سرگودھا (مہر نوید اختر سے /نمائندہ خبریں) تھانہ صدر پولیس نے ڈکیتوں کا مال ہضم کرنے کے بعد غریبوں کا خون چوسنا بھی شروع کر دیا ہے پولیس اہلکار سول کپڑوں میں علاقہ مکینوں کے لیے وبال جاں بن گئے گھروں پر چھاپے مار نے نام پر داخل ہو کر شہریوں کو حراساں کرکے لاکھوں بٹورنے لگے ۔ ذرائع کے مطابق کچھ عرصہ تھانہ جھال چکیاں کے سابق ایس ایچ راجہ ارشد کے ڈرائیور محمد اشرف نے کانسٹیبل سعد اللہ ، شاہد انجم ، اقبال عرف بالا رضا کار کے ساتھ مل کر ایس ایچ او کے ایما پر علاقہ کے شریف شہریوں کے گھروں میں داخل ہو کر انہیں حراساں کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا غریب لوگوں کو گھروں سے اٹھا کر تھانے میں لا کر انہیں تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ان کے اہل خانہ سے تاوان بھی طلب کیا جاتا ہے جس کے باعث یہ چار رکنی پولیس گینگ علاقہ کے لوگوں میں خوف کی علامت بنا ہوا ہے جس کی وجہ سے جھال چکیاں کے بعد تھانہ صدر کی حدود میں بھی درجنوں دکاندار اس گینگ کو بھتہ دیکر اپنی جان بچائے بیٹھے ہیں علاقہ میں منشیات کے ساتھ ساتھ دیگر غیر قانونی دھندے بھی اسی گینگ کی سرپرستی میں چل رہے ہیں اس گینگ کے خلاف ہائی کورٹ میں تحریری درخواست دی گئی ۔ ایس ایچ او راجہ ارشد تھانہ صدر سرگودھا میں تبدیل کر دیا گیا اور اس کے ڈرائیور بھی ان کے ساتھ ہی تھانہ صدر آ گیا جہاں پر چارج سنبھالتے ہیں اس گینگ نے تھانہ صدر کی حدود میں بھی یہی کام شروع کر دیا اور علاقہ کے چک94شمالی کے رہائشی محمد علی کے گھر میں بھی داخل ہو گئے اور اسے تشدد کا نشانہ بنا ڈالا جس کے بعد عدالتی حکم پر اس کا میڈیکل کرایا گیا جس میں اس پر تشدد ثابت ہو گیا لیکن تھانہ صدر پولیس کے ایس ایچ او ہونے کی وجہ سے اس گینگ کے خلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی نہ ہو سکی ۔ یاد رہے کہ ایس ایچ او تھانہ صدر راجہ ارشد کے پسندیدہ ڈرائیور اور گینگ کے اہم رکن کے خلاف تھانہ جھال چکیاں میں مقدمہ بھی درج کیا جا چکا ہے ۔ ایسی صورتحا ل میں شہری ” روزنامہ خبریں“ کے آفس پہنچا جس نے اپنی تمام روداد سنائی جس کے بعد تھانہ جھال چکیاں اور دیگر تھانوں کی حدود میں اس گینگ کے ستائے ہوﺅں سے رابطہ کیا گیا تھانہ جھال چکیاں کی حدود کے مکینوں کی طرف سے بھی اسی طرح کے الزامات سامنے آنے کے بعد روزنامہ خبریں کی ٹیم نے حق کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔





































