لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ سیاستدان بڑے ذہین ہوتے ہیں آج محسوس ہوا کہ سیاستدان بازی لے گئے۔ قومی سلامتی کونسل اجلاس میں تو وزیراعظم شاہد خاقان خاموش بیٹھے رہے، پوری کونسل نے نواز کے بیان کو مسترد کیا۔ وزیراعظم وہاں سے اٹھ کر پنجاب ہاﺅس پہنچے۔ نوازشریف سے ملاقات کی اور بیان داغ دیا کہ نوازشریف میرے لیڈر ہیں ان کا بیان توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ اگر شاہد خاقان سمجھتے ہیں کہ نوازشریف نے جو کہا درست کہا تو پھر قومی سلامتی کونسل میں اس بیان کو مسترد کیوں کرایا۔ نوازشریف کے بیان سے بڑا نقصان ہوا ہے۔ 2 دن سے تمام بھارتی چینلز یہی واویلا کر رہے ہیں کہ پاکستان کے سیاسی رہنماﺅں نے اعتراف کر لیا ہے کہ ممبئی حملے کے لئے لوگ پاکستان سے گئے، 3 بار وزیراعظم رہنے والے نوازشریف نے اس حقیقت کو کھول دیا ہے کہ قتل عام کس نے کرایا، بھارتی انگریزی چینلز کہتے رہے کہ پاکستان نے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔ قومی سلامتی کونسل اجلاس میں آرمی افسروں کی باڈی لینگویج بتا رہی تھی کہ وہ اس معاملے میں سنجیدہ ہیں۔ یہ سیاستدانوں کی چالاکی اور ذہانت ہے کہ وہاں تو فوجی افسروںکو خوش کر کے بھیج دیا اور بعد میں کہہ دیا کہ نواز شریف نے ایسی کوئی بات نہیں کی۔ اگر ایسی ہی بات تھی تو اجلاس میں خاموشی کیوں اختیار کی گئی۔ شہباز شریف نے بھی بڑے بھائی کو بچانے کی کوشش کی اور کہا کہ یقین نہیں آتا نوازشریف ایسی بات کر سکتے ہیں موجودہ صورتحال میں این آر او بارے کوئی بات یقین سے کہنا بہت مشکل ہے۔ مشرف دور میں صورتحال مختلف تھی۔ اب یہ بھی سننے میں آ رہا ہے کہ صدر ممنون حسین کے تو ابھی کئی ماہ باقی ہیں اگر نوازشریف کو سزا ہوتی ہے تو صدر مملکت آئینی طور پر اسے معاف کر سکتے ہیں۔ شریف خاندان اور ان کے ساتھی اسسی لئے مطمئن نظر آتے ہیں، سب کو امید ہے کہ صدر سے معافی کا کام لیا جا سکتا ہے۔ وزارت قانون اگر سمری بنا کر صدر کو بھجواتی ہے تو آئین کے تحت صدر کو معافی دینے کا اختیار حاصل ہے اس میں رکاوٹ صرف اپوزیشن کی مخالفت ہو گی تمام اپوزیشن رہنماﺅں کا کہنا ہے کہ صدر نے نوازشریف کو معافی دی تو پورے ملک میں سخت احتجاج کریں گے اور حکومت کو نہیں چلنے دیں گے صدر ممنون حسین کو اس افادہ کے لئے ایوان صدر میں بٹھا رکھا ہے کہ اگر ضرورت پڑے تو ان سے معافی لی جا سکے۔ دوسری جانب یہ خبریں بھی ہیں کہ سعودی عرب، اسرائیل اور امریکہ کا سفارتخانہ نوازشریف کے حوالے سے بڑا فعال ہے۔ نوازشریف جب بھی لندن جاتے ہیں تو ان کے سفارتکاروں سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ یہ خبریں بھی ہیں کہ نوازشریف 2 بڑے دھماکے کرنے والے ہیں۔ سینئر تجزیہ کار شمع جونیجو نے لندن سے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انگلینڈ اور امریکہ میں کوئی حکومتی عہدیدار قومی سلامتی کے بارے میں 35 سال تک کوئی بات نہیں کر سکتا۔ نوازشریف نے بڑی ہوشیاری سے چال چلی ہے، میرا اندازہ تھا وہ اسامہ بن لادن بارے بیان دیں گے کیونکہ جون میں ایس اے ٹی ایف جس کے ہم گرے ایریا میں ہیں۔ پاکستان پر پابندی بھی لگ سکتی ہے۔ امریکہ سے تعلقات بدترین سطح پر ہیں۔ خدشہ ہے کہ 6 ہفتے بعد پاکستان پر پابندیاں لگ سکتی ہیں جو بری صورتحال ہو گی۔ گلوبل سٹیٹ انڈکس میں بھی پاکستان بدترین ممالک کی فہرست میں ہے اس حوالے سے اپنے اعلیٰ حکام سے کئی بار بات کی لیکن معمول کے مطابق ان کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ نوازشریف نے ہوشیاری دکھائی اور اجمل قصاب بارے بات کی جس وقت وہ وزیراعظم نہ تھے۔ ممبئی حملہ ہوا تو پیپلزپارٹی کا دور تھا حکومت نے مشترکہ تحقیقات کی بھی بات کی۔ ڈی جی آئی ایس آئی کو بھارت میں تحقیقات کا سامنے کرنے کیلئے بھیجنے کی بات کی گئی جس پر میڈیا میں بڑی لے دے ہوئی تھی، پی پی حکومت نے اس وقت مدافعانہ پالیسی اختیار کی اور کوئی یہ نہیں کہہ رہا تھا کہ ممبئی حملہ سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ بات عالمی سطح پر نوٹ کی گئی تھی۔ نوازشریف کارگل پر بیان دے سکتے تھے جب وہ وزیراعظم تھے تاہم انہوں نے اس وقت کی بات کی جب وہ وزیراعظم نہیں تھے۔ اب مشرف کا بیان سامنے آیا ہے کہ نوازشریف نے ان سے کہا کہ سری نگر پر پرچم لہتانا ہے۔ اگر اس وقت کارگل کے حوالے سے بیان آ جائے تو زیادہ خطرناک ہوتا کیونکہ نوازشریف اس وقت وزیراعظم تھے۔ نوازشریف کی نفسیاتی صورتحال کو سمجھنا ہو گا وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں سیاسی عمل سے آﺅٹ کر دیا گیا ممکن ہے جیل بھی چلے جائیں اس لئے وہ سوچتے ہیں کہ ”مرنا ہی ہے تو مار کر مروں“ نوازشریف خلائی مخلوق سے نان سٹیٹ ایکٹرز پر آ گئے ہیں ممکن ہے اگلے بیان میں نان سٹیٹ ایکٹرز کے نام بھی لیں۔ ساری صورتحال میں اصل ڈر یہ ہے کہ پاکستان کو دہشت گرد ریاست ڈکلیئر کر دیا گیا تو ایسی سخت مشکلات کا سامنا ہو گا جن کا تصور بھی محال ہے۔ ریذیڈنٹ ایڈیٹر ملتان میاں غفار نے کہا کہ ڈان کا صحافی سرل المیڈا ملتان میںرمادا ہوٹل میں ٹھہرا جہاں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کے نام پر سرل کے لئے کمرہ بک کرایا گیا تھا۔ نوازشریف سے سرل کی ملاقات گورنر پنجاب کے عزیز امامی صاحب کے گھر پر ہوئی اور انٹرویو ہوا۔ یہ سارا معاملہ وہی این آر او ہے جو دس سال سے چل رہا ہے۔لندن سے نمائندہ خبریں امداد حسین نے کہا کہ نوازشریف نے لندن کے دورے کے دوران مختلف سفارتکاروں سے ملاقاتیں کیں، ایک ملاقات بھی بھارتی ہائی کمیشن کی رہائش گاہ پر ہوئی جس میں اسرائیلی سفارتخانے کے دو اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی۔ ان ملاقاتوں کے فوری بعد موجودہ صورتحال کا سامنے آنا یقین دلا رہا ہے کہ معاملات کسی اور جانب بڑھ رہے ہیں۔ سعودیہ، امریکہ اور اسرائیل کا سفارتخانہ اس معاملے میں خاصے متحرک نظر آتے ہیں۔





































