لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) مختلف ادوار میں اہم ذمہ داریوں پر فائز رہنے والے اور موجودہ ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن سرتاج عزیز نے یوم آزادی کے حوالے سے چینل فائیو کو خصوصی انٹرویو دیا۔ چینل فائیو کے پروگرام ”نیوز ایٹ 8“ میں گفتگو کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا کہ پہلی جشن آزادی پر میں ایبٹ آباد میں تھا اسی رات گھر پر چراغاں کیا وہ زندگی کا ایک زبردست دن تھا۔ قائداعظم نے پاکستان بنانے میں کلیدی کردارادا کیا۔ میں نے اس دور میں طلبہ یونین میں فعال کردار ادا کیا۔ قائداعظم سے مختلف مواقع پر میری 3بار ملاقات ہوئی بانی پاکستانی کے ساتھ میری 6تصاویر موجود ہیں۔ وہ ایک خاص طرح کا رعب رکھنے والے انتہائی متاثرکن شخصیت کے مالک تھے تاہم طلبہ کے ساتھ بڑی بے تکلفی اور شفقت سے پیش آتے۔ ان کی تقریر نے ہی میرے کیریئر کا رخ بدل دیا اور میں نے قانون کے بجائے کامرس پڑھنے کو ترجیح دی۔ قائداعظم کی وفات پر میں دو دن تک روتا رہا۔ پاکستان بنا تو میں نے 3ماہ والٹن کیمپ میں بھی کام کیا جو کبھی نہیں بھول سکتا۔ قائداعظم پاکستان بننے کے دو سال بعد ہی انتقال کرگئے جس کے باعث آئین بنانے اور جمہوریت قائم کرنے میں مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ بنگلہ دیش بننے میں وسائل کی تقسیم یا زبان نے اتنا کردار ادا نہیں کیا جتنا مارشل لاءنے کیا۔ ایوب خان کے مارشل لا نے بنگلہ دیش بنانے میں کردار ادا کیا اگر پاکستان میں جمہوری نظام فعال ہوتا تو بنگلہ دیش کبھی نہ بنتا۔ پاکستان نے 70سال میں بہت سی کامیابیاں حاصل کی گئیں۔ ناکامی صرف سیاسی نظام کا ناکام ہونا ہے۔ جو ابھی بھی کسی حد تک جاری ہے۔ مارشل لا میں سیاسی نظام کمزور ہوجاتا ہے۔ معیشت کو کچھ بہتر نظر آتی ہے لیکن نظام کی چولیں ہل جاتی ہیں۔ 65کی جنگ میں ہماری فوج نے اپنی بہادری سے ملک کو بچایا ورنہ جنگی وسائل میں ہمارا بھارت سے کوئی مقابلہ نہ تھا۔ ہمارا مسئلہ یہ بھی ہے کہ مبصرین کی نظرمیں زیادہ تر منفی پہلوﺅں پر رہتی ہےں۔ فوج کی قربانیوں اور بہادری کے باعث سکیورٹی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔جس معیشت کا پہیہ بھی چل پڑا ہے۔ ہماری ترجیح معاشی خودمختاری ہے۔ گروتھ ریٹ بڑھے گی تو حالات بہتر ہوتے جائینگے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ ہمیں مثبت انداز فکر اپنانا ہوگا۔ اور سب سے بڑھ کر اپنے ہیروز کی قدر کرنا ہوگی۔ اپنے ہیروز کی قدر کرتی ہیں جبکہ ہمارے ہاں ہیروز کی بڑے محدود پیمانے پر پذیرائی کی جاتی ہے۔ نوے کی دہائی کی ابتدا میں ہم بھارت سے آگے تھے لیکن سیاسی عدم استحکام کے باعث بھارت ہمیں پیچھے چھوڑ گیا۔ مسئلہ کشمیر کے حل میں مودی حکومت کا بے لچک رویہ اصل مسئلہ ہے بھارت میں مسلمان پہلے سیکنڈ کلاس تھے اب تھرڈ کلاس شہری ہیں اس چیز نے بھی کشمیریوں کے جذبہ کو مزید بڑھایا ہے اور کشمیر میں آزادی کی تحریک بڑھی ہے۔ مظفر وانی کی شہادت نے تحریک آزادی کو نئی جہت دی ہے۔ حق خودارادیت کشمیریوں کا حق ہے اگر سکاٹ لینڈ اٹلی میں ریفرنڈم ہوسکتا ہے۔ تو کشمیریوں کو حق خودارادیت کیوں نہیں دیا جاسکتا۔ یوم آزادی پر نوجوانوں کو یہ پیغام دو گا کہ ہم سب صرف اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں اپنی ذمہ داریوں کی نہیں ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کریں تو پاکستان کی تقدیر بدل سکتی ہے۔





































