لاہور(کرائم رپورٹر) غریدہ فاروقی کا کمسن گھریلو ملازمہ پر تشدد اور حبس بے جا میں رکھنے کا ایک اور واقعہ منظر عام پر آگیا، موصوفہ نے شاہ جمال کالونی کی رہائشی 14سالہ آمنہ کو3روز تک کمرے میں بند رکھ کر بہیمانہ تشدد کانشانہ بناتی رہی،بچی سے رابطہ نہ ہونے پر والدہ غریدہ فاروقی کے گھر پہنچی تو سکیورٹی گارڈز کے ذریعے دھکے دیکر گھر سے نکال دیا، 15پر پولیس کو کال کی جنہوں نے بچی بازیاب کروائی ،تھانہ سندر میں اندراج مقدمہ کیلئے درخواست دی تو محرر رشید نے کارروائی کی بجائے غزیدہ فاروقی کو بااثر شخصیت کہہ کر درخواست واپس لینے کا مشورہ دیتے ہوئے ٹرخا دیا، حکام بالا سے درخواست ہے کہ ہمارے ساتھ ہونےوالے ظلم پر ہمیں انصاف فراہم کیا جائے۔بتایا گیا ہے کہ معروف سابق اینکر پرسن غریدہ فاروقی کی جانب سے کمسن گھریلو ملازمہ پر تشدد کا ایک کیس ختم ہوئے ابھی چند ہفتے ہی گزرے تھے کہ گزشتہ روز موصوفہ کا ایک اور کمسن گھریلو ملازمہ کو 3روز تک حبس بے جا میں رکھ کر تشدد کانشانہ بنانے کا واقعہ منظر عام پر آگیا ہے ۔ متاثرہ بچی 14سالہ آمنہ کی والدہ نسیم بی بی نے تھانہ سندر میں غریدہ فاروقی کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ میں ایک غریب فیملی سے تعلق ر کھتی ہوں جس وجہ سے میں نے اپنی بیٹی 14سالہ آمنہ ظفر کو اینکر پرسن غریدہ فاروقی کے گھر پچھلے 2ماہ سے کام پر چھوڑا ہوا تھا ۔ ایک ہفتہ قبل اس نے مجھے کال کر کے کہا کہ اپنی بیٹی کو لے جاﺅ تو میں اسی دن اپنی بیٹی آمنہ مظفر کو اپنے گھر لے گئے اور میں اس سے 2ماہ کی تنخواہ کا کہا تو اس نے کہا آپ تین چار روز بعد اپنی بچی کو چھوڑ جاﺅ اور 22تاریخ کو اپنی تنخواہ لے جانا اور ہم نے اپنی بچی کو دوبارہ نوکری پر ان کے گھر چھوڑ دیا اور 15سے لے کر 19تاریخ تک ہماری بچی سے غریدہ فاروقی رابطہ کرواتی رہی اس کے بعد 20تاریخ سے لیکر 22تک رابطہ نہ ہوسکا اور میں آج تھک ہار کرغریدہ فاروقی کے گھر پہنچی تو آمنہ ظفر کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا کہ مجھے بچی کے بارے میں کچھ نہیں پتہ ۔ اسی دوران بچی نے ہماری آواز سنتے ہی دروازہ کھٹکھٹانہ شروع کر دیا تو اتنی دیر تک غریدہ فاروقی نے اپنے گارڈ کو کہا کہ ان کو دھکے دیکر باہر نکالیں ۔متاثرہ بچی کی والدہ نے بتایا کہ 15پر پولیس کو کال کر کے بچی غریدہ فاروقی کے گھر سے بازیاب کروائی گئی جو گزشتہ 3روز سے کمرے میںبھوکی پیاسی بند رکھی گئی تھی جبکہ اس پر تشدد بھی کیا گیا تھا ۔نسیم بی بی کی جانب سے تھانہ میں اندراج مقدمہ کی درخواست دینے کے باوجود پولیس کاروائی سے گریزاں ہے ۔






































