تازہ تر ین

کشمیر پر بھارتی قبضہ کے 70 سال ، دنیا بھر میں یوم سیاہ

سری نگر/مظفرآباد‘لاہور‘اسلام آباد (نمائندگان خبریں) کنٹرول لائن کے دونوں جانب اوردنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کےخلاف 70واں یوم سیاہ اس عزم کی تجدیدکے ساتھ منایاہے کہ آزادی کاخواب شرمندہ تعبیر ہونے تک جدوجہدجاری وساری رکھی جائیں گی اوربھارتی مظالم کشمیریوں کے جذبے کوکمزورنہیں کرسکتے۔ تفصیلات کے مطابق کشمیرپربھارت کے غیرقانونی قبضے کے خلاف یوم سیاہ کے موقع پرحریت قیادت کی اپیل پرمقبوضہ ریاست میں مکمل ہڑتال کی گئی اس موقع پرتمام تعلیمی اورکاروباری ادارے بندجبکہ سڑکوں پرٹریفک معطل رہی ۔کٹھ پتلی انتظامیہ کی طرف سے مظاہروں کوروکنے کےلئے سخت پابندیاں لگائے جانے کے باوجود بیشترمقامات پرلوگ سڑکوں پرنکل آئے اورآزادی اوراسلام کے حق میں نعرے بازی کی۔ بعض علاقوں میں مظاہرین اورقابض فوجیوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں ۔ کٹھ پتلی انتظامیہ نے میر واعظ عمرفاروق، سید علی گیلانی، یاسین ملک سمیت پوری حریت قیادت کو گھروں میں نظر بند کردیا ہے اور انہیں نماز جمعہ میں بھی شرکت کرنے کی اجازت نہیں دی۔ مظفرآباد میں مرکزی احتجاجی مظاہرہ ڈسٹرکٹ کمپلیکس کے مقام پر کیا گیاجس کے بعد ریلی نکالی گئی جس میں بڑی تعدادمیں لوگوں نے شرکت کی ۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے تحت اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے باہر مظاہرہ کیا گیا، اس موقع پر آزادی کے متوالوں نے بھارتی تسلط کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ کراچی میں وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی سربراہی میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کےلئے حکومت سندھ کے زیر اہتمام یوم سیاہ واک نکالی گئی، جوپیپلز چورنگی سے شروع ہوکر نوائے وقت چورنگی پر ختم ہوئی۔ واک میں وزیراعلی سندھ، ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا، ارکان سندھ اسمبلی سمیت شہر یوں کی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر وزیراعلی سندھ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر پاکستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور رہے گا۔ بھارتی مظالم کشمیری عوام کے حوصلے پست نہیں کرسکتے۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی کشمیر یوں کے لئے ہر پلیٹ فورم پرآواز اٹھائی۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقارعلی بھٹونے کشمیرکا مقدمہ بھرپوراندازمیں لڑا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے بین الاقوامی سطح پرجس طرح کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کیا کوئی اور لیڈر آج تک ایسا نہیں کر سکا، 5 فروری کو یوم کشمیر کے طور پرمنانا اور شملہ معاہدہ بھٹو کے عظیم کارناموں میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی حکومت جب بھی اقتدار میںآئی کشمیر کے مسئلے کو سرفہرست رکھا لیکن موجودہ حکومت سمیت دیگر حکومتوں نے مسئلہ کشمیر اتنا اجاگر نہیں کیا جتنا کرنا چاہیے تھا۔ ہمیں متحد ہوکر پاکستان کو مستحکم کرنے کی بات کرنی چاہیے، جب تک پاکستانی قوم کا عزم مضبوط اور حوصلہ بلندہے کشمیر کو ہم سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ادھر امریکا اور برطانیہ سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری تارک وطن نے اپنی سرزمین پر بھارتی قبضے کے خلاف یوم سیاہ منا یا اس سلسلے میں ریلیاں، جلسے جلوس اور احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ واضح رہے کہ 1947 میں تقسیم برصغیر کے وقت کشمیری عوام نے مسلم اکثریتی ریاست ہونے کے باعث پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کیا تھا لیکن بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر ناجائز قبضہ کرلیا۔ 27 اکتوبر 1947 کو بھارتی فوج جموں و کشمیر میں داخل ہوگئی اور بڑے پیمانے پر کشمیری مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ پاکستانی سرحدی قبائلیوں نے بھارتی قبضے کے خلاف اعلان جنگ کردیا اور نہتے کشمیریوں کی مدد کے لیے بڑی تعداد میں ہتھیار اٹھا کر کشمیر میں داخل ہوگئے۔ بہادر قبائلیوں نے شدید جنگ کے بعد ایک وسیع علاقے سے بھارتی فوج کو مار بھگایا جو آج آزاد کشمیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ مقبوضہ کشمیرکے علاقے ترال میں بھارتی فورسز کے کیمپ اور کولگام کے علاقے دمحال ہانجی پورہ میں پولیس اسٹیشن پردسی بم کے حملوں میں سینٹرل ریزروپولیس فورس ااور پولیس کے چار اہلکار زخمی ہوگئے ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ترال قصبے میں بھارتی فوج کی سینٹرل ریزروپولیس فورس کے 180بٹالین کے کیمپ پر نامعلوم افرادنے دستی بم سے حملے کیا۔ دھماکے کی آواز پورے علاقے میں گونج اٹھی اور سی آر پی ایف کی 180بٹالین کا ایک اہلکار زخمی ہو گیا ۔ حملے کے بعدفورسز نے پورے علاقے کو سیل کر کے تلاشی کی کارروائی شروع کی ۔ ادھرکولگام کے علاقے دمحال ہانجی پورہ میں نامعلوم افراد نے پولیس اسٹیشن پر دستی بم سے حملہ کیا ۔ انہوںنے پولیس اسٹیشن پر گرینیڈ پھینکا جو تھانے کے احاطے میں زوردار دھماکے سے پھٹا۔ دھماکے میں3پولیس اہلکار اور ایک شہری زخمی ہوگئے۔دو پولیس اہلکاروں اور شہری کوڈسٹرکٹ ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ ایک اہلکار کو کولگام ہسپتال میں داخل کرایا گیاہے۔دھماکے کے فوراً بعد فورسز نے علاقے کو محاصرہ کر کے حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔

 


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain