ملتان(سجادبخاری سے) باوثوق ذرائع نے بتایاہے کہ پنجاب میں تحریک انصاف کی ممکنہ حکومت بننے پر شریف برادران کی چہیتی بیوروکریسی پر لرزاطاری ہے۔ بعض ملک سے بھاگنے کی تیاریاں کرنے لگے۔ معلوم ہواہے کہ شریف برادران نے گزشتہ تین دہائیوں سے بیوروکریسی کوتین گروپوں میں تقسیم کیاہواتھا۔ جنہیںگرین گروپ ،اورینج گروپ اور ریڈگروپ کانام دیاگیاتھا۔ گرین گروپ میں شامل بیوروکریسی کو فیملی ممبر ہونے کااعزاز حاصل تھا۔ اورینج گروپ میں شا مل بیوروکریسی کومشکوک سمجھا جاتاتھاجبکہ ریڈگروپ میں شامل بیوروکریٹس کوشریف برادران اپنادشمن سمجھتے اور انکوہمیشہ کھڈے لائن لگاتے تھے۔گرین گروپ کے احدچیمہ اور فوادحسن فوادگرفتارجبکہ دیگرپریشان افسروں راشدلنگڑیال ،ڈاکٹرتوقیرشاہ، علی جان(سیکرٹری صحت)، ڈاکٹر وسیم اجمل( صاف پانی)،کیپٹن (ر) عثمان (سابق ڈی سی لاہور)،امین وینس سی بی پی او)، ڈاکٹرحیدر اشرف(آپریشنSP) شامل ہیں۔مشتاق سکھیرا سابق آئی جی پنجاب نے قبضے کرانے میں اہم کرار ادا کیا۔رانامقبول سابق آئی جی پولیس پنجاب بھی شریف برادران کی آنکھوں کاتارا رہے۔ انہوں نے احدچیمہ کی گرفتاری پر بیوروکریسی کوہڑتال پراکسایاتھا ۔ خدمت گزار افسروں میں محموداحمد( سیکرٹری لائیوسٹاک) امداداللہ بوسال (پرنسپل سیکرٹری) ،محی الدین وانی(سیکرٹری اطلاعات)، عمرسیف( صاف پانی پراجیکٹ)، کیپٹن(ر) اسداللہ خان(کمشنر پنڈی بہاولپورملتان ومحکمہ نہرسیکرٹری میٹروپراجیکٹ پنڈی/ملتان)، کیپٹن (ر)زاہدسعید (میٹروپنڈی لاہور) عرفان الٰہی(سیکرٹری محکمہ انہار)، زاہد سلیم گوندل( سی ایم آفس)، نادرچٹھہ( ڈی سی ملتان)، ساجد ڈل،راناکریم (پی ایس اوسی ایم)، نجم شاہ( سیکرٹری صحت)، طاہرخورشید( سابق ڈی سی مظفرگڑھ)، مومن آغا( سابق کمشنر سرگودھا)، عمریوسف (پنجاب انفارمیشن بورڈ) بھی شامل رہے۔ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے 25جولائی کوپریذائیڈنگ آفیسرز کے سمارٹ فون سسٹم سے چھیڑچھاڑ کی جس سے الیکشن کمشن پر دھاندلی الزام لگناشروع ہوگیاتھا۔ مندرجہ بالا تمام آفیسر نگران حکومت کے آنے پر تبدیل کردیئے گئے تھے اور ان میں کچھ ریٹائرڈ بھی تھے مگر وہ بھی بطور مشیرکام کررہے تھے۔مندرجہ بالا افسران کماو¿ پوت کے طور پر پہچانے جانے تھے۔ ان میں پولیس گروپ کے آفیسرز قبضہ کرانے میں اپنی مثال آپ تھے۔ سابق آئی جی مشتاق سکھیرا کے اپنے بھی کئی محلات اورپلاٹ ہیں۔ جبکہ ڈی ایم جی گروپ کے ڈی سی سے لیکر سیکرٹریوں تک اکثر افسر ترقیاتی پراجیکٹس سے 30سے 40فیصد رقم نکال کر شریف برادران کی خدمت میں کیش کی صورت میں پیش کرتے تھے۔ اسی گرین گروپ میں چندایک ایسے افسران بھی تھے۔ شریف برادران کےلئے ہمہ قسم کے سہولت کارتھے۔ ان میں امداداللہ بوسال (سیکرٹری ٹو سی ایم)، میاں مشتاق بورانہ( سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو)، خواجہ شمائیل (ایڈیشنل چیف سیکرٹری) اور نسیم صادق (سیکرٹری ایکسائز) تھے۔ اب جونہی پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت بننے کے امکانات روشن ہوئے تو افسران نے اپنے ،اپنی بیگمات ،اولادوں کے نام پرخریدی جانیوالی جائیدادوں اوراثاثہ جات کے حساب کتاب درست کرنا شروع کردیئے ہیں۔ آمدن خرچ کے حساب کتاب چارٹرڈکمپنیوں کے نمائندوں سے درست کرانے شروع کردیئے ہیں۔ انعامی بانڈز ڈیلروں منی چینجرز سے خدمات بھی لی جارہی ہیں۔ جبکہ منی ٹریل انکم ٹیکس کے افسروںاور وکلاءکی خدمات بھی لی جارہی ہیں۔ کچھ بیوروکریٹس نے اپنے قابل اعتماد دوستوں اوررشتے داروں کے نام بھی پراپرٹی کرائی ہوئی ہے جس کاخفیہ اداروں نے کھوج لگالیا ہے وہ عنقریب دھرے جائیں گے۔ شریف برادران کے قریبی بیوروکریٹس جن کے پاس مختلف ملکوں کی شہریت بھی ہے وہ ملک چھوڑنے کا سوچ رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نیب پہلے کارروائی کرتا ہے بیوروکریٹس ملک سے بھاگتے ہیں۔
