تازہ تر ین

دھرناختم ،بڑی سڑکیں بند کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد‘ لاہور‘ کوئٹہ (نمائندگان خبریں) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد کے پشاور موڑ پر کئی روز سے جاری دھرنا ختم کرتے ہوئے پلان ‘بی’ کے تحت نئے محاذ پر جانے کا اعلان کردیا۔آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے وئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ دو ہفتوں سے قومی سطح کا اجتماع تسلسل سے ہوا، اب نئے محاذ پر جانے کا اعلان کر دیا گیا ہے، ہمارے جاں نثار اور عام شہری سڑکوں پر نکل آئے ہیں، ہماری قوت یہاں جمع ہے اور وہاں ہمارے ساتھی سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا اور دو کا انتظار ہے، ہم آج اسلام آباد سے روانہ ہوں گے اور جس طرح یہاں آئے ہیں اب اسی طرح یہاں سے دوسرے محاذ پر جائیں گے۔مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ حکومت اراکین کی جانب سے ایسے جملے کہے جارہے ہیں جو حوصلہ شکنی کا سبب بنیں، حکومتی حلقوں میں خیال تھا کہ اجتماع اٹھے گا تو حکومت کے لیے آسانیاں ہو جائیں گی لیکن اب صوبوں اور ضلع میں حکومت کی چولہیں ہل گئی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم حکومت پر دبا بڑھانا چاہتے ہیں، نئے محاذ پر ہم سڑکیں بلاک کرنے والوں کے ساتھ ہوں گے، ہم پرامن ہیں اور ہم نے ملک کا نقصان نہیں کرنا لہذا ادارے بھی اس آزادی مارچ کا احترام کریں جبکہ اپنے کارکنان کی طرح پاکستان کی سکیورٹی فورسز بھی عزیز ہیں۔انہوں نے کارکنان کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ احتجاج کے دوران ایمبولینس کا راستہ نہ روکیں۔سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ شہر کے اندر احتجاج سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہوگا اس لیے ہم شہروں سے باہر جاکر شاہراہوں پر احتجاج کریں گے اور عام شہری کی زندگی متاثر نہیں کریں گے جبکہ ناجائز حکمرانی کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمن نے گزشتہ روز بدھ سے آزادی مارچ کے پلان ‘بی’ پر عملدرآمد شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ یہاں کا اجتماع پلان ‘اے’ ہے جو باقی رہے گا اور اس کے ہوتے ہوئے ہم پلان ‘بی’ کی طرف جائیں گے، لیکن جب تک شرکا کو پلان ‘بی’ کی طرف جانے کا کہا نہ جائے آپ نے یہاں جمے رہنا ہے اور پلان کا اعلان ہوتے ہی قافلے اس طرف چل پڑیں گے۔’انہوں نے کہا کہ ‘اب اس تحریک کو اتنی طاقت دی جائے گی کہ پھر حکومت کا سنبھلنا ممکن نہیں ہوگا، لیکن کارکنان نے قانون و آئین کو ہاتھ میں نہیں لینا، تصادم سے خود کو بچانا ہے اور پرامن رہنا ہے۔ ‘ جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے پلان بی کے اعلان کے ساتھ ہی لاہور کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔ شہر کے اہم چوراہوں پر بھی پولیس کی تعیناتی دیکھی گئی ہے جبکہ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر اگر کسی نے احتجاج کرنے یا دھرنا دینے کی کوشش کی تو اس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ مظاہرین سے نمٹنے کے لئے ضروری ساز و سامان بھی ان مقامات پر پہنچا دیا گیا ہے۔ آزادی مارچ کے پلان بی پرعملدرآمد شروع اپوزیشن جماعتوں کے کارکنوں نے کوئٹہ چمن شاہراہ کو بلاک کر دیا گیا جس کے باعث لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے تفصیلات کے مطابق جمعیت علماءاسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ روز آزادی مارچ کے شرکاءسے خطاب میں کہا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں بی پلان پر عملدرآمد کرینگے مولانا فضل الرحمان کے اعلان کے بعد ہی جمعیت علماءاسلام اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے کارکنوں نے قلعہ عبداللہ کے علاقے سید حمید کراس پر کوئٹہ چمن قومی شاہراہ کوبلاک کر دیا گیا جس کے باعث شہریوں اور مسافروں کو شدید مشکلات کاسامنا کرنا پڑا تاہم ضلعی انتظامیہ نے سیاسی جماعتوں کے کارکنوں سے مذاکرات کی تاہم مذاکرات ناکام ہوئیں کارکنوں کا کہنا ہے کہ جب تک مولانا فضل الرحمان ہمیں ہدایات نہیں دیں گے اس وقت تک ہم روڈ کو بلاک کرینگے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved