لاہور ( ویب ڈیسک ) قومی احتساب بیورو (نیب) کے حکام نے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کے گھر پر چھاپہ مارا ہے اور آمدن سے زائد اثاثے سے متعلق ان سے پوچھ گچھ جاری ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نیب ذرائع نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما کے گھر پر چھاپہ مارنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ چھاپہ حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے مارا گیا۔نیب ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ چھاپہ گھر کی تلاشی کے لیے نہیں بلکہ حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے مارا گیا ہے اور آمدن سے زائد اثاثوں کے حوالے سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔رپورٹس کے مطابق نیب ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس چھاپے کے لیے نیب کے پاس وارنٹ موجود ہیں اور نیب مطلوب شخص کو بغیر اطلاع دیے گرفتار کرسکتا ہے۔دوسری جانب اس بارے میں مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ نیب حکام نے حمزہ شہباز کے گھر چھاپہ مارا۔مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حمزہ شہباز کے گھر میں آنے والے نیب حکام کے پاس نہ کوئی وارنٹ تھے اور نہ ہی انہوں نے کوئی اجازت لی تھی۔انہوں نے کہا کہ یہ چھاپے کس قانون کے تحت مارے جارہے ہیں، کیا شہباز شریف اور حمزہ شہباز کیا دہشت گرد ہیں، موجودہ حکومت خوفزدہ ہے کہ وہ اس ہتھکنڈے پر اتر آئے۔مسلم لیگی ترجمان کا کہنا تھا کہ نیب کی ٹیم کے چھاپے کے وقت حمزہ شہباز گھر میں موجود تھے اور نیب کی ٹیم نے ان سے سوالات کیے۔خیال رہے کہ گزشتہ ماہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے نیب کے اختیارات کو بڑھاتے ہوئے انہیں پیشگی اطلاع دیے بغیر گرفتاری کی اجازت دے دی تھی۔عدالت عظمیٰ نے فیصلہ دیا تھا کہ نیب کسی بھی ملزم کو پیشگی اطلاع دیے بغیر ہی گرفتار کر سکتا ہے، اگر نیب کے پاس ٹھوس شواہد ہوں تو اسے گرفتاری کا مکمل اختیار ہے۔تاہم اعلیٰ عدالت نے ساتھ یہ تنبیہ بھی کی تھی کہ عدالت کو امید ہے کہ نیب اپنے ان اختیارات کا ناجائز استعمال نہیں کرے گا۔
