تازہ تر ین

مہنگائی پر قابو پانا ہے تو پٹرول ،بجلی گیس کی قیمتیں کم کریں ،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد
کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ بجلی اور گیس کے بلوں میں کمی ہو جائے تو مہنگائی میں کمی ہو جائے گی۔ بہت چیزوں پر غور ہونے والا ہے۔ وزیراعظم پے درپے اجلاس کر رہے ہیں انہیں ادراک ہے کہ عوام مسائل سے دوچاار ہے۔ یوٹیلیٹی سٹور پر جو ریلیف دیا جا رہا ہے اگر یوٹیلیٹی سٹور پر گھی، آٹا، چینی سستی ملے گی تو عام دکانوں پر ان چیزوں کی قیمتوں میں ضرور کمی آئے گی۔ فوری طور پر اثر نہیں پڑ سکتا ہے۔ وزیراعظم نے چینی صدر سے رابطہ کیا ہے اور کرونا وائرس سے انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کیا ہے اور چین نے شکریہ بھی ادا کیا جس طرح سے پاکستان نے ساتھ دیا۔ اٹارنی جنرل نے استعفی دے دیا۔ یہ ایسا معاملہ ہے اس پر کوئی قانون دان ہی جواب دے سکتا ہے۔ علی ظفر صاحب کا نام نئے اٹارنی جنرل کے لئے نام لیا جا رہا ہے وہ ایک سینئر قانون دان ہیں نگران حکومت میں وہ وزیر قانون بھی رہ چکے ہیں۔ بہر حال یہ فیصلہ حکومت نے کرنا ہے۔ حکومت نے اداروں کا دفاع کرنا ہوتا ہے اوراس نے وہی کیا حکومت کو اب بہت سی مشکلات ہیں اٹارنی جنرل کے استعفے سے ایک اور مشکل کا اضافہ ہو گیا ہے۔ وہ اٹارنی جنرل کا تقرر ہے جو بھی اٹارنی جنرل آئے گا اس کو جو لائن لینی ہے اس سلسلے میں پہلے ہی اختلافاتا موجود ہیں یعنی جوڈیشری کے اپنے درمیان اور حکومت کے درمیان لگتا ہے مشکل وقت ہے اس کو کسی بہت ہی سیانے اور سمجھدار آدمی کو آنا چاہئے جو اس مشکل سے حکومت کو نکال سکے۔ نیب آرڈی ننس کے تحت جو بعدنوانی کے کیسز میں ریلیف مانگنے والوں کی تعداد وہ 100 سے تجاوز کر چکی ہے۔ نیب ترمیمی آرڈیننس 2019ءسے لے کر بدعنوانی کے کیسز میں ریلیف مانگنے والے ملزمان 100 سے تجاوز کر چکے ہیں ابھی 3 افراد کو ریلیف ملا ہے جس میں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، بلال شیخ اور رسول خان شامل ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ ہم اس کیٹیگری میں آتے ہی نہیں ہیں۔ حکومت کے لئے ایک ایسے راستے پر چلنا جو کہ ایوان صدر اور چیف جسٹس صاحب کا دفتر اسٹیبلشمنٹ کے درمیان جو بیوروکریٹس ریلیف مانگ رہے ہیں۔ ان کا فیصلہ عدالتیں ہی کریں گی۔ راجہ بشارت کی نگرانی میں جو کمیٹی بنی تھی اپوزیشن نے آج اس کا بائیکاٹ کر دیا لہٰذا لگتا کہ وہ کسی نتیجے پر پہنچ سکیں۔ یکطرفہ طور پر حکومت اگر فیصلہ کر دیتی ہے کہ اس فیصلے کو مانا نہیں جائے گا، ہو سکتا ہے اسے کسی عدالت میں چیلنج کر دیا جائے۔ سوشل میڈیا پر یہ بحث عام ہے کہ مریم نواز صاحب کے جائے بغیر نوازشریف صاحب آپریشن کے لئے تیار نہیں اس لئے مریم نواز کو اجازت مل جائے اب کسی کورٹ آف لاءنے اجازت دینی ہے۔ اس کا فیصلہ کوئی بنیاد پر ہی کر سکے گی کہ مریم نواز کو باہر جانے کی اجازت ملتی ہے یا نہیں۔ نوازشریف کا 20 تاریخ کو آپریشن طے ہوا تھا معلوم یہی ہوا ہے کہ وہ ابھی تک متذبذب ہیں اور وہ اس کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اب اگر پنجاب حکومت فیصلہ کرتی ہے کہ ہم مریم نواز کو نہیں جانے دیں گے تو وہ فیصلہ چیلنج ہو جائے گا۔ میرا نہیں خیال ہے کہ وزیرقانون راجہ بشارت فوری طور پر کوئی فیصلہ کر سکیں۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved