تازہ تر ین

دھرنے کا معاملہ جلد حل ہو جائے گا،عمران خان

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنےآگئی۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے چیئرمین اور وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اپنے تمام ارکان اسمبلی کوتسلی دی ہے کہ دھرنے کا معاملہ افہام و تفہیم سے حل ہو جائے گا، آپ لوگ فکر مند نہ ہوں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے اپنے تمام ارکان اسمبلی کو ایوان میں حاضر رہنے کی بھی ہدایت کی۔وزیراعظم کی جانب سے پی ٹی آئی اراکین کو کہا گیا کہ وہ قومی اسمبلی میں پاکستان میڈیکل اتھارٹی کا بل پاس کروانے میں اپنا کردار ادا کریں۔اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میڈیکل کے شعبے کو لوگوں نے دکانداری بنایا ہوا ہے، لوگ اپنے میڈیکل کالج چلا رہے ہیں اور بورڈ کے ممبران بھی ہیں، میڈیکل کے شعبے میں اصلاحات لا کر ان کا قبلہ درست کرنا ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ لوگ انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں، اس میں ملوث لوگوں کےلیے سخت سے سخت سزا تجویز کریں گے، پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کا عمل تیز کیا جائے گا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ذخیرہ اندوزوں نے ملک میں مصنوعی مہنگائی کی ہوئی ہے، مہنگائی کے خلاف میرا ساتھ دیں، ذخیرہ اندوزوں کو کیفر کردار پہنچائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے حالات دن بدن بد ترین ہو رہے ہیں، سندھ حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، اس موقع پرعمران خان نے بہت جلد کراچی کا دورہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں معیشت اور وسائل کا بڑا حصہ بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں میں صرف ہوتا ہو وہاں ماضی میں سرکاری املاک کو موثر طریقے سے برے کار نہ لانا مجرمانہ غفلت تھی، موجودہ حکومت بطور پالیسی پر عزم ہے کہ سرکاری املاک (ڈیڈ ایسیٹ) کو عوامی فلاح و بہبود کے لئے برے کار لائے اور ان سے ہونے والی آمدن کو معاشی عمل تیز کرنے اور نوکریوں کے مواقع پیدا کرنے کے لئے صرف کرے، معیشت کی بہتری کے لئے مشکل فیصلے کرنا ضروری تھے تاہم ان اقدامات کے مثبت نتائج برآمد ہونا شروع ہو گئے ہیں، ملک کی معیشت میں استحکام آ چکا ہے۔ جمعرات کو وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت پنجاب میں سرکاری اراضی کو فلاحی مقاصد کے لئے برے کار لانے اور خصوصا پنجاب کوآپریٹیوبورڈ فار لیکوڈیشن کے زیر انتظام املاک کو عوامی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے حوالے سے اجلاس ہوا۔اجلاس میں وزیرِ قانون ڈاکٹر فروغ نسیم، وزیرِ اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار، صوبائی وزیر برائے کوآپریٹیو مہر محمد اسلم بھروانہ، وزیر قانون پنجاب محمد بشارت راجا، چیف سیکرٹری پنجاب یوسف نسیم کھوکھر و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے ۔ وزیرِ اعظم کو صوبہ پنجاب میں سرکاری املاک عوامی فلاح و بہبود کے لئے برے کار لانے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ چیئرپرسن پنجاب کوآپریٹیو بورڈ برائے لیکوڈیشن (پی سی بی ایل) بشری امان نے ادارے کے ملکیت میں مختلف املاک کے بارے میں وزیرِ اعظم کو بریف کرتے ہوئے بتایا کہ پی سی بی ایل کی ملکیت میں 293املاک ہیں جن میں سے زرعی، کمرشل اور رہائشی جائیدادوں پرمشتمل 98املاک نیلامی کے لئے فوری طور پر میسر ہیں۔ ان کی مالیت کھربوں روپے ہے۔ بقیہ املاک سے متعلق مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں ۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ پی سی بی ایل کی نئی انتظامیہ نے گذشتہ چھ ماہ میں اربوں روپے کی املاک کو ناجائز قبضے سے واگذار کرایا ہے۔ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے ملک میں جہاں معیشت اور وسائل کا بڑا حصہ بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں میں صرف ہوتا ہو وہاں ماضی میں سرکاری املاک کو موثر طریقے سے برے کار نہ لانا مجرمانہ غفلت تھی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت بطور پالیسی پر عزم ہے کہ سرکاری املاک (ڈیڈ ایسیٹ) کو عوامی فلاح و بہبود کے لئے برے کار لائے اور ان سے ہونے والی آمدن کو معاشی عمل تیز کرنے اور نوکریوں کے مواقع پیدا کرنے کے لئے صرف کرے۔ وزیرِ اعظم نے پی سی بی ایل انتظامیہ اور وزیرِ قانون پنجاب کو ہدایت کی کہ ادارے کی املاک سے متعلقہ مقدمات کے جلد فیصلوں کے لئے کوششیں تیز کی جائیں اور اس ضمن میں تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت نے مشکل ترین حالات میں حکومت سنبھالی۔ معیشت کی بہتری کے لئے مشکل فیصلے کرنا ضروری تھے تاہم ان اقدامات کے مثبت نتائج برآمد ہونا شروع ہو گئے ہیں اور آج ملک کی معیشت میں استحکام آ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے، معاشی عمل تیز کرنے اور خصوصا نوجوانوں کے لئے نوکریوں کے مواقع پیدا کرنے کے لئے کوششیں مزید تیز کرنا ہوں گی۔ وزیراعظم عمران خان سے ہوا وے کے سپروائزری بورڈ کے چیئرمین لی جی نے وفد کے ہمراہ جمعرات کو وزیراعظم آفس میں ملاقات کی۔ سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین سید زبیر حیدر گیلانی، سیکریٹری تجارت سردار احمد نواز سکھیرا، سیکریٹری آئی ٹی شعیب احمد صدیقی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ہوا وے سپروائزری بورڈ کے چیئرمین نے وزیراعظم کو اپنی کمپنی کے نیٹ ورک کی توسیع اور ترقی کے حوالے سے وزیراعظم کو آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی کمپنی نے ایک نیا ایکو سسٹم کامیابی سے قائم کیا ہے تاکہ اس شعبہ میں جن کمپنیوں کی اجارہ داری ہے، ان پر انحصار سے آزاد ہوا جا سکے۔ وزیراعظم عمران خان نے وزارت تجارت کی طرف سے نئی ای۔پالیسی کے تحت پیدا ہونے والے کاروبار کے وسیع مواقع کے بارے میں بات کرتے ہوئے کمپنی کو اس شعبہ میں کاروبار کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے پاکستان کے ذہین نوجوانوں کو تکنیکی شعبوں میں کام کے مواقع فراہم کرنے پر بھی زور دیا۔ ملاقات میں کمپنی کے مینوفیکچرنگ یونٹس پاکستان منتقل کرنے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے حکومت کی طرف سے ممکنہ طور پر اپنی صنعتیں پاکستان میں منتقل کرنے والی کمپنیوں کے لئے پرکشش مراعاتی پیکیج کو اجاگر کرتے ہوئے پاکستان میں سستی لیبر، باصلاحیت اور قابل پاکستانی نوجوانوں کی دستیابی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ غیر ملکی کمپنیاں اپنے کاروبار کو پھیلانے کے لئے اس سے استفادہ کر سکتی ہیں۔ آئی ٹی کے شعبہ نے ڈیجیٹل پاکستان مہم شروع کی ہے اور اس کے تحت نوجوانوں کی صلاحیتوں سے استفادہ کیا جا سکے گا اور کمپنیاں بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ درآمدی متبادل کی فراہمی میں ان کی مہارت اور نسٹ اور جی آئی کے کے طلباءکے تعاون سے شروع کئے گئے تکنیکی آٹومیشن آپریشن کو آگے بڑھانے میں بہت مدد ملے گی۔ ہوا وے سپروائزری بورڈ کے چیئرمین لی جی نے کہا کہ وہ پاکستانی طلباءکی ذہنی صلاحیتوں اور قابلیت سے بہت متاثر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کمپنی نے نمل کے طلباءکو میرٹ ایوارڈز دینے کا پروگرام شروع کر رکھا ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved