تازہ تر ین

سرکاری کمپنیوں کے سربراہوں کا ماہانہ پیکج ،جان کر آپ بھی دنگ رہ جائینگے

لاہور (خصوصی رپورٹ) پنجاب حکومت نے لاہور ہائیکورٹ سے چیف سیکرٹری کی سرزنش کے بعد صوبہ میں سرکاری سیکٹر میں کام کرنے والی کمپنیوں کی تفصیلات جمع کرنا شروع کر دی ہیں جو کہ آخرکار عدالت میں پیش کی جائیں گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی خواہش پر قائم ان کمپنیوں کے سربراہوں کیلئے ماہانہ 25لاکھ روپے تک کا پیکیج مختص کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نے صاف پانی کمپنی میں مبینہ کرپشن کیس کی سماعت کے دوران چیف سیکرٹری زاہد سعید کی سرزنش کی کہ پنجاب حکومت صوبہ میں سرکاری سیکٹر میں کام کرنے والی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسروں اور دیگر افسروں کو دی جانے والی مالی مراعات کی تفصیل عدالت میں پیش کیوں نہیں کرتی۔ عدالت حکومت کو تین بار حکم دے چکی ہے کہ وہ ان کمپنیوں میں تعینات اہلکاروں کو دیئے جانے والے مالی پیکیجز کی تفصیلات فراہم کرے۔ عدالت نے سرزنش کے بعد چیف سیکرٹری آفس سے تمام سیکرٹریز کو ایک مراسلہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بتایا جائے کہ یہ کمپنیاں کب قائم کی گئیں‘ کس قانون کے تحت رجسٹرڈ ہوئیں ‘ان کے ذمہ کیا کام ہیں‘ کس سیکٹر میں کام کرتی ہیں‘ ان کا بجٹ کیا ہے‘ کتنے ملازمین کام کرتے ہیں اور ان کے سربراہ سرکاری افسر ہیں یا ان کو نجی شعبہ سے لیا گیا ہے‘ ان کو کیا مالی مراعات فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کی بھرتی کا طریقہ کار کیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت صوبہ کے مختلف محکموں میں 35سے زائد کمپنیاں کام کر رہی ہیں جو گزشتہ چار سال میں وزیراعلیٰ پنجاب کی خواہش پر قائم کی گئی ہیں اور ان کے سربراہوں (چیف ایگزیکٹو افسروں) کو 15سے 25لاکھ کے درمیان سیلری پیکیج دیا جا رہا ہے۔ یہ کمپنیاں صنعت‘ زراعت‘ خوراک‘ صحت‘ آبپاشی‘ مواصلات و تعمیرات‘ تعلیم‘ جنگلات اور لائیوسٹاک کے شعبوں میں کام کرتی ہیں۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ تمام صوبائی سیکرٹریز سے معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں اور چیف سیکرٹری اگلی سماعت پر عدالت میں رپورٹ پیش کریں گے۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain