اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) انٹیلی جنس بیورو کے جونئیر آفیسر کی طرف سے ادارے کے متعدد افسران کے ملک دشمن خفیہ اداروں کے ساتھ روابط کے الزامات کے کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کی۔ آئی بی کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر ملک مختار احمد شہزاد کی جانب سے بیرسٹر مسرور شاہ عدالت میں پیش ہوئے۔ سیکرٹری داخلہ بھی ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ڈی جی آئی بی کی جانب سے ڈائریکٹر آئی بی کی جانب سے ڈائریکٹر آئی بی طارق محمود عدالت میں پیش ہوئے۔ سیکرٹری داخلہ اور ڈی جی آئی بی نے سربمہر رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ تمام اداروں کو اپنے دائرہ اختیار میں رہنا چاہیے، یہ صحیح وقت ہے کہ ادارے اپنی سمت درست کرلیں۔ بیرسٹر مسرور علی شاہ نے عدالت کو بتایا کہ آئی بی وزارت داخلہ کے ماتحت نہیں، وزیراعظم کے ماتحت ہے، تاہم عدالت نے حکم دیتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری داخلہ اس حساس معاملے پر آئی بی سے جلد تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔ یہ کیس حساس ہے اور پاکستان کی بدنامی اور خودمختاری سے متعلق ہے۔ عدالت نے احکامات کے ساتھ کیس نمٹا دیا۔
قانون کے رکھوالے قانون شکن،آئی بی افسران بارے تہلکہ خیز خبر،تحقیقات کا حکم

