لاہور (خبرنگار) ملک میں پانی کا بحران شدید ہوتا جا رہا ہے جبکہ لاہور جیسے علاقوں میں زیر زمین پانی کی سطح دن بدن نیچے جا رہی ہے۔ اس حولے سے روزنامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر ضیا شاہد نے گزشتہ دو روز قبل ایم ڈی واسا زاہد عزیز سید سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں سابق ایم ڈی واسا افتخار خان بھی موجود ہے۔ ایم ڈی واسا زاہد عزیز سید نے چیف ایڈیٹر خبریں ضیا شاہد سے ان کی سپریم کورٹ میں رٹم کے بعد حوالے سے گفتگو جو عدالت عظمیٰ نے سماعت کیلئے منظور کر لی ہے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی طرف ستلج اور راوی پانی روکنے کی وجہ سے زیر زمین پانی کی سطح تیزی سے نیچے گر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 90ءکی دہائی کی نسبت آج زیر زمین پانی کی سطح تیزی سے نیچے جا رہی ہے جبکہ نوے میں یہ ایک فٹ سالانہ تھی جو اب بڑھ کر ایک میٹر سالانہ ہو چکی ہے۔ اگر ہم بھارتی دریاﺅں سے اپنے حصے کا پانی لینے میں کامیاب ہو جائیں تو زیر زمین پانی کی سطح نیچے جانے کے مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ایم ڈی واسا کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی سٹینڈرڈ لیبارٹریوں کے مطابق پانی میں آرسینک کی مقدار 50مائیکرو گرام فی لیٹر ہے جسے آسان الفاظ میں بیان کیا جائے توایسا ہے کہ ایک ارب قطرے پانی میں ایک قطرہ آرسینک ہے جو نارمل ہے لاہور میں مختلف جگہوں پر ہم نے پانی کے نمونے لے کر لیبارٹریوں میں چیک کروائے تو آرسینک کی مقدار مختلف جگہوں کے حساب سے مختلف تھی لیکن 50مائیکروگرام سے زیادہ کہیں بھی نہیں تھی اس کو بھی کم کرنے کےلئے ہم نے ایک پروجیکٹ پر کام شروع کردیا ہے ۔زیرزمین پانی کی کمی میں مزید اضافہ روکنے کے لیے محکمہ آبپاشی کے ذریعے بی آر بی نہر سے ایک سو کیوسک پانی لے رہے ہیںجس پر ایک واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگا رہے ہیں اس کا صاف پانی شہریوں کو سپلائی کریں گے اس سے دو فائدے ہونگے ایک تو نہری پانی میں آرسینک کی مقدار 30مائیکرو گرام فی لیٹر ہے بلکہ اس بھی کم ہے اور جب اس کو دوسرے پانی میں مکس کیا جائیگا جس میںاگر آرسینک کی مقدار زیادہ ہوتو مکس ہونے سے کم ہوجائیگی دوسرا فائدہ ٹیوب ویل سے پانی لینے کی بچت ہوجائیگی ٹیوب ویل سے پانی لینے سے بھی پانی کی سطح میںتیزی سے کمی واقع ہوتی ہے ۔اس موقعہ پر روزنامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر ضیاشاہد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں پاکستان میں پانی کے بحران کے حوالے سے 4پٹیشن ہائی کورٹس میں دائر کر چکا ہوں جبکہ یہ 5ویں پٹیشن ہے جو میں نے سپریم کورٹ میں جمع کروائی ہے جسے اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے سماعت کے منظور کر لیا گیا ہے ان تمام پٹیشنز کا مطلب پاکستان میں تیزی سے کم ہوتے ہوئے پانی کو آئندہ نسلوں کے کےلئے محفوظ بنا نا ہے تاکہ میرا ملک کبھی بھی پانی کی کمی کے شکار ممالک میں شامل نہ ہو ۔حالیہ پٹیشن کا مقصد انڈیا سے ہونے والے سندھ طاس معاہدے کی منسوخی یا معطلی نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد صرف ہے کہ جس طرح معاہدے کی شق نمبر 4/1کے مطابق جو تینوں دریا بھارت کے علاقے میں بہتے ہیں جو پاکستانی استعمال میں ہیں اس سے بھارت آبی حیات ،ماحولیات ،پن بجلی اور انسانی ضروریات کا پانی لینے کا حق دار ہے اور اس کی فراہمی کو پاکستان کی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے ۔ہم نے اعلیٰ عدالت میں جو پٹیشن دائر کی ہے اس میں یہی مو¿قف اختیا ر کیا ہے کہ اگر انڈیا ان دریاﺅں کے پانی کا کلیم کرتا ہے تو اتنی ہی مقدار میں ستلج ،بیاس اور راوی میں پانی کیوں نہیں چھوڑتا ۔اس موقعہ پر ایم واسا زاہد عزیز سید نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دریا چناب سے مرالہ لنک کینال سے پانی راوی میں چھوڑا جارہا ہے تاکہ آبی ماحولیات کا پانی پورا کیا جاسکے ۔چیف ایڈیٹر خبریں نے کہا کہ جب ان تینوں دریاﺅں میں پانی چلتا تھا تو ملک کے مختلف حصوں میں جہاں سے یہ دریا گزرتے تھے وہاں زیرزمین پانی کی سطح بہتر تھی ۔سابق ایم ڈی واسا افتخار خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 70کی دہائی میں تو زیر زمین پانی کی سطح 10فٹ تک تھی اس وقت دریاﺅں میں پانی کی فراوانی تھی لیکن آہستہ آہستہ دریاﺅں میں پانی مقدار کم ہوتی گئی جس کی وجہ سے انڈرگراونڈ واٹر لیول کم ہوتا گیا آج تو پانی دس فٹ کی بجائے 150فٹ سے زیادہ تجاوز کر گیا ہے اگر یہی حالت برقرار رہی تو اگلے دس سالوں میں 10میٹر ،اگلے بیس سالوں میں 20میٹر اور اگلے تیس سالوں میں 30میٹر ہوجائیگی جو پانی کی انتہائی خطرناک سطح ہوگی اگر اس پر فوری طور پر اقدامات نہ کئے گئے تو آنے والے کچھ سالوں میں پانی کی کمی پر قابو پانا ناممکن ہوجائیگا ۔
