سرگودھا (محمدکامران ملک سے) تین افراد کی گیارہ سالہ بچے سے زیادتی کی کوشش ¾پولیس کا مقدمہ درج کرنے سے انکار ¾متاثرہ بچے کے ورثاءکا خبریں ہیلپ لائن سے رابطہ ¾انصاف دلانے کی اپیل ۔تفصیلات کے مطابق چک نمبر 58جنوبی تحصیل و ضلع سرگودھا کی رہائشی امیراں بی بی نے خبریں ہیلپ لائن سے رابطہ کیا اور بتایا کہ چند روز پہلے ہمارے ہمسائے میں شادی کی تقریب تھی جس میں ہم بھی شریک تھے اور میرا نواسہ جس کی عمر 11سال ہے وہ بھی ہمارے ساتھ تھا رات 11بجے کے قریب رفع حاجت کیلئے کھیت میں گیا تو اسی اثناءمیں ملزمان آصف ولد شیر محمد قوم قصاب دو افرادکے ساتھ وہاں آگیا ملزمان میں سے ایک نے ہاتھ پکڑ لئے جبکہ دوسرے نے منہ پرہاتھ رکھ لیا اسی دوران ملزم آصف نے میرے نواسہ کو زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی شادی میں آئے مہمان رانا وسیم ولد شوکت، وسیم ولد انور اور ممتاز ولد رحمان آگئے جن کو آتا دیکھ کر ملزم فرار ہوگئے جس کی بابت تھانہ عطاءشہید پولیس کو ملزمان کیخلاف مقدمہ اندراج کی درخواست دی گئی لیکن تفتیشی اے ایس آئی اکرم ملزمان کا سرپر ست بن گیا ہے اور مقدمہ درج کرنے سے صاف انکار کر چکا ہے آکاش کی خالہ کو رات 10بجے تفتیشی اکرم نے فون کرکے تھانہ آنے کا کہا جب پوچھا کہ اس وقت کیا کام ہے تو اس نے جواب دیا کہ درخواست پر گفتگو کرنی ہے ۔اگر تم نہ آئی تو کارروائی نہیں کروں گا میری بیٹی نہ گئی اور آج تک ہماری درخواست پر اکرم اے ایس آئی نے کوئی کارروائی نہ کی ہے ۔امیراں بی بی نے مذید کہا کہ ہم غریب لوگ ہیں ہماری روزنامہ خبریں کے توسط سے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار، وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف، اور آئی جی پنجاب پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ ہمارا فی الفور مقدمہ درج کیا جائے اور اے ایس آئی اکرم سے بھی تفتیش کی جائے کہ وہ تھانہ میں عوام کو انصف کی فراہمی کیلئے تعینات ہے یا ں کہ دوسروں کی بہو بیٹیوں کی عزتیں تارتار کرنے کیلئے اسے لگایا گیا ہے وہ کیوں لوگوں کی بیٹیوں کو فون پر رات دس بجے تھانہ بلاتا ہے اس کا مقصد کیا ہے۔ دوسری جانب جب موقف لینے کیلئے جب اکرم اے ایس آئی سے رابطہ کیا گیا تو موصوف نے کہاکہ ان کی تفتیش ایس پی انویسٹی گیشن کر رہے ہیں جبکہ اس سوال پر کہ آپ نے دونوںپارٹیوں کا موقف سنا ہے تو وہ جواب نہ دے سکا جبکہ رات کو دس بجے اکیلی خاتون کو ان کا مقصد کیا تھا تھانے بلوانے کا اس کی ریکارڈنگ کے سوال پر اے ایس آئی منت سماجت پر اتر آیا اور یہ اقرار کیا کہ مجھ سے غلطی ہو گئی ہے ۔





































