تازہ تر ین

نواز شریف صدر بن گئے بہت خوب, بہتر ہوگا اگر وہ خود کو عدالتوں سے بری کروائیں

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ نوازشریف عملا تو پہلے ہی پارٹی کے صدر تھے اب قانونی تقاضے بھی پورے کر دیئے۔ وزیراعظم اور وزراءبیرون ملک دورے سے قبل نوازشریف سے مشاورت کرتے رہے ہیں۔ سنا ہے کہ سینٹ میں خوب پیسہ چلا۔ خورشید شاہ پہلے خود تحقیق کر دیں کہ اگر ان کے 47 ووٹوں میں سے 37 رہ گئے تھے تو 10 ووٹ کہاں گئے؟ پی ٹی آئی کے 2 ووٹ نوازشریف کو ملے، ایم کیو ایم کے لوگ ٹوٹے جو عام طور پر ٹوٹا نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ بڑی حیرت و تشویش ہوئی ہے، ملکوں کے نظام اس طرح نہیں چلتے جیسے سابق وزیراعظم کہہ رہے ہیں کہ وہ بے دخل کرتے ریں گے ہم داخل ہوتے رہیں گے۔ ایسا اندازِ فکر و عمل ملک میں رائج نہیں ہوونا چاہئے کہ ہم عدالتوں کے فیصلے نہیں مانتے۔ اگر کسی معاشرے میں ایسے ہی فیصلہ ہونے لگے تو پھر جمہوریت تو دور کی بات ہے بڑی خوفناک صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ اس طرح ملک کو چلانا چاہتے ہیں کہ قانون تبدیل کر کے پھر داخل ہو جائیں گے؟ اس بنیاد پر دنیا میں کسی بھی جگہ کسی مہذب معاشرے کو نہیں چلایا جا سکتا۔ نوازشریف و حکمرانوں سے گزارش ہے کہ آپ نے نااہلی کے فیصلے کے خلاف رٹ دائر کر رکھی ہے لہٰذا آپ کو فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے۔اکثریت کی بنیاد پر عدالت کے فیصلے کو نظر انداز کرنا درست نہیں۔ اگر ملک کو آئین و قانون کے مطابق چلانا ہے تو یہ طریقہ کار ختم ہونا چاہئے۔ نوازشریف کو چاہئے کہ وہ خود کو عدالتوں سے کلیئر کرائیں۔ وزیرداخلہ کا بیان کہ ”نوازشریف سے دل کا رشتہ نہیں ٹوٹے گا“ پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں میں ایسی ہی پارٹی پالیسی ہوتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کا نظام آئیڈیل جمہوریت کے منافی ہے۔ پارٹیو ںکے اندر جمہوریت موجود نہیں۔ پارٹیوں کے آئین میں نہیں ہے کہ کوئی کارکن لیڈر پر الزام لگائے۔ اگر لگائے گا تو پھر وہ پارٹی میں نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کے قانون بارے مجھ سے بالاتر ہے کہ لفاظی تبدیل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ ابھی ہوا میں تلوار چلائی جا رہی ہے، جلد حقائق سامنے آ جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ روز ہونے والی سپیشل کورکمانڈرز کانفرنس 7 گھنٹے جاری رہی جبکہ عام طور پر یہ 2 سے 4 گھنٹے تک ہوتی ہے۔ اس حوالے سے آئی ایس پی آر کی رسمی پریس ریلیز پر اعتماد کرنا مشکل ہے، ایسے روایتی بیانات کو تسلیم نہیں کرتا۔ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ آرمی چیف نے کہا تھا کہ جو لوگ باہر بیٹھ کر پاکستان کے خلاف سازش کر رہے ہیں ان کو ٹھیک کریں گے۔ ان کا اشارہ خاص طور پر بانی متحدہ کی طرف تھا۔ آرمی چیف کا کہنا کہ اب دنیا ڈومور کرے اور وزیرخارجہ کا اس کے برعکس بیان، عدالت کے پابندی کے حکم کے باوجود نیٹ پر بانی متحدہ کی تمام تقاریر دکھانا ایک ویب سائٹ ہے جس پر 24 گھنٹے ان کے پروگرامز چلتے ہیں اور وہ چیخ چیخ کر پاک آرمی کے بارے گندی زبان استعمال کرتا ہے۔ انوشہ رحمان نے ایک بار تمام ویب سائٹس بند کر دی تھیں اب کیوں نہیں بند کی جاتی، بانی متحدہ کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیا جاتا۔ اس ویب سائٹ پر شہید لیفٹیننٹ ارسلان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اگر یہ لاہور کے ضمنی الیکشن میں ہوتا تو یہ بھی لوگوں کو منع کرتا کہ فلاں پارٹی کو ووٹ نہ دو۔ ڈان لیکس معاملے کی صورتحال، مریم نواز کے کھل کر الزامات، پیر کے روز احسن اقبال والا واقعہ، یہ سارے معاملات 7 گھنٹے جاری رہنے والی سپیشل کورکمانڈرز کانفرنس میں زیربحث نہ آئے ہوں یہ کیسے ممکن ہے؟ اس کے علاوہ مزید بہت سارے ایشوز ہیں جن پر یقینا ضرور بات ہوئی ہو گی۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain