لاہور (نادر چوہدری سے) ایس پی ڈسپلن کو پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں بھرتی سیکشن میں تعینات ہیڈکانسٹیبل کے خلاف خواتین کو نوکری دلوانے کی مد میں پیسے بٹورنے اور ہراساں کرنے کی درخواست دائر، درخواست گمنام خاتون کی جانب سے دائر کی گئی، بھرتی کیلئے فی کس 5 سے 10 ہزار وصول کرنے سمیت جسمانی ٹیسٹ میں کامیابی کیلئے جنسی ہراساں کیا جاتا ہے، ناجائز تعلقات استوار کرکے دھندہ کروایا جاتا ہے، بھرتی کی مد میں مبینہ رشوت کا سلسلہ نیچے سے اُوپر ایس پی ہیڈکوارٹر تک جاتا ہے، درخواست کا متن، درخواست میں نامزد اہلکاروں کی جانب سے الزامات کی تردید۔ ذرائع کے مطابق رواں سال 09 فروری 2018 کو ڈی آئی جی آپریشنز، ایس پی ہیڈکوارٹر اور ایس پی ڈسپلن کے نام لکھی جانے والی ایک درخواست میں گمنام خاتون کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ میں ایک خاندانی لڑکی ہوں اور میں نے محکمہ پولیس میں بھرتی کیلئے پولیس لائنز میں بفارم جمع کروائے تھے لیکن پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں تعینات ہیڈ کانسٹیبل محمد سلیم اختر جو کہ عرصہ دراز سے بھرتی سیکشن میں تعینات ہے اور بھرتی کیلئے آنےوالی لڑکیوں کے موبائل نمبر حاصل کرکے ان سے رابطہ کرتا اور ان سے سلیکشن کی مد میں 5 سے 10 ہزار روپے رشوت وصول کرتا ہے جس کے متعلق اسکا کہنا ہے کہ یہ پیسے میرے لئے نہیں بلکہ یہ نائب کلرک اے ایس آئی محمد علی سے ہوتے ہوئے ایس پی ہیڈکوارٹر تک پہنچتے ہیں جبکہ لڑکیوں کو جسمانی ٹیسٹ میں پاس کروانے کا بول کر جنسی ہراساں کرتا اور ناجائز تعلقات قائم کرنے پر مجبور کرتا ہے جس کے بعد اس کے جال میں پھنس جانے والی لڑکیوں سے باقاعدہ غلط کاری بھی کرواتا ہے جس سے حصول رزق کیلئے آنیوالی بہت ساری لڑکیوں کی زندگیاں تباہ ہوچکی ہیں۔ درخواست میں مزید لکھا گیا ہے کہ اگر حوالدار محمد سلیم اختر کا موبائل ڈیٹا چیک کیا جائے تو اس میں سے بے تحاشہ لڑکیوں کے نمبر ملیں گے اور اگر کالز، میسجز اور واٹس ایپ وغیرہ چیک کیئے جائےں تو حقائق منظر عام پر آجائیں گے۔ درخواست کے آخر میں گمنام درخواست گزار کی جانب سے ڈی آئی جی آپریشنز اور ایس پی ہیڈکوارٹر سے التجاءکی گئی ہے کہ اگر آپ کے گھر میں بھی بچیاں ہیں تو خدارا میری گزارش ہے کہ سلیم حوالدار جیسے گندے انسان اور محکمہ کیلئے بدنماءداغ کو فوری طور پر محکمہ سے فارغ کر کے مزید لڑکیوں کی عزتیں بچائی جائیں اور اس کو قرار واقعی سزا دے کر عبرت کا نشان بنایا جائے۔ درخواست سی سی پی او آفس میں جمع کروائی گئی جہاں سی سی پی آفس کے عملے نے اس پر ڈائری نمبر667 13 لگا کر درخواست وصول کرلی جس پر افسران بالا نے جب ہیڈکانسٹیبل محمد سلیم اختر کو بلوا کر دریافت کیا تو اس نے اپنے بیان میں افسران بالا کو بتایا ہے کہ میرے خلاف دی گئی گمنام درخواست سراسر جھوٹ اور بہتان پر مبنی ہے کیونکہ میں عارضی طور پر بھرتی ڈیوٹی پر معمور ہوں اور دیگر ملازمین کے ہمراہ اجتماعی ڈیوٹی سرانجام دیتا ہوں۔ محمد سلیم اختر کا مزید کہنا تھا کہ میں نے ہمیشہ محکمانہ روابط کے علاوہ کبھی کوئی ذاتی رشتہ قائم نہیں کیا اور نہ ہی کسی کو لالچ دیکر یا رقم لے کر بھرتی کرنے کا جھانسہ دیا ہے۔ محمد سلیم اختر کا مزید کہنا تھا کہ محکمہ کے کسی ملازم نے مجھے بدنام اور نوکری سے فارغ کروانے کی غرض سے لڑکی کے نام سے گمنام درخواست دی ہے لہذا اسے داخل دفتر کیا جائے جبکہ درخواست میں نامزد دوسرے کردار پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں بطور نائب بھرتی کلرک خدمات سرانجام دینے والے محمد علی اے ایس آئی نے بھی اسی طرح کے بیانات دیتے ہوئے کہا کہ محمد سلیم اختر میرے ساتھ ڈیوٹی سرانجام دے رہا ہے اور نہایت ایماندار اور قابل اعتماد پولیس افسر ہے اس کے خلاف لگائے گئے الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں لہذا درخواست کو داخل دفتر کیا جائے۔





































