کربلا (ویب ڈیسک)عراق کے شہر کربلا میں قائم ایک مزار میں یوم عاشور کی مناسبت سے جاری جلوس میں بھگدڑ کے نتیجے میں 31 زائرین جاں بحق ہوگئے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق عراق کی وزارت صحت نے بتایا کہ یوم عاشور کے موقع پر کربلا میں قائم ایک مزار پر بھگدڑ کا واقعہ پیش آیا۔وزارت کے ترجمان سیف البدر کا کہنا تھا کہ واقعے میں ہلاکتوں کے اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ واقعے میں مزید 100 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 10 کی حالت تشویشناک ہے۔دنیا بھر کی طرح عراق کے شہر کربلا، نجف اور بسرا میں بھی عزا داروں کی جانب سے ماتمی جلوس نکالے گئے اور مجالس کی گئیں۔واضح رہے کہ عاشورہ کے موقع پر یہ حالیہ تاریخ کی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں، آج کے دن دنیا بھر کے زائرین کربلا آتے ہیں اور نواسہ رسول حضرت امام حسینؓ کی شہادت کا دن عقیدت و احترام سے مناتے ہیں۔یاد رہے کہ نواسہ رسول حضرت امام حسینؓ کو 680 سال قبل کربلا میں ان کے 71 اہل خانہ اور ساتھیوں کے ساتھ شہید کردیا گیا تھا۔خیال رہے کہ 2005 میں بغداد میں قائم امام خادم کے مزار پر خود کش بمبار کی موجودگی کی اطلاع کے بعد ہونے والی بھگدڑ میں 965 زائرین جاں بحق ہوگئے تھے۔نوٹ: یہ ابتدائی رپورٹ ہے جس میں مزید تفصیلات شامل کی جارہی ہیں۔

An aerial view taken on December 1, 2015 shows Iraqi Shiite pilgrims gathering at the shrine of Imam Abbas ibn Ali, the brother of Imam Hussein, during the Arbaeen religious festival which marks the 40th day after Ashura, commemorating the seventh century killing of Prophet Mohammed's grandson, Imam Hussein, in the holy city of Karbala, 80 kilometres south of the capital Baghdad. AFP PHOTO / MOHAMMED SAWAF
