تازہ تر ین

قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے باوجود مسئلہ وہیں ہے جہاں 24 گھنٹے پہلے تھا

تجزیہ: امتنان شاہد

قومی سلامتی کمیٹی کااجلاس جوگزشتہ روز صبح 9 بجے شروع ہوا اس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے کہا گیا کہ نوازشریف جو ان کی پارٹی کے لیڈر اور تاحیات رہنما ہیں اور وہ اپنی متعدد تقاریر میں یہ کہتے رہے ہیں کہ اصل وزیراعظم نوازشریف ہیں اورمیرے بھی وزیراعظم وہی ہیں۔ اجلاس میں ان پر زور دیاگیا کہ وہ نوازشریف سے جا کر وضاحت لیں کہ یہ بیان انہوں نے کس سٹیٹ آف مائنڈ میں دیا ہے۔ اس کا اصل مقصد کیا تھا اس کے اصل الفاظ جو استعمال کئے گئے اس کی وہ کیا وضاحت دیتے ہیں وہ خود اس کی وضاحت کریں یا آپ بطور چیئرمین نیشنل سکیورٹی کونسل وضاحت کریں۔ 11½ بجے کے قریب نیشنل سکیورٹی کونسل کی میٹنگ ختم ہوئی جس میں طے پایا کہ سابق وزیراعظم نے ممبئی حملوں کے حوالے سے جو بیان دیا ہے اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا اور اس کو مسترد کر دیا گیا۔ اس کے بعد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اٹھے اور پنجاب ہاﺅس گئے۔ کم و بیش آدھ گھنٹہ کی ان کی نوازشریف سے ملاقات ہوئی ہے جس میں انہوں نے بات کیاور نواز شریف سے کہا کہ آپ اس کی وضاحت کریں۔ میاں نوازشریف نے ان سے کہا کہ آپ خود وضاحت کریں۔ یہ کہہ کر وہ بونیر میں جلسے میں شرکت کے لئے چلے گئے۔ کیونکہ موسم کی خرابی کی وجہ سے ہیلی کاپٹر وہاں نہیں جا سکا لہٰذا وہ اور مریم نواز احتساب عدالت میں پیشی کے بعد سڑک کے راستے بونیر گئے۔ اس وقت سب سے بڑا سوالیہ نشان یہ ہے کہ نیشنل سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں شاہد خاقان عباسی صاحب نے کہا کہ میں ان سے جا کر کہتا ہوںکہ وہ وضاحت کریں ابھی تھوڑی دیر گزری تھی کہ تمام ٹی وی چینلز پر یہ چلنا شروع ہو گیا،حکومت پاکستان کی طرف سے باقاعدہ اس کا ہینڈ آﺅٹ جاری کیا گیا کہ وزیراعظم ڈیڑھ بجے کے قریب پریس کانفرنس کے ذریعے اس کی وضاحت کریں گے جب یہ پریس کانفرنس شروع ہو گئی تو سرکاری ٹی وی نے جو کہ پاکستان ٹیلی ویژن ہے، یہ پریس کانفرنس آن ایئر نہیںکی۔ وہاں پر تمام الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے جو رپورٹرز گئے تھے ان کو یہ کہا جاتا رہا کہ آپ پاکستان ٹیلی ویژن سے لے لیں جبکہ وہ نہ آن ایئر کی گئی، نہ دکھایا گیا نہ ان کو رپورٹ کرنے دیا گیا حتیٰ کہ کچھ دوست جو اندر وزیراعظم ہاﺅس میں موجود تھے وہ بار بار فون پر بیپر دے کر اورکچھ Tikers کی صورت میں اور پرنٹ میٹر کی صورت میں جو خبریں ان کے پاس تھیں وہ بھیجتے رہے اور تاحال (رات 8½ بجے تک) پریس کانفرنس کی سوائے دو تین فوٹجز کے کچھ آن ایئر نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی کے پاس ڈاکومنٹری ثبوت کے طور پر موجود ہے کہ اصل میں وزیراعظم نے کیا وضاحت دی اور کیا کہا گیا جو بھی انہوں نے گفتگو کی ہے وہ پرنٹڈ فارم میں ہے۔ وزیراعظم ہاﺅس میں پریس کانفرنس میں شامل بہت سے صحافیوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے اور یہ Tikerبھی چلے۔
