لاہور (کرائم رپورٹر)حج و عمرہ کے نام پر شہریوں کے ساتھ فراڈ کرنےوالی ٹریول ایجنسیوں اور ایجنٹس بارے سنسنی خیز انکشاف ،چیمبر آف کامرس میں رجسٹرڈ بڑی بڑی ٹریول ایجنسیوں کے مالکان کی ایماءپرچھوٹے موٹے ایجنٹس اور ٹریول ایجنسیاں کام کررہی ہیں ،بڑی چیمبر آف کامرس میں رجسٹرڈ بڑی ٹریول ایجنسیز میں سے متعدد نے لائسنس میں درج تعداد سے زیادہ شہریوں سے پیسے بٹورنے کیلئے ان چھوٹے موٹے ایجنٹس اور ایجنسیز کو شیلٹر دیا ہوا ہے ،ایف آئی اے کی جانب سے کی جانے والی کسی بھی کاروائی کے نتیجہ میں ان بڑے مگر مچھوں کے پس پردہ رہ کر ملزمان کی قانونی مدد کرنے اور ان کو رہائی دلوانے کا انکشاف ،شہری کسی بھی فراڈ وغیرہ کی صورت میں فوری طور پر ایف آئی اے سے رابطہ کریں،ایف آئی اے حکام کی شہریوں سے اپیل ۔ذرائع کے مطابق چھوٹے چھوٹے ٹریول ایجنٹس بھی بڑے مگر مچھوں کے ہی رحم و کرم پر ہوتے ہیں اورچیمبر آف کامرس میں رجسٹرڈ بڑی ٹریول ایجنسیوں میں سے متعدد ان کی سرپرستی کررہی ہیں ۔چونکہ کسی بھی بااعتماد سمجھی جانے والی ٹریول ایجنسی کے پاس جب لائسنس کے مطابق حج یا عمرہ پر بھجوائے جانے والے زائرین کی تعداد مکمل ہوجاتی ہے تو وہ اپنے پاس آنے والے دیگر شہریوں کو اپنے ہی دفاتر کے باہر موجود ایجنٹس وغیرہ کے ذریعے اپنے ہی زیر سایہ کام کر نے والی ان چھوٹی چھوٹی ایجنسیوں اور ایجنٹس (فراڈیوں)کے حوالے کردیتے ہیں جو ان کے ساتھ فراڈ کر کے ان کی رقوم ہتھیا لیتے ہیں اور پھر ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے کئی کئی ماہ تک ان کو خوار کر تے رہتے ہیں اور باآخر جب متاثرین کی جانب سے ایف آئی اے کا دروازہ کھٹکھٹایا جاتا ہے تو اس وقت تک ایک تو کیس کافی پرانا ہوچکا ہوتا ہے اُوپر سے ایف آئی اے کی جانب سے کاروائی میں گرفتار کیئے جانے والے ملزمان کو بھی پس پردہ رہ کر یہی بڑی ٹریول ایجنسیز ہی قانونی تحفظ وغیرہ فراہم کررہی ہوتی ہیں اور ان کو رہائی دلوانے تک ان کا ساتھی دیتی ہیں تاکہ وہ دوبارہ باہر آکر شہریوں کے ساتھ لوٹ مار کرسکیں ۔اس حوالے سے ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن ایف آئی اے پنجاب خواجہ حماد نے “روز نامہ خبریں “سے بات کرتے ہوئے کہا کہ روز نامہ خبریں نے زائرین کے ساتھ فراڈ کرنے والے ملزمان کی نشاندہی کا ایک بہت اچھا سلسلہ شروع کیا ہے جو کہ ایک نیکی بھی ہے جبکہ خبریں میں شائع ہونے والی خبر میں جن ٹریول ایجنسیوں کی نشاندہی کی گئی ہے ان کا ریکارڈ بھی دیکھا جارہا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ حج عمرہ پیکج اور سہولیات سے ہمارا کوئی واسطہ نہیں ہاں اگر کوئی بھی ٹریول ایجنسی کسی شہری کے ساتھ فراڈ کرتی یا اسکی رقم ہڑپ کر نے کی کوشش کرتی ہے تو شہریوں کو چائیے کہ وہ فوری طور پر ایف آئی اے سے رابطہ کریں کیونکہ فوری قانونی کاروائی اور کئی ماہ بعد کی جانے والی کاروائی میں کیس کافی کمزور ہوجانے کی وجہ سے ملزمان جلد قانون کی گرفت سے آزاد ہوجاتے ہیں ۔






































