تازہ تر ین

ڈیفنس،گلبرگ کے ریسٹورنٹس کی افطاری اور سحری نے روزہ داروں کی کھال اتاردی،2500 سے 5000 تک فی کس ٹیکہ

لاہور (رپورٹنگ ٹیم) لاہور کے پوش علاقوں میں قائم ریسٹورنٹس سحری اور افطار ڈنر کے نام سے لاہوریوں کی کھال اتارنے میں مصروف ہیں۔ رمضان المبارک کا احترام نہ اسلامی قدروں کی پروا‘ شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کا سلسلہ جاری ہے۔ لاہور کے دل میں واقع ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس سے کئی گنا من مانے ریٹ لگاکر روزہ داروں کی جیبیں کاٹنے کا سلسلہ جاری ہے۔ تحفظ حقوق صارفین حیران ہے کہ پرائس کنٹرول کمیٹیاں اور کھانوں کا معیار چیک کرنے والی فوڈ اتھارٹی کہاں لمبی تان کر سو گئی۔ پوش علاقوں میں قائم ریسٹورنٹس روزہ داروں سے 52سو روپے سے لیکر 2ہزار روپے فی کس وصول کر رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق گلبرگ کے علاقے میں موجود گائیا ، کیفے ایلائنتو ، پی ایف چینگز، ٹوسکا نی کورٹ یارڈ ، یمز ، ایکس ٹو ، نشاط ہوٹل ، ورندا بریسٹو، بار بی کیو ٹو نائٹ اور کیفے ذوتھ سمیت دیگر مہنگے ریسٹورنٹس نا صرف افطار کے نام پر خود ہزاروں روپے وصول کررہے ہیں بلکہ 17فیصد کے حساب سے سیلز ٹیکس بھی وصول کیا جا رہا ہے جبکہ معروف فوڈ جن پر پنجاب ریونیو اتھارٹی کی جانب سے لگائے جانے والے ریسٹورنٹ انوائس مانٹرننگ سسٹم کا سافٹ ویئر ناکارہ ہوگئے ہیں‘ عوام سے ٹیکس بھی وصول کیا جاتا ہے۔ رمضان المبارک کا عشرہ جاری ہے‘ افطار ڈنر کے لئے جب ہماری ٹیم نے ہوٹلوں کا رُخ کیا تو قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی تھیں۔ ڈیفنس‘ ایم ایم عالم روڈ‘ لبرٹی میں افطار ڈنر فی کس ہزاروں روپے وصول کر رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ یہاں پر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کچھ Cafe اور ریسٹورنٹس نے پر ہیڈ رکھنے کی بجائے Open رکھا ہے اور اپنی مرضی کے ریٹس وصول کررہے ہیں۔ رمضان المبارک میں خاص طور پر سحری اور افطاری پر ریسٹورنٹس میں رش ہونا معمول ہوتا ہے مگر ان میں من پسند نرخ نامے وصول کئے جارہے ہیں۔ پانی کی چھوٹی بوتل جو کہ مارکیٹ میں 25 روپے میں فروخت کی جاتی ہے ہوٹلز میں 100 روپے تک ملتی ہے اور اسی طرح یہ چیزیں 200 میں بھی فروخت کی جارہی ہیں اور اگربات کی جائے عام لاہوری کی توایک آدمی 60 روپے سے لے کر 600روپے میںبہترین افطاری کرسکتا ہے ۔ لاہور کا دل لکشمی چوک ، گوالمنڈی فوڈ سٹریٹ ، شمالی لاہور ، ساندہ ، سمن آباد، چونگی امرسدھو ، مسلم ٹاﺅن ، برکت مارکیٹ کے ساتھ ساتھ شہر میں بے شمار ہوٹلز اور ریسٹورنٹس موجود ہیں۔ جب ہماری ٹیم نے ان علاقوں کا دورہ کیا تو وہاں پر پوش علاقوں کی نسبت افطاری کے ریٹ کئی سو گنا کم تھے ۔ پنجاب ریونیو اتھارٹی کی جانب سے 13جنوری 2015ءکو ریسٹورنٹ انوائس مانیٹرنگ سسٹم متعارف کروایا گیا اور پہلے مرحلے میں لاہور کے 50سے زائد ریسٹورنٹس کا انتخاب کیا گیا جہاں اس سافٹ وئیر کو انسٹال کیا گیا اور یوں صارفین کا تمام ریکارڈریونیو اتھارٹی تک پہنچنا شروع ہوا۔ لاہور میں شاہی قلعہ فوڈ سٹریٹ، ایم ایم عالم روڈ اور قذافی سٹیڈیم کے اطراف ہوٹلوں کو ریسٹورنٹ انوائس مانیٹرنگ سسٹم کے تحت رجسٹر کیا گیا۔بعدازاں اس کا دائرہ کار641 ریسٹورنٹ‘ کیفے اور ہوٹلز تک پھیلا دیا گیا تھاجس کی وجہ سے پی آر اے کے ہوٹلز اینڈ ریسٹورنٹ ٹیکس میں2016-17 ءمیں 38فیصد تک اضافہ بھی ہوا۔ ہمارے ملک میں یہ عام رواج ہے کہ اچھے ریسٹورنٹ سے کھائیں یا تھڑے والے سے ، ادائیگی کی رسید نہیں لی جاتی جبکہ ریسٹورنٹس پر تو سیلز ٹیکس عائد ہے جو گاہک سے وصول کیا جاتا ہے۔رسید نہ دے کر ریسٹورنٹ والے نہ صرف سیلز ٹیکس بھی بچاتے اور اپنی آمدنی بھی کم ظاہر کرتے ہیں، اس طرح اگر گاہک ادائیگی کرے اور رسید لے تو یہ چور راستہ بند ہوسکتا ہے۔اس منصوبے میں عوام کو شمولیت اور ریسٹورنٹس اور ہوٹلز میں ادا کئے گئے بلز کی رسیدیں لازمی طور پر بنوانے پر مائل کرنے کےلئے پنجاب ریونیو اتھارٹی کو بھجوانے پر قرعہ اندازی میں پرکشش انعامات بھی دیئے گئے مگر 2018ءجنوری میں اچانک اس منصوبے کو ٹھپ کردیا گیاجس کی وجوہات تاحال نا معلوم ہیں ۔ یاد رہے کہ ملک اس وقت معاشی بحران کا شکار ہے جس کےلئے ٹیکس کولیکشن سب سے اہم سمجھی جا رہی ہے لیکن متعلقہ محکموں کے افسران نا صرف اس پر کارروائی سے گریزاں ہے بلکہ اگر کوئی شہری بمشکل اپنی شکایت درج کروانے میں کامیاب بھی ہوجائے تو اس پر کسی بھی قسم کی کارروائی نہیں کی جاتی ۔

 


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved