اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے کہا ہے کہ نواز شریف رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں۔ لگ رہا ہے کہ ان کا وقت ختم ہو رہا ہے۔ جو شخص رنگے ہاتھوں پکڑا جائے گا وہ تو انتشار ہی چاہے گا۔ اس لئے نواز شریف بھی لڑائی چاہتے ہیں۔ نااہل شخص کو پارٹی لیڈر بنانا جمہوری روح کے خلاف ہے اس ترمیم کےخلاف عدالت جائینگے۔ نجی ٹی وی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ نواز شریف خود کو ناگزیر سمجھتے ہیں، اب ٹکراﺅ چاہتے ہیں۔ معیشت کی تباہی چاہتے ہیں تاکہ یہ کہہ سکیں کہ مجھے نکالا گیا تو ملک کے یہ حالات ہو گئے حالانکہ یہ سارا جھوٹ ہے۔ بالکل ناامید نہیں ہوں پاکستان کوئی پبلک لمیٹڈ کمپنی نہیں ہے کہ دیوالیہ ہوجائے۔ ہمیں بھی حکومت ملی تو ملک کے معاشی حالات خراب تھے، حکومت چلانے والا ہو تو وہ چلا لے گا۔ لڑائی راولپنڈی اور اسلام آباد کی نہیں ہے لیکن نواز شریف ایسا بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں حکومت ملی تو گندم کا بحران تھا۔ تیل کی قیمت150 ڈالر بیرل سے زائد تھی جبکہ موجودہ حکومت کو 39 ڈالر میں ملتا رہا ہے۔ ہمارے دور میں دو بار سیلاب آیا، سوات آپریشن ہوا، لاکھوں آئی ڈی پیز کو دوبارہ گھروں میں بسایا، ان تمام سخت حالات کے باوجود ملک کی برآمدات میں اضافہ ہوا جبکہ اب صورتحال یہ ہے کہ صرف فیصل آباد میں ساڑھے چار سو فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں تاہم میڈیا کی مجال نہیں کہ اس پر بات کرے، صنعتکار چھوٹے میاں سے ڈر کر چپ ہیں۔ مولانا فضل الرحمن لندن میں نواز شریف کا پیغام لیکر میرے پاس آئے تو میں نے کہا کہ کون ضامن بنے گا تو مولانا نے کہا کہ میں ضامن نہیں بن سکتا۔ اب بھی کئی بار مجھ سے رابطہ کیا گیا لیکن میں نے صاف جواب دیدیا کیونکہ جب بھی نواز شریف کو مشکل سے نکالا اس نے میری ہی پیٹھ میں چھرا گھونپا۔ سیاست کوئی کاروبار یا کرکٹ کا نام نہیں ہے۔ سیاستدان جیل جانے سے کمزور نہیں ہوتا تاہم یہ دیکھنا ہے کہ شریف خاندان کس جیل میں جائے گا۔ بلوچستان یا کے پی کے یا پھر پنجاب کی جیل میں جسے ریسٹ ہاﺅس بنا دینگے۔ گریٹر پنجاب کی بات ہوا میں نہیں کرتا۔ دنیا نواز شریف اور مودی کی دوستی کو جانتی ہے۔ لیگی حکومت نے سی پیک منصوبہ کو بھی خراب کیا، صرف قرضے پہ قرضے لئے جا رہے ہیں جبکہ ہم نے تمام ممالک سے بااثر معاہدے کئے تھے۔ نواز شریف کسی صورت بھی مارچ تک حکومت چاہتے ہیں تاکہ سینٹ الیکشن میں اپنا چیئرمین لا سکے۔ ہم ان کا مقابلہ کرینگے۔ نواز شریف اب ضیاء الحق کو چھوڑ کر بھٹو کے وارث بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مشرف کے مجھ پر الزام کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ بینظیر بھٹو کیس تو پنجاب میں چلا اور پولیس افسر جس کی ضمانت ہوئی اسے 2دن قبل گریڈ20 کس نے دیا۔ جائے شہادت کو دھونے والا کون تھا جبکہ مشرف پر حملہ ہوا تو اس جگہ پر کئی دن کسی کو جانے نہ دیا گیا۔ تحریک انصاف کے حکومت بنانے کا کوئی چانس نہیں، اللہ نہ کرے کہ عمران خان پاکستان کے وزیراعظم بنیں۔ اس وقت کوئی بھی سیاسی پارٹی اکیلی حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں۔ ہم حالات کے مطابق سیاسی مفاہمت کا فیصلہ کرینگے۔

