تازہ تر ین

فوج اور حکومتی پارٹی کو ایک پیج پر آنا ہو گا

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ پوری قوم اور ناظرین کو جشن آزادی کی مبارکباد دیتا ہوں بحیثیت قوم ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ 1947ءمیں ہم کہاں تھے اور آج کہاں کھڑے ہیں۔ تقسیم کے وقت ہی بھارت نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلم اکثریتی علاقوں پر قبضہ جما لیا تھا ریاست حیدرآباد اور جونا گڑھ پر زبردستی قبضہ کر لیا، کشمیر کی وادی میں فوجج داخل کر دی جو آج تک ظلم کا بازار گرم کئے ہوئے ہے۔ 1971ءمیں سیاسی غلطیوں کے باعث بنگالی بھائی ناراض تھے جس کی وجہ سے جنگ میں بھارت کامیاب رہا اور 52 فیصد آبادی والا بڑا صوبہ ہم سے الگ ہو گیا۔ خبریں میگزین میں 85 سالہ سینئر مسلم لیگی رہنما آزاد بن حیدر اپنے انٹرویو میں کہتے ہیں کہ پاکستان کے 75 فیصد حصے سے بھارت تقریباً قبضہ کر چکا ہے اور موجودہ پاکستان کو بھی ہڑپ کرنا چاہتا ہے، بلوچستان میں علیحدگی کو ہوا دے رہا ہے، کراچی کو انٹرنیشنل سٹی قرار دینے کے لئے متحدہ لندن گروپ کی حمایت و مدد کرتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں بھی سازشیں جاری ہیں اور ہمارے ہی کئی رہنما ڈیورینڈ لائن کو ماننے سے انکاری ہیں اور پاکستان اور افغانستان کو ایک ہی ملک تصور کرتے ہیں۔ انسانیت کی جتنی تذلیل کشمیر میں ہو رہی ہے اتنی تو فلسطین میں بھی نہیں ہوتی۔ 14 اگست تجدید عہد کا دن ہونا چاہئے جس میں ہمیں غوروفکر کرنا چاہئے۔ پاکستان سے زیادہ مسلمان تو بھارت میں رہ گئے تھے ہماری ذمہ داری ہے کہ خود کو اتنا مضبوط بنائیں کہ بھارت کے مسلمانوں کے حقوق بھی پامال نہ ہونے دیں۔ بھارت کا جنگی جنون تیزی سے بڑھ رہا ہے کبھی چین پر چڑھ دوڑتا ہے کبھی ایل او سی پر اشتعال انگیزی کرتا ہے جبکہ خود اس کے اندر یہ حالت ہے کہ بھارتی خواتین حکومت سے نفرت کا اظہار کرتی اور اپنے بچوں کو فوج میں بھیجنے سے انکاری ہیں۔ بھارت نے جنگی جنون کے تحت بے تحاشا بھرتی تو کر لی مگر اس کے فوجیوں کے پاس وردیاں، اسلحہ اور دیگر سہولتیں تک نہیں ہیں۔ مسلمان کے لئے تو ایمان کا حصہ جہاد ہے، ہمیں پاک فوج اور بھارتی فوج میں بنیادی فرق ہے پاکستانی قوم جتنا احترام اور رحمت اپنی فوج سے کرتے ہیں یہ دنیا میں ایک مثال ہے۔ جشن آزادی والے دن ہی دیکھ لیں۔ صدر، وزیراعظم، وزراءاعلیٰ اور گورنرز سب ہی موجود تھے لیکن پوری قوم کی نظریں واہگہ بارڈر پر پرچم کشائی کرتے آرمی چیف پر رہیں، کسی پاکستانی کو دلچسپی نہ تھی کہ صدر یا وزیراعظم نے کیا پیغام دیا۔ سول حکومت اور فوج میں فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ جو ملک کے لئے اچھا نہیں ہے ان دونوں کو ایک پیج پر آنا چاہئے۔ لیگی رہنما کہتے ہیں کہ پانامہ کیس میں آرمی کا بھی کردار رہا تھا براہ راست آرمی کا نام لینے کے بجائے اسٹیبلشمنٹ کا لفظ استعمال کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب آرمی چیف کہتے ہیں کہ ہر ادارہ ایمانداری سے کام کر رہا ہے، آئین اور قانون کی حکمرانی ہو گی، آرمی چیف مارشل لا نہیں چاہتے، حکمران پارٹی اور فوج میں تضاد بڑھ رہا ہے صورتحال اچھی نہیں ہے۔ سپریم کورٹ یا الیکشن کمیشن ہی بتا سکتے ہیں کہ نوازشریف سیاست کر سکتے ہیں یا نہیں تاہم اب تک تو وہ گن گرج کے ساتھ سیاست کر رہے ہیں۔ اسلام آباد میں ایک یہ افواہ بھی گردش میں ہے کہ نوازشریف کو نااہل قرار دینے کے بعد انصاف کا تقاضا ہے کہ عمران کو بھی نااہل قرار دے دیا جائے۔ شیخ رشید نے اپنی تقریر میں نوازشریف پر سنگین الزامات لگائے ہیں کہ ان کی بھارت میں سرمایہ کاری ہے۔ نوازشریف یا ان کے ترجمان کو جواب دینا چاہئے۔ بلاول بھٹو، رضا ربانی اور اعتزاز احسن الگ الگ بیان دے رہے ہیں تاہم حتمی فیصلہ تو آصف زرداری نے کرنا ہے جو پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کے سربراہ ہیں۔ بلاول کو تو نام کی پیپلزپارٹی کا سربراہ بنا رکھا ہے اصل طاقت آصف زرداری نے پاس رکھی ہے۔ جسٹس (ر) افتخار چیمہ نے کہا کہ نااہلیت اور سیاست مختلف چیزیں ہیں نوازشریف کا باہر نکلنا اور عوام تک اپنی بات پہنچانا سیاست ہے۔ اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ نوازشریف اداروں میں تصادم چاہتے ہیں نہ ہی عدلیہ کی توہین ان کا مقصد ہے۔ پانامہ کیس میں کرپشن ثابت نہ ہوئی اور صرف ایک اقامہ نکلا ہے۔ مجھ پر بھی نااہلی کی تلوار چل چکی ہے کہ میں نے غلطی سے مسجد کے احاطہ کے چند مرلے جو میرے نام تھے کاغذات میں ظاہر نہ کئے تھے جس پر مجھے ڈی سیٹ کر دیا گیا نوازشریف کا کیس تو اس سے بہتر تھا، جب انہوں نے بیٹے سے تنخواہ لی ہی نہیں تو ظاہر کیا کرتے۔ پانامہ کیس کا فیصلہ کسی بھی قانون دان یا ریٹائرڈ جج نے تسلیم نہیں کیا۔ سینئر تجزیہ کار مکرم خان نے کہا کہ ن لیگ کے حمایتی گروپس اور تھنک ٹینک مختلف فورم پر یہ باتیں کرتے نظر آتے ہیں کہ آرمی چیف نے بھارت کو جو واضح پیغام دیا ہے وہ پیغام حکومت کی خارجہ پالیسی سے متصادم ہے۔ 14 اگست کی تقریبات سے قبل ہی ن لیگ کے سوشل میڈیا سیل نے خاص طرح کے پیغامات دینا شروع کر دیئے کہ خارجہ پالیسی فوج کے پاس ہے سی پیک فوج کے پاس ہے اور روج کو کیا دیا جائے، یہ ساری باتیں ایک خاص مقصد کے تحت کی جا رہی ہیں۔ بھارت ہماری پشت پر خنجر گھونپ رہا ہے، بلوچستان میں علیحدگی پسند گروپ، طالبان کو سپورٹ کرتا ہے۔ ہمیں پراکسی وار میں الجھا کر نقصان پہنچا رہا ہے۔ آرمی چیف کا ایک ایک لفظ لیگی حلقوں کو متصادم کیوں محسوس ہو رہا ہے۔ صحافتی ذرائع کہہ رہے ہیں کہ بھارت میں شریف خاندان کی 9 شوگر ملز ہیں۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain