تازہ تر ین

جنوبی پنجاب کے لوگوں کو تسلی اور ن لیگ کے باقی بچنے والے ارکان اسمبلی کو ریلیف دینے کیلئے فیصلہ کیا گیا ہے

ملتان (میاں غفار‘ سجاد بخاری) انتہائی باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حکومت پاکستان رواں ہفتے میں پنجاب کو تقسیم کرتے ہوئے دو نئے یونٹوں کا اعلان کر رہی ہے۔ یہ انتظامی یونٹ ملتان اور بہاولپور ڈویژن پر مشتمل ہونگے جن کے ساتھ کچھ دوسرے علاقے بھی شامل کیے جائیں گے۔ اس سلسلے میں تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ 20 مئی سے پہلے ملتان اور بہاولپور میں محکمہ پولیس، ریونیو ڈیپارٹمنٹ، محکمہ صحت اور محکمہ تعلیم کے ایڈیشنل سیکرٹریز اور ایڈیشنل آئی جی سطح کے آفیسرز چارج سنبھال کر کام شروع کر دینگے۔ ان دونوں یونٹوں کی حیثیت فی الحال گلگت، بلتستان کی طرح ہو گی لیکن بعض معاملات میں گلگت، بلتستان کی طرح یہ مکمل خودمختار نہیں ہونگے اور ان معاملات کو آنے والی اسمبلی پر چھوڑ دیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق علی پور، احمد پور شرقیہ اور خان پور پر مشتمل تین نئے اضلاع بھی زیر غور ہیں۔ انہی ذرائع کے مطابق انتظامی یونٹ ملتان میں ڈیرہ غازی خان ڈویژن اور ملتان ڈویژن کے تمام اضلاع شامل ہونگے جبکہ لودھراں کو بہاولپور انتظامی یونٹ کے ساتھ لگایا جائے گا۔لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر صحافی وتجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ 15، 18 سال سے خبریں کہہ رہا ہے کہ جنوبی پنجاب کی بہت زیادہ محرومیاں ہیں۔ جام پور، ڈیرہ غازی خان اور رحیم یار خان کی آخری تحصیل اٹک، خان پور سے آگے صادق آباد تک لوگوں کیلئے لاہور پہنچنا بڑا مشکل ہے لہٰذا ن لیگ میں جو مشاورت جاری ہے میں اسے مشاورت کا ہی نام دونگا کیونکہ ابھی کوئی حتمی نتیجہ تو ایک دو دن میں متوقع ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ جنوبی پنجاب سے دھڑا دھڑ ن لیگ سے استعفے آنا شروع ہو گئے اور پھر جنوبی پنجاب محاذ کے نام سے یہ ایک نئی تنظیم سامنے آئی جس میں مستعفی ہونے والے ایم این اے و ایم پی اے شامل ہیں۔ سب سے پہلے خسرو بختیار نے رحیم یار خان سے اعلان کیا تھا وہ ایم این اے ہیں اور ایک زمانے میں نواز کے دوسرے دور میں وزیر مملکت بڑے خارجہ امور بھی رہے ہیں۔ گزشتہ روز بھی کچھ استعفے آئے ہیں شاید شہباز شریف نے شاہد خاقان عباسی سے بات کی ہو۔ میری معلومات کے مطابق جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے جن ارکان اسمبلی کو وزیر اعلیٰ پنجاب نے باری باری لاہور بلایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر فوری طور پر اس سلسلے میں کوئی بڑا قدم نہ اٹھایا گیا تو ن لیگ کے امیدواروں کیلئے وہاں سے ووٹ حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔ غالباً اس لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ فی الحال انتظامی یونٹ کے طور پر بہاولپور ملتان کو سپیشل سٹیٹس دے کر لوگوں کی تسلی کی جائے۔ صوبہ تو آئین میں ترمیم کے بعد بن سکتا ہے۔ ن لیگ بنانا ہی نہیںچاہتی البتہ لوگوں کو تسلی اور جو ارکان اسمبلی رہ گئے ہیں ان کو ریلیف دینے کیلئے انتظامی یونٹس بنانے کا فیصلہ ہوا ہے شاید اسی ہفتے اسکا اعلان بھی ہو جائے گا۔ اگر یہ اعلان ہو جاتا ہے تو بہاولپور ،ملتان کو انتظامی حیثیت دی جائے گی جو صرف 4 صورتوں میں دی جائے گی۔ ایڈیشنل آئی جی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، تعلیم وصحت کے سیکرٹری دونوں جگہ بیٹھیں گے تاکہ الگ صوبہ بنانے کے مطالبے کا مقابلہ کیا جا سکے۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain