تازہ تر ین

پاک ترک تجارتی حجم 5ارب ڈالر،مسلہ کشمیر بارے موقف پر قائم ہیں،دباﺅ کے باوجود ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی حمایت کرینگے ،طیب اردگان

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان سے تجارتی حجم کو 5 اربڈالر تک لے جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا پاکستان کی ہر ممکن مدد کےلئے تیار ہیں ، میں اور عمران خان اکنامک اسٹریٹجی فریم ورک کا تاریخی معاہدہ کرنے جارہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاک ترک بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہ پاکستان ہمارا دوسرا گھر ہے اور یہاں آنے پر بے حد خوشی ہوئی ہے،بہترین مہمان داری پر پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ترک صدر نے کہا کہ اعلیٰ سطح تذویراتی تعاون کونسل کا چھٹا اجلاس دونوں ملکوں کے درمیان ہو گا، توقع ہے کہ پاکستانی قیادت سے ہونے والی ملاقاتیں دوطرفہ تعلقات میں مفید ثابت ہوں گی، اعلیٰ سطح دوروں سے دوطرفہ تعاون کے لئے امکانات سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کا باہمی تجارتی حجم اپنی صلاحیت سے کہیں کم ہے، ہمیں پہلے مرحلے میں دوطرفہ تجارتی حجم کو ایک ارب ڈالر پھر 5ارب ڈالر تک بڑھانا چاہتے ہیں اور ترکی نے پاکستان میں سرمایہ کاری میں اضافہ کیا ہے جبکہ ترکی کو بھی مشکل معاشی حالات کا سامنا تھا، ترکی پر سرکاری قرضہ 72فیصد تھا جسے کم کر32فیصد لائے،ترک حکومت اور عوام نے عزم و ہمت سے اپنی مشکلات پر قابو پایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ دفاعی شعبوں میں تعاون مزید مضبوط ہو رہا ہے، دونوں ملکوں میں ٹرانسپورٹیشن، صحت ، تعلیم توانائی کے شعبوں میں تعاون کر رہے ہیں، ترک کمپنیاں پاکستان میں بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں، ہیلتھ کیئر کے دنیا کے لوگ ترکی کا رخ کرتے ہیں، ترکی نے جدید ہسپتال تعمیر کئے ہیں، ہیلتھ کیئر کےلئے پاکستانی عوام ترکی آسکتے ہیں، ترک صدر نے پاکستانی سرمایہ کاروں کو ترکی میں سرمایہ کاری کی بھی دعوت دی اور پاکستان کے ساتھ ٹی وی ڈرامہ انڈسٹری اور سیاحت پر مشترکہ منصوبے بنانے کا عزم کا اظہار کیا۔ ترک صدر نے کہا کہ ترک ڈرامہ سیریلز پاکستان میں بے حد مقبول ہیں ہمیں مسلم امہ کےلئے مشترکہ میڈیا پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے کشمیر پر ایک بارپھر پاکستان کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے لیے کشمیر کی حیثیت وہی ہے جو چناق قلعے کی تھی۔ پاکستان میں کبھی بھی اپنے آپ کو اجنبی ملک میں محسوس نہیں کرتا، پاکستان اور ہمارا دکھ اور درد ایک ہے،پاکستان کی خوشی ہماری خوشی، اس کی کامیابی و کامرانی ہماری کامیابی اور کامرانی ہے،پاکستانی بہن بھائیو، آپ سے نہیں تو کس سے محبت کریں گے، فلسطین پر امریکی پلان امن نہیں قبضے کا منصوبہ ہے، انسداد دہشتگردی کیلئے پاکستانی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، مذاکرات کے ذریعے کشمیر کا حل چاہتے ہیں اپنے موقف پر قائم رہیں گے، ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے جمعہ کو پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔پارلیمینٹ آمد پر وزیراعظم عمران خان، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ترک صدر رجب طیب اردوان کا استقبال کیا ۔مشترکہ اجلاس میں مسلح افواج کے سربراہان، گورنر ز وزراءاعلی آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجا فاروق حیدر مہمانوں کی گیلری میں موجودتھے ۔ ترک صدر طیب اردوان نے کہا کہ پاکستان کے عوام کی خدمت میں ‘سلامِ محبت’ پیش کرتا ہوں اور دونوں ممالک کی قیادت کو یکجا کرنے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سرکاری دورے پر آپ سے مخاطب ہونا مسرت اور دلی خوشی کا باعث ہے، اس مشترکہ اجلاس سے خطاب کا موقع فراہم کرنے پر میں علیحدہ علیحدہ آپ سب کا شکر گزار ہوں۔ترک صدر نے کہا کہ میرے اسلام آباد میں قدم رکھنے کے ساتھ ہی جس طریقے سے پاکستان کے عوام نے خوشی اور محبت سے استقبال کیا، میں اس پر پاکستانی قوم اور اعلیٰ حکام کا تہہ دل سے مشکور ہوں، میں یہاں پاکستان میں کبھی بھی اپنے آپ کو اجنبی ملک میں محسوس نہیں کرتا۔رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان اور ترکی کے تعلقات سب کے لیے قابل رشک ہیں، سلطنت مغلیہ کے بانی ظہیر الدین بابر نے موجودہ پاکستان سمیت تمام خطے پر تقریبا 350 سال حکومت قائم رکھی اور ہماری مشترکہ تاریخ پر ان مٹ نقوش چھوڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 1915 میں جب ترک فوج چناق قلعے کا دفاع کررہی تھی تو اس محاذ سے 6 ہزار کلو میٹر دور اِس سرزمین پر ہونے والے مظاہرے اور ریلیاں ہماری تاریخ کے ناقابل فراموش صفحات پر درج ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں ہونے والے ان تاریخی جلسوں کا مرکز نگاہ چناق قلعے ہی تھا، ان جلسوں کا انتظام کرنے والے منتظمین دراصل چناق قلعے میں برسرپیکار ترک فوجیوں اور ترک قوم کی امداد کا مقصد لیے ہوئے تھے۔انھوں نے کہاکہ پاکستانی عوام کی مدد کو فراموش نہیں کرسکتے۔ پاکستان کے عوام نے اپنا پیٹ کاٹ کر جس طرح ضرورت کے وقت ترکی کی مدد کی ہم اسے کبھی فراموش نہیں کرسکتے نہ کریں گے،ہم ترکی کیلئے سجدے میں دعائیں کرنے والوں کیسے فراموش کر سکتے ہیں، پاکستان کے ساتھ تعلقات ہمیشہ قائم رہیں گے، ہمارا پاکستان کے ساتھ دل کا رشتہ ہے اور ہمارے لیے اس وقت کشمیر کی حیثیت وہی ہے جو آپ کے لیے ہے۔رجب طیب اردوان نے کہا کہ ترک تحریک آزادی کی حمایت میں پاکستانی خواتین نے اپنے زیور بیچ دیے، ہماری دوستی مفاد پر نہیں عشق و محبت پر مبنی ہے، ترکی اور پاکستان کے تعلقات ایسے ہیں جو شاید ہی دنیا میں کسی ممالک کے درمیان دیکھنا ممکن ہوں۔ پاکستان کا دکھ اور درد ہمارا دکھ اور درد ہے، پاکستان کی خوشی ہماری خوشی، اس کی کامیابی و کامرانی ہماری کامیابی اور کامرانی ہے۔ اس سوچ کے ساتھ ہم حالیہ کچھ عرصے میں پاکستان میں آنے والی قدرتی آفات، سیلاب اور زلزلے کی تباہ کاریوں کے موقع پر اپنے بھائیوں کی مدد کے لیے دوڑے۔ترک صدر نے کہا کہ پاکستانی بھائیوں کی جانب سے ترکوں کی دوستی پر پختہ یقین رکھنے کا طلبگار ہوں، ماضی کی طرح مستقبل میں بھی ہم پاکستان کا بھرپور ساتھ دینے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔رجب طیب اردوان نے کہا کہ اس دائرہ کار میں موجودہ دور کے اہم موضوع فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاسوں میں پاکستان پر ڈالے جانے والے سیاسی دبا و¿کے باوجود ہم پاکستان کی بھرپور حمایت کا پختہ یقین دلاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک تاریخی موقع ہے اور میری دعا ہے کہ اس سے مسلم امہ کو ایک قیادت ملے۔