صبح جب قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا تو وزیراعظم سے کہا گیا کہ وہ وضاحت کریں۔ غالباً ان پر دباﺅ بہت تھا اعلیٰ سطح کا پریشر تھا عسکری قیادت کی طرف سے تھا کیونکہ وہاں پر عسکری قیادت موجود تھی انہوں نے کہا کہ میری اگر ایکس پلے نیشن لینی ہے تو میں استعفیٰ پیش کر سکتا ہوں۔ اس پر انہیں کہا گیا کہ ہمیں آپ کے استعفے سے نہیں آپ کی وضاحت سے دلچسپی ہے جو اس بیان سے مناسبت رکھتی ہو اور اصل وضاحت نوازشریف صاحب کی طرف سے دی جا سکتی ہے آپ ان کو پیغام دیں وہ اس بارے میں واضح کریں کہ اصل میں ان کے کہنے کا مطلب کیا تھا اور اس بیان کی تردید کی جانی چاہئے۔ جس پر انہوں نے کہا کہ میں ان سے بات ضرور کروں گا لیکن اس مسئلے کا حل میرے استعفے سے ہوتا ہے تو میں تیار ہوں۔
جہاں تک یہ سوال ہے کہ یہ آن ایئر کیوں نہیں کی گئی۔ دیکھئے اگر کوئی بھی چیز ٹی وی اور سکرین پر آ جائے اور لائیو چل جائے تو وہ ایک قسم کا ڈاکومنٹری پروف ہوتا ہے اس وقت پاکستان کے کسی ٹی وی چینل پر وزیراعظم کی پریس کانفرنس چلی نہ اس کا کوئی ثبوت موجود ہے۔ نہ اس کا کوئی ڈاکومنٹری ثبوت بھی نہیں ہے کہ اصل میں انہوں نے وہاں کیا کہا۔ یہ پرنٹڈ فارم میں آئے گاشاید میڈیا کے پاس فی الحال کچھ نہیں۔ بڑی خوبصورتی کے ساتھ ایک تردید اور پریس ریلیز جاری ہو گئی جس میں اس بیان کی تردید کی اوراس کو مستردکیا گیا جس کے ذمے لگا کہ وہ وضاحت کریں وہ سابق وزیراعظم خود بونیر چلے گئے۔ اور ان کی جگہ شاہد خاقان عباسی کو پوری بات واضح کرنا پڑی ۔ انہوں نے وہی بات کی جو کل شہباز شریف نے کی تھی جو نوازشریف صاحب نے آج جلسے میں کی لہٰذا بات جوں کی توں ہے یہ مسئلہ حل نہیں ہوا۔ یہ مسئلہ ویسے کا ویسا ہی کھڑا ہے جیسا آج سے 24 گھنٹے پہلے کھڑا تھا۔اندرونی کہانی یہ ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کی طرف سے حکومت پر اور خاص طور پر وزیراعظم پر کافی زور ڈالا گیا کہ میاں نوازشریف کو یہ کہا جائے کہ وہ اپنے اس بیان کی وضاحت کریں۔ اس کے بعد سابق وزیراعظم کا بیان دیا گیا تھا اس پر کہا گیا کہ نیشنل سکیورٹی کونسل بھرپور طریقے سے اسے مسترد کرتی ہے اور ان کے الزامات کو رد کرتی ہے اس کے بعد شاہد خاقان عباسی پنجاب ہاﺅس میں میاں نوازشریف سے ملنے گئے 11½ سے 12 بجے تک آدھ گھنٹے کی ملاقات میں یہ طے پایا کہ شاہد خاقان عباسی اب سے 20\15 منٹ بعد ان کے بیان کی وضاحت کریں گے۔ قومی سلامتی کے اجلاس میں بڑے پرزور طریقے سے وزیراعظم کو کہا گیا کہ وہ سابق وزیراعظم کوآگاہ کردیں کہ وہ خودوضاحت کریں۔ ہماری معلومات کے مطابق جب پنجاب ہاﺅس میں شاہد خاقان عباسی نے پیغام پہنچایا تو جواب میں نوازشریف نے شاہد خاقان عباسی کو کہا کہ وہ خود وضاحت کریں۔ کیونکہ اس بیان کے بعد مسلم لیگ کا اپنا ووٹر عام پاکستانی شدید غصے کی حالت میں ہے کیونکہ مسلم لیگ پاکستان کی دائیں بازو کی جماعت ہے اور نظریہ پاکستان اور پاکستان کی سالمیت کے بارے اس حد تک سوچتے ہیں کہ پاکستان کی نظریاتی سرحدیں کہاں تک ہونی چاہئیں یہ ووٹرز نوازشریف کے بیان سے کافی نالاں ہیں۔

 


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain