تازہ تر ین

70 سال سے تماشے جاری ، نیا حادثہ ہو سکتا ہے

لاہور (اپنے سٹاف رپورٹر سے) سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے پاکستان کے سترویں یوم آزادی پر میں پوری قوم کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ قائداعظم کا وہ پاکستان سلامت نہیں رہا جو انہوں نے 14اگست 1947 کو ہمارے حوالے کیا تھا ، افسوس ہم قائداعظم کے زریں افکار پر بھی عمل نہ کرسکے،جمہوری عمل سے تخلیق پانے والے ملک میں جمہوریت ملسل ٹھوکریں کھاتی رہی،ہم شہدائے آزادی کے خوابوں کو تعبیر کی شکل نہ دے سکے، قوم کو اپنے ووٹ کے تقدس کے لیے ایک نئے عہد و عزم کے ساتھ ایک نیا سفر شروع کرنا ہو گا ۔پیر کو اسلام جمہوریہ پاکستان کے سترویں یوم آزادی پر نواز شریف کہا پوری قوم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔آزادی بہت بڑی نعمت ہے ایسے مستحکم اور عوام کے لیے باثمر بنانے کے لیے ہمیں اتحاد ویکجہتی کے ساتھ ہر قسم کے تعصبات سے بالاتر ہوکر ایک پرعزم قوم کی حیثیت سے آگے بڑھنے کا عہد کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا پاکستان ایک سیاسی جمہوری اور عوامی جدوجہد کا ثمر ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے اس جدوجہد کی قیادت کرتے ہوئے جنوبی ایشیاءکی تاریخ ہی نہیں جغرافیہبھی بدل ڈالا۔ آج ہم پیچھے پلٹ کر دیکھتے ہیں تواپنی بہت سی کامرانیوں پر خوشی کے ساتھ ساتھ رنج بھی ہوتاہے کہ قائداعظم کا وہ پاکستان سلامت نہیں رہا۔جو انہوں نے 14اگست 1947 کو ہمارے حوالے کیا تھا۔ سابق وزیر اعظم نے کہا افسوس کا سبب یہ بھی ہے ہم قائداعظم کے زریں افکار پر بھی عمل نہ کرسکے۔جمہوری عمل سے تخلیق پانے والے ملک میں جمہوریت ملسل ٹھوکریں کھاتی رہی۔ آتے جاتے آمروں نے نہ جمہوری عمل کو آگے بڑھنے دیا نہ عوام کے منتخب نمائندوں کو عوامی امنگوں کوترجمانی کا موقع دیا۔نتیجہ یہ کہ ہم شہدائے آزادی کے خوابوں کو تعبیر کی شکل نہ دے سکے۔ ایک زندہ قوم کی طرح سترویں یوم آزادی کی خود احتسابی کے دن کے طور پر مناتے ہوئے ہمیں ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے چاہیں جواب ہر پاکستانی کی زبان پر ہیں۔ اپنے مستقبل کو اپنے ماضی سے زیادہ باوقار خوش حال بنانے کے لیے آپ کو اپنے ووٹ کے تقدس کے لیے ایک نئے عہدہ ایک نئے عزم کے ساتھ ایک نیا سفر شروع کرنا ہوگا۔ سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ نظریہ ضرورت کے نتیجے میں قائداعظم کا پاکستان ٹوٹ گیا مگر ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھا، قائداعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان بنانا ہے تو آئین و قانون کا احترام کرنا ہو گا، قوم کے ایجنڈے کا آئٹم نمبر ون ووٹ کا تقدس اور احترام ہونا چاہئے۔ لاہور میں مزار اقبال پر حاضری اور فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان قائداعظم کی قیادت میں جمہوری قانونی جدوجہد اور ووٹ کی طاقت سے وجود میں آیا۔ بدقسمتی سے ہم نے قانون نظر انداز کر کے نظریہ ضرورت ایجاد کر لیا۔ آج 70 ویں سالگرہ پر ایک بار پھر یہ طے کرنا ہو گا کہ ہم ہر صورت اور ہر قیمت پر ووٹ کے تقدس کو اپنائیں گے اور اسے برقرار رکھیں گے۔ جمہوریت عوام کے احترام کا نام ہے اور جمہوریت عوام کے ووٹ کے تقدس کا نام ہے۔ جمہوریت عوام کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کا نام ہے۔ ہم نے قائد اعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان بنانا ہے تو آئین و قانون کا احترام کرنا ہو گا چونکہ ہم اس پر قائم نہیں رہے ادھر ادھر بھٹکتے رہے اور 70 سال اسی طرح بیت گئے۔ ہم نے ملک ٹوٹنے سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ ہر یوم آزادی پر ہم شرمسار ہو کر پیش ہوتے ہیں۔ آج آپ اپنے دل سے پوچھیں کہ خوشی کے ساتھ 70 ویں سالگرہ منا رہے ہیں؟ خوشی تو تب ہوتی کہ مشرقی پاکستان بھی ہمارے ساتھ ہوتا اور ترقی میں پیش پیش ہوتا، وہ بازو کٹ کر بنگلہ دیش بن گیا اور جو حصہ بچا تھا اس میں 70 سال میں انتشار ہی انتشار دیکھا۔ اگر ہم واقعی ووٹ کے تقدس کا احترام اور توقیر کا خیال کرتے تو آج ہمیں یہ دن دیکھنا نہ پڑتا۔ نوازشریف نے کہا کہ ہم نے 4 سالوں میں ترقی کی ہے۔ ہماری حکومت نے اپنے وعدے پورے کئے ہیں، ہم لوگوں کی توقعات پر پورا اترے ہیں، بلاشبہ انسانوں کا سمندر ہمارے ساتھ اسلام آباد سے لاہور تک آیا۔ یہ یونہی نہیں آیا، وہ دیکھ رہے تھے کہ پاکستان میں ترقی عروج پر ہے۔ پاکستان میں خوشحالی آ رہی ہے اور ہماری بنیادی ضرورتیں پوری ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کا ایک سال اور تھا۔ اس ایک سال میں مزید ترقی ہوتی، بجلی وافر اور سستی ہو جاتی۔ ہمارا اگلا ایجنڈا اس سے بھی بڑھ کر تھا۔ ہم تو سماجی، معاشی، معاشرتی اور عدالتی انصاف دینے کا ارادہ کر رکھا تھا۔ آج دادا کے کیسز آج پوتا بھی بھگت رہا ہے، جائیداد بھی لگ جاتی ہے مگر فیصلے نہیں ہو پاتے۔ پاکستان بنانے کا یہ مقصد نہیں تھا۔ مساوات نہ ہو، کسی کو معاشی انصاف ملے اور کسی کو نہ ملے، میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ ہم انشاءاللہ سستا اور فوری انصاف دینگے، خواہ اس کے لئے ترامیم ہی کیوں نہ لانا پڑیں۔ یہ دھرتی 20 کروڑ عوام کی ملکیت ہے۔ چند لوگوں کی نہیں اگر چند لوگوں کے پاس زمینیں اور گھر ہیں تو پھر باقی کروڑوں لوگوں کے پاس بھی اپنے اپنے گھر ہونے چاہئیں۔ ہمارے ایجنڈے کا ایک بڑا حصہ یہ بھی تھا کہ ہم ان تمام لوگوں کو سستے داموں گھر دینگے جو گھر بنانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ہم اس پر عمل کرنے کا پورا ارادہ رکھتے ہیں۔ ہم چاہتے تھے کہ پاکستان اقتصادی اور سیاسی طور پر مضبوط ہو جائے تاکہ ہم یہ کام شروع کر سکیں۔ میری خواہش ہے کہ عدالتی انصاف کے لئے جن غریب لوگوں کے پاس پیسے نہیں ہوتے ریاست ان کی مدد کرے اور ان کی فیسوں کا بوجھ اٹھائے اور ان کے مقدموں کا فیصلہ دنوں اور ہفتوں میں ہو۔ یہ میری دیرینہ خواہش ہے جنہیں پورا کرنے کے لئے یقینا آئینی ترامیم کی ضرورت ہے اور انشاءاللہ ہم ضرور کرینگے۔ اس ایجنڈے کے آہٹم آئندہ آنے والی مسلم لیگ (ن) کی حکومت کرے گی تو ان کو سرفہرست رکھا جائے گا۔ ہم بجلی کا اپنا وعدہ پورا کر رہے ہیں۔ امن قائم کر دیا ہے۔ پھر کیا دیا ہے یا نہیں دیا۔ نوازشریف نے کہا کہ آج ملک بدل چکا ہے۔ ہمارا ملک ترقی کی جانب تیزی سے سفر کر رہا تھا۔ ابھی جو سلسلہ شروع ہوا ہے۔ اس سے پاکستان کی معیشت کو بہت بڑا دھچکا لگا ہے۔ غریب لوگوں کے روزگار پر لوٹ مار کی گئی ہے۔ یہ بہت افسوسناک بات ہے۔ مجھے نوجوانوں کی آنکھ میں چمک محسوس ہو رہی تھی وہ امید بھری نظروں سے ہماری طرف دیکھ رہے تھے۔ اگر ہماری ترقی کی رفتار میں خلل نہ آتا تو ملک بہت آگے بڑھ جاتا۔ اس خلل سے ملک بہت پیچھے چلا گیا ہے۔ اس تسلسل کو قائم رکھنا آسان بات نہیں ہو گی۔ خدانخواستہ 70 سالوں سے جاری تماشا بند نہ ہوا تو عوام کو کسی حادثے سے دوچار کرے گا اور ہم کسی حادثے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ہم آپ کے ووٹ کا تقدس لے کر آئیں گے اور آپ کے ووٹ کا احترام کروائیں گے۔ ووٹ کا احترام نہ ہونے کی وجہ سے اس ملک میں پچھلے 70 سالوں سے یہ ساری مصیبتیں جھیلی ہیں۔ اب پاکستانی قوم کے ایجنڈے کا آئٹم نمبر ون ووٹ کا تقدس ہونا چاہئے۔ ووٹ کا تقدس یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ اس کے لئے قوم کے ساتھ مل کر پوری جان لڑا¶ں گا۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain