تازہ تر ین

”رابطے“عمران خان کیخلاف کیا کرتے رہے ،دیکھئے خبر

لاہور (خصوصی رپورٹ) عائشہ احتساب کمیشن پشاور میں پیش نہیں ہوں گی۔ خاتون رکن قومی اسمبلی نے احتساب کمیشن کی جانب سے ممکنہ طور پر بلائے جانے پر اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے وکلاءسے مشاورت بھی شروع کر دی ہے جبکہ عائشہ گلائی عدالتی حکم پر اپنا موبائل ڈیٹا دینے کیلئے تیار ہیں۔ دوسری جانب تحریک انصاف میں موجود ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی میں یہ بحث چل رہی ہے کہ عائشہ گلالئی کو شاہ محمود قریشی اور اسپیکر خیبر پختونخوان اسمبلی اسد قیصر کی سپورٹ حاصل تھی۔ اس حوالے سے خصوصی انکوائری بھی کی جا رہی ہے۔ ذرائع کو دستیاب معلومات کے مطابق احتساب کمیشن پشاور میں تحریک انصاف کے کارکنوں کی جانب سے عائشہ گلالئی کے خلاف کرپشن کی درخواستیں دی گئی ہیں، لیکن ان میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے گئے۔ ان درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ عائشہ گلالئی مختلف ترقیاتی کاموں میں رشوت اور کمیشن لینے کی مرتکب ہوئی ہیں۔ ان کے خلاف تحقیقات کرکے کارروائی کی جائے۔ ذرائع کے مطابق احتساب کمیشن میں ابھی ان درخواستوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ ان پر کس حد تک کارروائی کی جاسکتی ہے جبکہ احتساب کمیشن نے درخواستیں دینے والوں کو بھی نوٹس جاری کر دیئے ہیں کہ اگر ان کے پاس اس حوالے سے کوئی ثبوت موجود ہیں تو ادارے کو فراہم کیے جائیں تاکہ کارروائی کو آگے بڑھایا جاسکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عائشہ گلالئی اس صورت حال کو مانیٹر کر رہی ہیں اوراس سلسلے میں انہوں ملک کے معروف وکلاء سے رابطے بھی قائم کیے ہیں۔ اگر احتساب کمیشن پشاور نے انہیں بلایا تو وہ وہاں پیش ہونے کے بجائے اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کریں گی، جہاں نہ صر فیہ کہ وہ اپنی بے گناہی کو ثابت کریں گی بلکہ صوبہ خیبر پختون کی اعلیٰ شخصیات کی کرپشن کے ثبوت بھی فراہم کریں گی۔ ایک سوال کے جواب میں ان ذرائع کا کہنا تھا کہ عائشہ گلالئی کے پاس صوبے کی ذمہ دار کئی شخصیات کیخلاف کرپشن کے ثبوت ہیں۔ ادھر لاہور ہائیکورٹ میں ایک شہری فاروق امجد کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ عائشہ گلالئی اور عمران خان کے موبائل فون (بلیک بیری) کا ڈیٹا منظر ام پر لایا جائے اور دالت اس حوالے سے ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل کو احکامات جاری کرے۔ اس حوالے سے عائشہ گلالئی کے قریبی ذرائع نے بتایاکہ اگر عائشہ گلالئی کو لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے طلبی کا نوٹس ملا تو وہ عدالت میں نہ صرف پیش ہوں گی، بلکہ اپنا موبائل ڈیٹا بھی دیں گی اور اس حوالے سے کوئی پس و پیش نہیں کی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ عائشہ گلائی کی جانب سے عدالت سے استدعا کی جائے گی کہ عمران خان کا بلیک بیری بھی فارنسک رپورٹ کے لیے حاصل کیا جائے اور اگر اس میں ان کے الزامات کے سچ ثابت ہو جائیں تو عمران خان کے خلاف پاکستان کے قانون کے مطابق کارروائی بھی کی جائے۔ خاتون رکن قومی اسمبلی کے قریبی ذرائع کے بقول عائشہ گلالئی ہر اس فورم سے تعاون کریں گی جو ان کے الزامات کے حوالے سے تحقیقات کرے گا۔ دوسری جانب تحریک انصاف میں موجود ذرائع نے بتایاکہ اس وقت پی ٹی آئی کے اندر شدومد سے یہ بحث چل رہی ہے کہ پارٹی کے اندر سے عائشہ گلالئی کو کس کی سپورٹ حاصل ہے یا رہی ہے ۔ ذرائع کے مطابق تحریک انصاف میں کہا جا رہا ہے کہ عائشہ گلالئی کو شاہ محمود قریشی اور سپیکر خیبر پختونخوان اسمبلی اسد قیصر کی سپورٹ حاصل تھی اور تحریک انصاف کے اندر اس حوالے سے خصوصی انکوائری بھی کی جا رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ذرائع کا کہنا تھا کہ پتہ چلایا جا رہا ہے کہ ایم این ایز کی چوتھی فہرست سے اچانک عائشہ گلالئی کا نام پہلی فہرست میں کیسے آیا؟ اور اس میں کون ملوث تھا۔ ذرائع کے مطابق عائشہ گلالئی اور شاہ محمود قریشی ایک ساتھ پیپلزپارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہوئے۔ دونوں رہنماﺅں نے 2012ءمیں پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ عائشہ گلالئی کو ابتدا ہی سے مرکزی قیادت کی حمایت حاصل رہی۔ انٹراپارٹی الیکشن میں شاہ محمود قریشی سینئر وائس چیئرمین اور عائشہ گلالئی خواتین ونگ کی نائب صدر منتخب ہوئیں۔ 2013ءمیں خواتین کی مخصوص نشستوں پر عائشہ گلالئی کو چوتھی فہرست میں رکھا گیا لیکن بعد میں ان کا نام دو اہم شخصیات کی سفارش پر چوتھی فہرست سے نکال کر پہلی فہرست میں شامل کرلیا گیا۔ عائشہ گلالی کی سفارش کرنے والوں میں وزیراعلیٰ پرویزخٹک اور سپیکر اسد قیصر شامل تھے۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain