ملتان(میاں غفار سے) نااہل قرار پانے والے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے ایک مرتبہ پھر حساس ملکی اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے اور پھر ازلی دشمن بھارت کو پاکستان اور پاکستانی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کا بھرپور موقع فراہم کردیا ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح کے ہاتھوں افتتاح ہونے کے بعد شائع ہونے والے انگریزی اخبار روزنامہ ڈان ہی کا ہرمرتبہ کیوں انتخاب کیا جاتا ہے کہ اس کے صفحات پاکستان کی سالمیت اور قومی پالیسیوں پر اثرانداز ہوں۔ اس مرتبہ بھی نوازشریف نے پاکستانی اداروں اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بیان جاری کرنے کے لئے روزنامہ ڈان ہی کاانتخاب کیا ہے اور حالیہ انتہائی متنازعہ انٹرویوبھی روزنامہ ڈان کے نمائندہ خصوصی سرل المیڈا نے کیا مگر اس مرتبہ انٹرویو کا مقام ملتان رکھا گیا جہاں وہ خصوصی طور پر اس انٹرویو کے لئے بلائے گئے۔ اس مقصد کے لئے حکومت پاکستان کے کیبنٹ، سیکرٹریٹ کے ایوی ایشن ڈویژن اسلام آبادنے 11مئی 2018ءکو چیف سکیورٹی آفیسر برائے ملتان ایئرپورٹ سکیورٹی فورس کے علاوہ ایئرپورٹ منیجر اور ڈپٹی ٹرمینل منیجر کو خط لکھا کہ مسٹر سرل المیڈا شناختی کارڈ پر 42301-6983317-9 کو ملتان ایئرپورٹ کے ایپرن تک جانے کی رسائی دی جائے جہاں سرل المیڈا نے نوازشریف کے خصوصی جہاز تک جانا تھا۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے دور میں بھی فوج کے خلاف ہرزہ سرائی اس سرل المیڈا کے ذریعے کروائی گئی تھی۔ مگر اس کا نزلہ راﺅ تحسین اور وزیراطلاعات پرویز رشید پر گرا مگر حیران کن امر یہ ہے کہ ملتان میں نواز شریف کی سرل المیڈا کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں بھی پرویز رشید اور مریم نواز موجود تھے۔ اس انٹرویو میں جو ہفتہ کے روز ڈان اخبار کے صفحہ اول پر شائع ہوا نواز شریف نے حسب عادت یوٹرن لیتے ہوئے فوج پر چڑھائی کردی۔ انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ دہشت گرد تنظیمیں بہت سرگرم ہیں جنہیں ہم نان اسٹیٹ ایکٹرزکہتے ہیں۔ سرل المیڈا نے اس سے قبل ڈان لیکس کے حوالے سے جو خبر شائع کی اس پر راﺅ تحسین تبدیل اور پروفیسر رشید سے استعفیٰ لے لیا گیا تھا مگر کسی بھی ادارے نے ڈان گروپ سے کسی بھی قسم کی تحقیقات نہیں کیا۔ روزنامہ ڈان کے حوالے سے چند امور بہت ہی توجہ طلب ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات کے سابق سربراہ ڈاکٹر مسکین علی حجازی مرحوم کے دور میںایک ریسرچ رپورٹ کے نتائج میں یہ بات ثابت کی گئی کہ قائداعظم محمد علی جناح کی رحلت کے بعد لیاقت علی خان کو روسی حکومت کی طرف سے ملنے والی دورے کی دعوت کا مسترد کیا جانا اور بعد میں ملنے والی امریکی دعوت کو قبول کرلینے کے پیچھے بھی روزنامہ ڈان کے اداریوں کا بہت بڑا کردار تھا۔ ڈان اپنے اداریوں میں مسلسل لیاقت علی خان پر دباﺅ ڈالتا رہا کہ انہیں روس کے بجائے امریکہ سے دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہےے۔ انگریزی حکومت کی طرف سے ”سَر“ کا خطاب پانے والے سَر عبداللہ ہارون کے بیٹے محمد یوسف ہارون کوجو امریکہ میں مقیم تھے اچانک پاکستان بلا کر گورنر مغربی پاکستان لگادیا گیا تھا۔ یوسف ہارون کے امریکی اکابرین کے بہت ہی زیادہ گہرے مراسم تھے اور وہ 50اور 60کی دہائیوں میں حکومتی فیصلوں پر امریکی حوالے سے بہت زیادہ اثرانداز ہوتے رہے تھے۔امریکہ افغانستان پرحملے کا 2001ءمیں فیصلہ کرچکا تھا۔ امریکہ پر دباﺅ ڈالنے اور اسے افغانستان پر 9/11 کے بعد حملے سے روکنے کے لئے ایک طرف یورپی یونین کا اجلاس بلا لیا گیا تھا اور دوسری طرف او آئی سی بھی بہت سرگرم تھیں۔ امریکہ حملہ بھی کرنا چاہتا تھا مگرسخت دباﺅ میںتھا۔ اچانک اسلام آباد سے شائع ہونے والے ایک اردو اخبار کے ساتھ ساتھ انگریزی اخبار ڈان میں لیڈ کے طور پر خبر شائع ہوتی ہے جس کی سرخی یوں تھی We have Nuclear Bin Ladan ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں اسامہ بن لادن۔ اسی وقت بی بی سی اور وائس آف امریکہ ڈان اخبارکی لیڈ کا عکس انٹرویو کے ساتھ دنیا بھر میں پھیلا دیا جاتا ہے کہ اسامہ بن لادن کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں حالانکہ اس وقت نہ تو اسامہ بن لادن کے پاس کوئی جہاز تھا اور نہ ہی کوئی میزائل مگر اس خبر نے آگ لگا دی۔ او آئی سی کا اجلاس اپنے آغاز سے پہلے ہی ختم ہوگیا اور یورپی یونین نے خاموشی اختیار کرلی۔ ڈان اخبار ایک مرتبہ پھر استعمال ہوا جس روز خبر شائع ہوئی اس کے چند گھنٹے بعد ہی یورپی یونین کا اجلاس تھا اور اگلے دن کا انتظار نہیں ہوسکتا تھا۔ اس خبر کے بعد افغانستان اور پاکستان میں ہزاروں افراد موت کے گھاٹ اتر گئے۔ امریکی ذرائع ابلاغ سے جگہ جگہ برسائے جانے والے بموں کو کارپٹ بمبنگ کی نئی اصطلاح دی اور آج تک یہ انٹرویو ایک راز ہی رہا۔





































