کا کنٹینر اسلام آباد سے چل پڑا۔ جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور تک کا سفر 72 گھنٹے میں طے ہوگا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی قیادت میں وفاقی کابینہ کے ارکان نے سابق وزیراعظم کو الوداع کیا۔سکیورٹی خدشات کے پیش نظر نواز شریف کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ جلسے کے لئے مخصوص جگہ کے علاوہ گاڑی سے ہرگز باہر نہ نکلیں جبکہ سیاسی کارکنوں کے تصادم سے بچنے کے لئے بھی خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔ جی ٹی روڈ پرپی ٹی آئی کے تمام دفاتر کو بندکر دیا گیا ہے جبکہ عمران خان نے کارکنوں کو ریلی سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ادھر حساس اداروں کی طرف سے ملنے والی رپورٹس کے مطابق محکمہ داخلہ پنجاب نے سکیورٹی ریڈ الرٹ جاری کیا ہے اوراس سلسلہ میں تمام اضلاع کے پولیس سربراہوں کو ہدایت کی گئی ہے وہ اپنے علاقوں میں حساس مقامات اور عوامی اجتماعات کے لئے سکیورٹی انتظامات کو مزید بہتر بنائیں اور اس سلسلہ میں سکیورٹی انتظامات کو خود نگرانی کریں۔ محکمہ داخلہ پنجاب کو ملنے والی رپورٹ کے مطابق میاں نواز شریف کی جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور آمد پر پورے روٹ کو انتہائی حساس ترین قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح چنیوٹ میں بلاول بھٹو زرداری کے جلسہ عام کے لئے بھی سکیورٹی انتظامات کا اظہار کیا گیا ہے۔ اسلام آباد( خصوصی رپورٹ)سابق وزیراعظم نواز شریف اسلام آباد سے لاہور کے لئے روانہ ہوگئے۔ نجی ٹی وی کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی ریلی کے لیے خصوصی طور پر تیار کی گئی گاڑی پنجاب ہاو¿س پہنچا دی گئی جبکہ ریلی لاہور کیلئے چل پڑی ہے، گاڑی میں سپیکرز اور ساو¿نڈ سسٹم لگایا گیا ہے جب کہ اس کے اوپر سابق وزیر اعظم نوازشریف اور مریم نواز کے پوسٹرز آویزاں ہیں۔ یہ خصوصی وین سابق وزیراعظم نواز شریف کے قافلے کے ساتھ لاہور جائی گی، اس کے علاوہ سپیکرز اور ساو¿نڈ سسٹم کے ساتھ 8 خصوصی گاڑیاں تیار کی گئی ہیں۔ تمام شہروں میں نوازشریف کی ریلی کا استقبال ایم این ایز اور ایم پی ایز کریں گے۔ ریلی کے راستوں پر جگہ جگہ استقبالیہ کیمپ لگائے گئے ہیں جہاں کارکنان کے لیے پانی اور کھانے کا بھی انتظام ہوگا۔ ذرائع نے بتایا کہ ریلی ڈی چوک سے جناح ایونیو اور ایکسپریس ہائی وے سے فیض آباد پہنچی، راولپنڈی میں تمام چوراہوں پر پانی، کھانے اور ساو¿نڈ سسٹم کے کیمپ لگائے گئے جب کہ ریلی مریڑ چوک سے کچہری سے ہوتی ہوئی جی ٹی روڈ پر داخل ہوئی۔ ذرائع کے مطابق کچہری چوک پر وکلاءاور راولپنڈی کینٹ کے تمام پارلیمنٹیرینز موجود تھے، ریلی کچہری سے ایوب پارک، کہوٹہ موڑ اور ٹی چوک پہنچی، ریلی روات بازار، چک بیلی سٹاپ، مندرہ اور گوجر خان سے گزرے گی۔ ریلی کامونکی، مریدکے اور شاہدرہ سے ہوتی ہوئی لاہور میں داخل ہوگی، سوہاوہ، دینہ، جہلم، سرائے عالمگیر، کھاریاں اور لالہ موسیٰ سے گزرے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کچہری چوک راولپنڈی، روات بازار، گوجرخان، جہلم، لالہ موسیٰ، گجرات اور وزیرآباد میں بھی عوام سے خطاب کریں گے۔ علاوہ ازیں ذرائع محکمہ داخلہ کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کو بلٹ پروف گاڑی میں لاہور لایا جائے گا اور سکیورٹی کلیئرنس تک گاڑی سے باہر نہیں نکلیں گے۔ صوبائی محکمہ داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ریلی کے راستے میں بازار بند رکھے جائیں گے اور پولیس کے مسلح اہلکار اور نشانہ باز چھتوں پر تعینات ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق جی ٹی روڈ پر واقع تحریک انصاف کے دفاتر کو بند رکھا جائے گا اور پی ٹی آئی رہنماو¿ں سے ریلی کے راستے میں گڑ بڑ نہ کرنے کی یقین دہانی لے لی گئی ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کی ریلی کو جلد منزل پر پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔ ذرائع مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے قافلے کو اسلام آباد سے 72 گھنٹے میں لاہور پہنچایا جائے گا۔ ترجمان پنجاب حکومت ملک محمد احمد نے کہا کہ نواز شریف کی ریلی میں لاکھوں افراد شامل ہوں گے جب کہ ریلی کے راستے کی دکانیں بند کر کے سکیورٹی انتظامات کئے جائیں گے۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain