لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کالم نگار افضال ریحان نے کہا ہے کہ سیاست کا موسم بہار آ گیا ہے‘ لیکن شائستگی اور تہذیب کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے۔ چینل ۵ کے پروگرام کالم نگار میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب تگڑے جلسے ہوں گے اور تمام پارٹیاں اپنا زور لگائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم نے بے حد شائستہ سیاست کی‘ کسی کی ذاتیات پر حملے نہیں کیے۔ معیشت کمزور ہو تو مہنگائی کا طوفان آتا ہے۔ میرے خیال میں نوازشریف کو ہر صورت واپس آنا چاہئے چاہے انہیں اڈیالہ جیل ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ کالم نگار میاں سیف الرحمان نے کہا کہ جلسہ بھی ایک سائنس ہے۔ اس سے عوام میں تحریک پیدا ہوتی ہے۔ جلد جماعتوں کے منشور آنا شروع ہو جائیں گے۔ لیڈر رہنما ہوتا ہے اسے اپنی زبان میں نرمی پیدا کرنی چاہئے۔ اب ہمیں الزام تراشی کی سیاست سے باہر آنا ہوگا اور جو بھی ہارے اس کو اپنی شکست تسلیم کرنی چاہئے۔ نوازشریف اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیان دے کر فخر محسوس کرتے ہیں۔کالم نگار اشرف سہیل نے کہا کہ انتخابی مہم چلانے کا حق تمام جماعتوں کو ہے‘ لیکن اخلاقی حدود سے باہر نہیں جانا چاہئے جس سے اشتعال پیدا ہو۔ لیڈرز کو ذمہ داریوں کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ اصل بات ویژن کی ہے جس کی لیڈر کو ضرورت ہوتی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے بارے میں سوچنا ہو گا اس میں کیوں اضافہ ہوا حکمرانوں نے بیرونی قرضے سے نجات کی پالیسی نہیں بنائی۔ ہر آنے والی حکومت کہتی ہے گزشتہ حکومت نے خزانہ خالی کر دیا۔ نوازشریف کے آنے سے جلسوں میں جوش بڑھے گا۔ آنے والے دنوں میں کچھ اور لوگوں کو بھی جلسے کے دوران پتھراﺅ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سینئر صحافی امجد اقبال نے کہا کہ جو سیاست ہو رہی ہے وہ محض الزامات کی سیاست ہے۔ دوسروں کا بدنما چہرہ پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جس جماعت نے اپنا منشور دیا عوام کو اس کی سابقہ کارکردگی دیکھ کر فیصلہ کرنا چاہئے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی بڑھیں۔ ہو سکتا ہے واپس آنے کے بعد نوازشریف کے بیانیے میں نرمی آ جائے۔





































