کرائسٹ چر چ (ویب ڈیسک)نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے آن لائن انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے تفتیش کاروں کی ایک ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ کرلیا۔فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق کرائسٹ مساجد حملوں کی ناکامی اور سانحہ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر لائیو نشر کرنے کے بعد جیسنڈا آرڈرن ٹیکنالوجی کمپنیوں سے انتہا پسند مواد ہٹانے کے لیے بین الاقوامی سطح پر کوششیں کررہی ہیں۔تاہم انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کی 2 مساجد کو نشانہ بنائے جانے سے یہ ظاہر ہوا کہ ہماری حکومت کو آن لائن نفرت انگیز مواد کے پھیلاو¿ کو روکنے کے لیے وسائل میں بہتری کی ضرورت ہے۔جیسنڈا آرڈرن نے کہا کہ ’ہمارے پاس ایک بہت اچھی ٹیم ہوگی جو ہمارے ڈیجیٹل چینلز پر پ±رتشدد انتہا پسند مواد کا پتہ لگائے گی اور اس کے پھیلاو¿ کو روکنے پر توجہ مرکوز رکھے گی‘۔نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے کہا کہ محکمہ داخلہ، تحقیقاتی، فرانزک اور انٹیلی جنس لحاظ سے 17 ماہرین منتخب کرے گا تاکہ آن لائن پ±رتشدد مواد کو ناکام بنانے پر توجہ مرکوز کی جاسکے۔علاوہ ازیں نیوزی لینڈ کے وزیر داخلہ ٹریسی مارٹن نے کہا کہ حکام کی جانب سے ردعمل کے وقت کو بہتر ہونے کی ضرورت ہے تاکہ قابل اعتراض مواد کو تیزی سے ہٹایا جائے اور انتہا پسندوں کے لیے ایک پلیٹ فارم بننے سے روکا جائے۔انہوں نے کہا کہ ’15 مارچ کو ہونے والا دہشت گردی کا حملہ جس آسانی اور تیزی سے آن لائن پھیلا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمیں اپنے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے‘۔واضح رہے کہ وزیراعظم نیوزی لینڈ جیسنڈا آرڈرن اور فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے نیوزی لینڈ کی 2 مساجد پر حملے کی لائیو ویڈیو وائرل ہونے پر آن لائن انتہا پسندی کے خلاف ‘کرائسٹ چرچ کال’ کے نام سے مہم کا آغاز کیا تھا۔

In this March 20, 2019, photo, New Zealand's Prime Minister Jacinda Ardern speaks during a press conference following the March 15 mosque shooting, in Christchurch, New Zealand. Prime Minister Ardern says New Zealand is immediately banning assault rifles, high-capacity magazines and "military style semi-automatic rifles" like the weapons used in last Friday's attacks on two Christchurch mosques. Ardern announced the ban Thursday, March 21, and said it would be followed by legislation to be introduced next month.(Kyodo News via AP)
