Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • ورلڈ کپ معرکے سے قبل واہی کو کینیڈا میں داخلے سے انکار، آئیوری کوسٹ کو بڑا نقصان
    • میں اپنی شادی کی رات سلامی کے پیسے گننے میں مصروف تھی: عفت عمر
    • هرمز مشن کے پیش نظر اپنے بحری جہاز تعینات کر دیے ہیں: جرمن وزیر دفاع
    • پاکستانی ویمن ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا دی ہنڈریڈ میں برمنگھم فینکس کا حصہ بن گئیں
    • مشہور ہارر کردار سمارا مورگن کی وائس آرٹسٹ ڈیوِی چیس دنیا سے رخصت
    • یو اے ای میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی
    • گلگت بلتستان میں شدید بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ، اہم سڑکیں بند۔
    • اقوام متحدہ: امریکہ اور ایران کے ساتھ عملی اقدامات طے کرنے کا وقت آ گیا ہے
    • اقوام متحدہ: امریکہ اور ایران کے ساتھ عملی اقدامات طے کرنے کا وقت آ گیا ہے
    • اسرائیلی وزیر خارجہ: یورپی یونین کی خارجہ پالیسی چیف سے تمام رابطے ختم کر دیے جائیں گے
    • کرکٹ اسٹارز عمر گل اور شاہین آفریدی نے پیڈل سیشن میں حصہ لیا
    • موٹروے پر 24 جون کے بعد فائر ایکسٹنگوئشر کے بغیر گاڑیوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔
    • گلگت بلتستان میں 5 کروڑ روپے کا ٹراؤٹ فارمنگ منصوبہ شروع
    • وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے بطور ثالث امریکہ ایران معاہدے پر دستخط کر دیئے
    • اسپیس ایکس نے ایمازون کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی پانچویں سب سے قیمتی کمپنی بن گئی
    • لاہور میں امتیاز سپر مارکیٹ سیل کر دی گئی۔
    • امریکہ نے اتمار بن گویر کا ویزا مسترد کر دیا، میامی کا دورہ منسوخ۔
    • اسرائیل کے ساحل پر جیلی فش کے حملوں میں اضافہ۔
    • مراکش فیفا رینکنگ میں چھٹے نمبر پر پہنچ گیا۔
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    وکس ویپورب: ایک معمولی تجربہ جادوئی نسخہ کیسے بن گیا

    By Daily Khabrainاکتوبر 9, 2019
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    لاہور:(ویب ڈیسک)ایک ایسی بو جسے پہچاننے میں ہمیں دوسرا سکینڈ نہیں لگتا۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر کسی کو یہ بو پسند ہی آئے لیکن جیسے ہی وکس ویپورب کی شیشی کا ڈھکنا ہٹتا ہے آپ سمجھ جاتے ہیں کہ یہ کیا چیز ہے۔129 برس قبل بنایا جانے والا یہ مرہم آج بھی اتنا ہی مقبول ہے اور پاکستان اور انڈیا ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں لوگ سردی، زکام، کھانسی، سوکھے ہونٹ یا کیڑے کے کاٹے کا علاج اسی چھوٹی سی ڈبیا میں تلاش کرتے ہیں۔آخر وکس ویپورب کی خود اپنی کہانی ہے کیا؟ یہ کہاں سے آئی اور اتنی ہردلعزیز کیسے بن گئی؟ہوا کچھ یوں کہ 19ویں صدی کے آخر میں ایک امریکی فارماسسٹ اور موجد لنسفرڈ رچرڈسن کو ایک اچھوتا خیال آیا۔

    وکس ویپورب

    شمالی کیرولائنا میں سنہ 1854 میں پیدا ہونے والے رچرڈسن کو کیمیا میں گہری دلچسپی تھی اور یہی مضمون ان کی قسمت میں تبدیلی کی وجہ بنا۔سنہ 1880 میں وہ اپہنے بہنوئی ڈاکٹر وک کے ساتھ ان کے مطب میں کام کرنے لگے۔ ڈاکٹر صاحب مریضوں کو دیکھتے تھے اور رچرڈسن ان کے لیے ادویات تیار کرتے تھے۔اسی دوران انہون نے تجربات شروع کر دیے۔ تقریباً ایک دہائی بعد وہ اپنی لیب میں تیار ہونے والی مختلف ادویات ‘وک’ کے خاندانے نسخوں کے نام سے بیچنے لگے۔ انھوں نے 21 دواؤں کے پیٹنٹ بھی اپنے نام کروائے۔

    جادوئی مرہم

    کچھ دوائیں دوسروں سے زیادہ مقبول ہو گئیں جن میں سے ایک تھا کھانسی میں راحت کے لیے استعمال ہونے والا ’وکس کف سیرپ۔‘

    وکس ویپورب
    رچرڈسن کے پڑپوتے برٹ پرایر نے صحافی جمی ٹوملن کو بتایا کہ ‘ان کے ایک بچے کو بہت سخت کھانسی اور زکام تھا۔ ایک دوا ساز ہونے کے ناتے وہ مختلف تجربات کرنے لگے۔ ان تجربات میں جاپانی نسخے بھی شامل تھے اور انہی تجربات کے نتیجے میں اس جادوئی مرہم کی تخلیق ہوئی۔’اس نئی دوائی کو استعمال کرنے والے افراد اس کے غیر معمولی اثرات سے حیران تھے۔اس دوا کا استعمال ویسے ہی ہونے لگا جیسے آج کل اینٹی فلو ادویات استعمال ہوتی ہیں۔ اسے مریض کے سینے پر ملنا ہوتا تھا تاکہ سانس لینے پر اثر سیدھے پھیپھڑوں تک پہنچے۔
    وکس ویپورب

    سپین میں وبا سے فروخت میں اضافہ

    وکس میں مینتھال، کافور اور یوکلپٹس کے تیل کے علاوہ چند اور مفید تیل پیٹرولیم جیلی میں گھلے ہوتے ہیں۔ سنہ 1911 میں اس بام کو ‘وکس ویپورب’ نام دیا گیا۔ اور آج بھی دنیا اس بام کو اسی نام سے جانتی ہے۔آہستہ آہستہ اشتہارات کی مدد سے وکس ویپورب کی فروخت میں اضافہ ہوا لیکن اسی درمیان سپین میں فلو کی ایسی وبا پھیلی کہ سنہ 1918 سے 1919 کے درمیان سیکڑوں کی تعداد میں امریکی بھی ہلاک ہو گئے۔اس وقت وکس ویپورب کی بازار میں مانگ اتنی زیادہ بڑھ گئی کہ اسے بنانے والی فیکٹری کو چوبیسوں گھنٹے، دن اور رات، کام کرتے رہنا پڑا۔

    وکس ویپورب

    لیکن اسی دوران سنہ انیس سو انیس میں رچرڈسن کی نمونیا سے موت ہو گئی۔ان کے بعد ان کا خاندان کاروبار کو بڑھاتا رہا۔ سنہ 1980 میں ’پروکٹر اینڈ گیمبل‘ نے اسے خرید لیا۔ آج بھی وہ ہی اس کے مالک ہیں۔آج کی تاریخ میں وکس ویپورب دنیا کے 71 ممالک میں مختلف ٹریڈ مارکس کے ساتھ فروخت ہوتی ہے اور کمپنی کا کہنا ہے کہ صرف یورپ میں ہی ہر سال اس کی 2.3 کروڑ شیشیاں بک جاتی ہیں۔

    Daily Khabrain

    Keep Reading

    کینسر کے علاج میں مصنوعی ذہانت امید کی نئی کرن

    بکریوں کی انسانوں کے حوالے سے حیرت انگیز صلاحیت کا انکشاف

    چینی کا استعمال مکمل ختم کرنا صحت کیلئے نقصان دہ ہوتا ہے، تحقیق

    تازہ ترین

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے متعلق اچھی خبر آئے گی: وزیرپیٹرولیم

    تحریک انصاف حکومت سے مذاکرات پر تیار ہوگئی

    بلوچستان بجٹ 2026-27: تعلیم، صحت اور امن وامان ترجیح

    سونے کی قیمت میں کمی ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟

    16 سے 18 سال کے نوجوانوں کے لیے جووینائل ڈرائیونگ پرمٹ متعارف، رواں ہفتے سے اجرا شروع

    Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.