اسلام آباد (وقا ئع نگار خصوصی ‘ مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ فوجی اور دیگر ضرورتوں کے لیے پاکستان کا امریکہ پر منحصر رہنے کا دورختم ہو گیا ہے۔انھوں نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے بعد عرب نیوز کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں کہا کہ دنیا کو دہشت گردی کے خلاف ‘عالمی جنگ’ میں پاکستان کی کوششوں تسلیم کرنا چاہیے۔انھوں نے کہا: ‘اگر ایک ذریعہ سوکھ جائے تو ہمیں چارو ناچار دوسرے ذریعے کے پاس جانا پڑے گا۔ اس میں زیادہ لاگت آ سکتی ہے۔ اس میں زیادہ وسائل لگ سکتے ہیں لیکن ہمیں یہ جنگ لڑنی ہے اور اسی باکے لیے ہم ان لوگوں پر زور دیتے ہیں جن سے ہم ملتے ہیں۔’انھوں نے مزید کہا کہ ‘ہمارے نظام پر عائد کی جانے والی کوئی پابندی یا کسی قسم کی لگام دہشت کے خلاف ہماری جنگ کو صرف کمزور کرے گی جس سے اس خطے کا توازن متاثر ہو گا۔’انھوں نے کہا: ‘ہماری فوج میں ہمارے پاس اہم امریکی اسلحہ کے نظام ہیں لیکن ہم لوگوں نے تنوع اختیار کیا ہے۔ ہمارے پاس چینی اور یورپی اسلحہ بھی ہے اور پہلی بار اس میں روسی ہیلی کاپٹرز شامل کیے گئے ہیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ چاہے جتنی مہنگی پرے، ہر حال میں یہ جنگ لڑیں گے۔ ایک سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ عام انتخابات وقت پر ہی 2018ءمیں اگست کے آغاز میں ہوں گے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں وفاق کے زیر انتظام ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل یقینی بنائیں گے اور فاٹا کے عوام کے معیار زندگی کو ملک کے دیگر حصوں کے برابر لانے کے لئے پرعزم ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کیلئے یہ ایک پیچیدہ کام تھا جس میں دہشت گردی، توانائی کی قلت اور معاشی و علاقائی عدم استحکام جیسے مقامی اور بین الاقوامی چیلنجز کا سامنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 20 کروڑ 70 لاکھ سے زائد آبادی کے حامل ملک پر حکومت کرنا آسان کام نہیں ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو دنیا کے بڑے اور جوہری ممالک میں شامل ہونے کی حیثیت سے مشکل ہمسائیگی، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور افغانستان کے تنازعہ جیسے مسائل کا سامنا ہے، ہمارے مشرقی ہمسائے کے ساتھ کئی جنگیں ہو چکی ہیں، وہ (بھارت) بھی جوہری طاقت ہے، ہمارا مقبوضہ کشمیر پر تنازعہ ہے جو ہمارا علاقہ ہے۔ آئندہ عام انتخابات کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کچھ بھی ہو جائے انتخابات وقت پر اور اوائل اگست میں ہی ہوں گے، پاکستان میں نئی حکومت ہو گی اور امید ہے کہ یہی جماعت (پاکستان مسلم لیگ (ن)) اقتدار میں آئے گی۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر اپنی مصروفیات کے حوالہ سے وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے کئی اہم رہنماﺅں بشمول 8 سربراہان مملکت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، امریکی نائب صدر اور عالمی سرمایہ کاروں کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی نائب صدر مائیک پنسن کے ساتھ تبادلہ خیال مستقبل میں سرکاری رابطوں کیلئے ضروری تھا کیونکہ جب ٹرمپ کا جنوبی ایشیاءکیلئے پالیسی بیان آیا تو اس کے متعلق بہت خدشات تھے کہ اس کا مطلب کیا ہے اور پاک۔امریکہ تعلقات کیلئے اس کی کیا اہمیت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے سمت میں نمایاں پیشرفت کی ہے، ان (امریکہ) کے جو بھی خدشات ہوں ہم نے انہیں دور کرنے کی رضامندی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر دوسرے ملک کی طرح امریکہ کے ساتھ بھی برابری کی بنیاد پر تعلقات اور شراکت داری چاہتا ہے۔ افغانستان کی صورتحال کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہم دوٹوک انداز میں کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے کسی کو کسی قسم کی پناہ گاہیں فراہم نہیں کیں، آج ہمارا مشترکہ مقصد ہے کہ دہشت گردی کو نیست و نابود کیا جائے اور افغانستان میں امن لایا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم پارٹنرز ہیں اور جس کسی سے بھی ہماری ملاقات ہوئی ہم نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں امن کا خواہاں پاکستان سے زیادہ کوئی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں پاکستان کی سرحد کے ساتھ زیادہ تر علاقہ میں طالبان کا کنٹرول ہے، آج ہم پاکستان میں جن لوگوں کے ساتھ لڑ رہے ہیں ان کی پناہ گاہیں افغانستان میں ہیں اور ان کی قیادت بھی وہیں ہے، وہیں اس کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے، ان کی تزویراتی بنیاد بھی افغانستان میں ہے اور وہ مسلسل سرحد عبور کرکے ہماری تنصیبات پر حملے کرتے ہیں، ہم اپنی سرحد پر باڑ لگا رہے ہیں، افغان رابطہ افسران کے ساتھ رابطے میں ہوتے ہیں، ہمارے ہاں افغان مہاجرین مقیم ہیں، اس لئے اگر کسی چیز کی نشاندہی ہوتی ہے اور اس کے متعلق خفیہ معلومات فراہم کی جاتی ہیں تو ہم اس پر کارروائی کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم افغانستان میں ایک ایسے حل کے ذریعے امن چاہتے ہیں جو افغان قیادت میں ہو۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت کو شامل کرنے کی امریکی خواہش نقصان دہ ہو گی، ہم نہیں سمجھتے کہ پاک۔امریکہ تعلقات میں بھارت کی شمولیت سے کچھ بالخصوص افغانستان کا معاملہ حل کرنے میں مدد ملے گی جہاں بھارت کا کوئی کردار نہیں بنتا، بھارت کے امریکہ کے ساتھ تعلقات ہیں اور یہ معاملہ ان کے درمیان ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف انتہائی سخت جنگ لڑی ہے، ہمارے 2 لاکھ فوجی تعینات ہیں، 6500 فوجی شہید ہوئے ہیں، پولیس اہلکاروں سمیت 21 ہزار شہریوں کی جانیں ضائع ہوئی ہیں جبکہ تقریباً 35 ہزار افراد شدید زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ہم سے بڑی اور اپنے وسائل سے جنگ کسی نے نہیں لڑی۔ پاکستان کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ 120 ارب ڈالر سے زائد ہے، یہ ایک انتہائی مشکل جنگ رہی ہے لیکن ہماری فوج نے بہت اچھی طرح لڑی ہے۔
امریکہ اب ایسا سوچنا چھوڑ دے, ہمارے پاس چینی ،روسی ،یورپی اسلحہ موجود, وزیراعظم کے بیان نے ہلچل مچادی

