لاہور(خصوصی نامہ نگار) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا انصاف کی بروقت فراہمی کیلئے بڑا اقدام، تاریخ میں پہلی مرتبہ پنجاب کی ماتحت عدلیہ کے ججز کیلئے ٹرانسفر پالیسی مرتب کر لی گئی۔ اس پالیسی سے سفارشی کلچر کا خاتمہ ہو گا۔ پالیسی کے تحت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کا ایک سال سے ڈیڑھ سال تک تبادلہ نہیں ہو سکے گا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج، سینئر سول جج اور سول جج کا 2 سے اڑھائی سال تک تعیناتی کے بعد تبادلہ نہیں ہو سکے گا۔ ٹرانسفر پالیسی کا اطلاق یکم ستمبر سے ہو گا اور پالیسی پر عمل درا?مد کو یقینی بنایا جائے گا۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سید منصور علی شاہ کا کہنا ہے کہ میرٹ اور اصولوں پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا۔ پنجاب میں ججز کے تبادلوں کے لیے کسی قسم کی سفارش کو قبول نہیں کریں گے۔





