محترم ایوان کو سلام پیش کرتا ہوں، مشترکہ اجلاس سے خطاب باعث فخر ہے، خود کو اپنے گھر میں محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا تحریک آزادی میں برصغیر کے مسلمانوں کا جذبہ نا قابل فراموش ہے، کشمیر ہمارے لیے وہی ہے جو آپ کیلئے ہے، ہماری دوستی عشق اور محبت سے پروان چڑھی ہے۔ترک صدر کا کہنا تھا ہمارے دکھ اور خوشیاں مشترکہ ہیں، پاکستان کے ساتھ دل کا رشتہ ہے، پاکستانی بہن بھائیو، آپ سے نہیں تو کس سے محبت کریں گے۔ سرمایہ کاروں کے بڑے گروپ کے ساتھ پاکستان آیا ہوں۔ فناشل ٹاسک فورس کے معاملے پر پاکستان کو تعاون کا یقین دلاتا ہوں، مستقبل میں بھی پاکستان کا ساتھ دیتے رہیں گے، ہر دکھ، درد میں ساتھ دینے پر پاکستانی قوم کا شکر گزار ہوں۔رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ دعا ہے پاک ترک محبت ہمیشہ قائم رہے، اقتصادی ترقی چند دنوں میں حاصل نہیں ہوتی، اقتصادی ترقی مسلسل محنت اور جدوجہد سے ممکن ہوتی ہے، پاکستانی حکومت کے اقدامات سے تجارت کیلئے ساز گار ماحول بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا فلسطین پر امریکی پلان امن نہیں قبضے کا منصوبہ ہے، انسداد دہشتگردی کیلئے پاکستانی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، مذاکرات کے ذریعے کشمیر کا حل چاہتے ہیں، اپنے موقف پر قائم رہیں گے۔ترک صدر نے کہا عالمی برادری نے شام کے عوام کو تنہا چھوڑ رکھا ہے، ترکی شام کے عوام پر 40 ارب ڈالر خرچ کر رہا ہے، مظلوم مسلمانوں کو جابرانہ حملوں سے بچانا مقصد ہے، مظلوم مسلمانوں کا ساتھ دینا ہمارا مذہبی اور اخلاقی فرض ہے، ترک قوم 35 سال سے علیحدگی پسند تنظیموں سے نبرد آزما ہے۔ترک صدر نے اپنے خطاب میں مرزا غالب، حفیظ جالندھری اور علامہ اقبال کے اشعار کا بھی حوالہ دیا اور قائد اعظم کے افکار کا بھی ذکر کیا۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ خطاب کے بعد ترک صدر نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی قلمبند کئے۔ رجب طیب اردوان جب پارلیمنٹ ہاﺅس پہنچے تو وزیراعظم عمران خان نے ان کو خوش آمدید کہا، پارلیمنٹ ہاس میں ترک صدر کی تصویریں بھی آویزاں کی گئی تھیں۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ترکی کو بھی مشکل حالات کا سامنا رہا ہے، عزم و ہمت کے ساتھ ہم نے اپنی مشکلات پر قابو پایا، پاکستان اور ترکی کے درمیان سیاسی، دفاعی، تجارتی اور سرمایہ کاری روابط فروغ پا رہے ہیں، ہمارا دوطرفہ تجارتی حجم حقیقی صلاحیت سے کم ہے، پہلے مرحلے میں دوطرفہ تجارت کو ایک ارب ڈالر اور پھر بڑھا کر پانچ ارب ڈالر تک لے جانا ہوگا، ترک کمپنیاں پاکستان میں بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی خواہاں ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو یہاں پاک ترک بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ترکی کے صدر نے کہا کہ پاکستان ہمارا دوسرا گھر ہے جہاں آ کر مجھے بے حد خوشی ہوئی ہے۔ بہترین مہمانداری پر پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت عارف علوی کے ساتھ کل میری بات چیت ہوئی اور آج قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان سے خطاب کا موقع ملا۔ ہم نے اعلیٰ سطح پر اپنے تعاون کو بڑھایا ہے۔ بزنس فورم کا اجلاس ہمارے لئے مفید ثابت ہوگا جس میں بزنس کمیونٹی کے نمائندے شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے تعلقات اقتصادی شراکت سے اب سیاسی، تجارتی اور سرمایہ کاری روابط میں فروغ پا رہے ہیں۔ توقع ہے کہ پاکستانی قیادت سے ہونے والی ملاقاتیں دوطرفہ تعلقات میں مفید ثابت ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ سطح کے دوروں سے دوطرفہ تعاون کے نئے امکانات سامنے آتے ہیں۔ ہم دوطرفہ تجارت کو ایک ارب ڈالر سے پانچ ارب ڈالر تک لے جانا چاہتے ہیں۔ ترک صدر نے کہا کہ اعلیٰ سطح پر تذویراتی تعاون کونسل کا چھٹا اجلاس آج ہو رہا ہے۔ ہمیں اپنے تجارتی تعلقات کو اس سطح پر لے جانے کی ضرورت ہے جس کے وہ حق دار ہیں۔ پاکستان اور ترکی کا باہمی تجارتی حجم اپنی صلاحیت سے بہت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی ہے کہ ترکی کی کمپنیاں پاکستان میں توانائی، تعمیرات اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ ترکی کی کمپنیاں دفاع، صحت اور دیگر شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔ ہم تیل و گیس کے شعبے میں اپنی کمپنیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے کے قابل بنا سکتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے مسئلہ کشمیر، ایف اے ٹی ایف اور دہشتگردی سمیت دیگر تمام معاملات میں ہمیشہ ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا ترک صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ترکی نے صرف مسئلہ کشمیر پر ہی نہیں بلکہ ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر بھی کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج پھر سے میں ترک صدر طیب اردوان کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ پاکستانی عوام نے ان کی تقریر کو بہت پسند کیا۔ میں نے ترک صدر سے کہا کہ اگر وہ پاکستان میں الیکشن لڑیں تو کلین سوئپ کر جائیں گے۔ جس طرح کشمیریوں پر ظلم کے خلاف ترک صدر نے آواز بلند کی، میں پاکستانی قوم کی طرف سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر بھارت کا علاقہ نہیں ہے۔ کشمیر کے لوگوں کے 6 مہینے سے زیادہ قید میں رکھا گیا ہے، ان کے حقوق سلب کیے ہوئے ہیں۔ بھارت نے کشمیری لیڈرز اور نوجوانوں کو جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ ترکی اور پاکستان کے درمیان آج کے ایم او یوز پر دستخظ نئے دور کا آغاز ہے۔ دونوں ملکوں کے تجارتی معاملات میں نیا دور آ رہا ہے۔ ان چیزوں سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا۔ اس کے علاوہ اسلاموفوبیا کے خلاف ہم نے تعاون کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم دہشتگردی کیخلاف ترک موقف کی کھل کر حمایت کرتے ہیں۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پرتپاک استقبال پر میں پاکستان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ تین سال بعد پاکستان کا دورہ کرکے دلی مسرت ہوئی۔ میں پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتا ہوں۔ ترکی پاکستان کیساتھ کھڑا ہے اور ہمیشہ کھڑا رہے گا۔ ترک صدر نے کہا کہ 13 معاہدے پاک ترک تعلقات کی مضبوطی کا مظہر ہیں۔ سٹریٹجک تعاون کونسل دونوں ملکوں کے درمیان تعاون بہت اہم ہے۔ پاکستان اور ترکی کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال ہوا ہے۔ رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ ترکی کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے۔ ہم مقبوضہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردودوں کے مطابق پرامن حل چاہتے ہیں۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved