اسلام آباد (مانیٹر نگ ڈیسک)سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی جانب سے پاناما بنچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کیخلاف ریفرنس معمہ بن گیا ہے۔5 صفحات پر مشتمل ریفرنس کی کاپی منظر عام پر آگئی لیکن سپریم جوڈیشل کونسل کے ذرائع، اٹارنی جنرل اشتر اوصاف اور سپیکر کے دفتر نے ایسا کوئی ریفرنس دائر کیے جانے کی تردید کی ہے۔ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے ترجمان نے بھی بیان جاری کیا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی نے کسی جج کے خلاف کوئی ریفرنس دائر نہیں کیا۔ سپیکر قومی اسمبلی کے بارے میں غلط بیانی اور مبالغہ آرائی سے گریز کیا جائے۔تاہم سپیکر ایاز صادق کی جانب سے ریفرنس کی تردید نہ کیے جانے کی وجہ سے معاملہ مشتبہ اور ابہام پیدا ہوگیا ہے۔قبل ازیں یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج اور پاناما بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کیخلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت 5 صفحات پر مشتمل ریفرنس دائر کردیا ہے جس میں مو¿قف اختیار کیا گیا ہے کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پانامہ کیس کے فیصلے میں کہا کہ سپیکر نے اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کیں اور اس بنیاد پر پاناما کیس سے متعلق درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیا۔ ایاز صادق نے ریفرنس میں کہا کہ سپیکر کو وزیراعظم کا وفادار اور جانبدار قرار دینا حقائق کے منافی ہے۔اطلاعات کے مطابق ریفرنس میں یہ بھی مو¿قف اپنایا گیا ہے کہ سپیکر ایوان کے ووٹوں سے منتخب ہوتا ہے اور سپیکر کا دفتر کوئی تحقیقاتی ادارہ نہیں ہوتا جبکہ سپریم کورٹ نے دس ماہ تک پانامہ سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے بعد فیصلہ سنایا اور سپیکر کا اس حوالے سے کوئی کردار نہیں تھا۔






































