تازہ تر ین

بڑی خوشخبری ،پیدائشی بہرے اب سن سکیں گے

کراچی (خصوصی رپورٹ) چین میں پانچ بچوں کے ایک گروپ کو ان کے ہی جسم سے حاصل کردہ خلیوں کی مدد سے تیار کیے گئے کان کامیابی کے ساتھ لگانے کا تجربہ کیا گیا ہے۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ بچے پیدائشی طور پر کان سے محروم تھے، جنہیں تھری ڈی ٹیکنالوجی کی مدد سے نئے کان لگانے کا دنیا کا پہلا تجربہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ان بچوں کی عمر 6 سے 13 سال کے درمیان ہے اور یہ سب مائیکروشیا نامی مرض میں مبتلا تھے، جس کا مطلب یہ ہے کہ پیدائشی طور پر ان کے کان صحیح طرح سے نہیں بن پائے تھے۔ مائیکروشیا بیماری یونیلیٹرل یعنی صرف ایک کان پر ہی اثرانداز ہوئی تھی تاہم ان بچوں کو نیا کان لگانےکے لیے سائنسدانوں نے ان کے صحت مند اور مکمل کان کی ہائی ریزولیوشن تصاویر بنائیں تاکہ اس کی ہوبہو نقل بنائی جا سکے۔ اس کام کے بعد، ٹِشو انجینئرز اور پلاسٹ سرجنز نے ویٹرو انجینئرنگ کا طریقہ کار استعمال کرتے ہوئے ہائی ریزولیوشن تصاویر کی نقل بنائی جس کے لیے بچوں کے اپنے ہی خلیوں یعنی اسٹیم سیل کو تھری ڈی پرنٹر کے ذریعے پرنٹ کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے کری ہڈی یعنی کارٹیلیج کے خلیے اس جگہ سے لیے گئے جہاں کان پیدا نہیں ہو سکا تھا،اس طریقہ کار کو سیل کلچرنگ کہا جاتا ہےاور پھر بعد میں کمپیوٹڈ ٹوموگرافی یعنی سی ٹی اسکین کی مدد سے صحت مند کان پیدا کیا گیا، جسے بعد میں ان بچوں پر لگا دیا گیا۔ رپورٹ میںمزید بتایا گیا ہے کہ اگرچہ اس طرح کی بایولوجیکل تکنیک بہت پرانی ہے، لیکن یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اسے انتہائی موثر انداز سے انسانوں پر استعمال کیا گیا ہے۔

 


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain