تازہ تر ین

وزیر اعظم کا 880ارب ریلیف پیکیج کا اعلان

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وزیراعظم عمران خان نے ملک میں کرونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث معاشی سرگرمیوں میں آنے والے تعطل ،اس کے اثرات سے نمٹنے کےلئے تقریباً 880 ارب روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان کر دیا ۔ منگل کو حکومت اقدامات کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بدقسمتی ہے ملک میں فیصلے چھوٹے سے الیٹ طبقے کو دیکھ کر کیے جاتے ہیں غلط فیصلہ کرکے معاشرے میں تباہی نہیں لانا چاہتے۔وزیراعظم نے بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں15 روپے کی فوری کمی کی گئی ہے، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں 15 روپے فی لیٹر کمی ہوگی ۔انہوںنے کہاکہ بجلی اور گیس کے بل قسطوں میں ادا کیے جاسکتے ہیں، طبی سامان کےلئے 50 ارب روپے وقف کیا گیا جبکہ کھانے پینے کی اشیا پر بھی ٹیکس کم کر دیے گئے ہیں۔وزیراعظم نے بتایا کہ مزدوروں کے لیے 200 ارب روپے وقف کیے گئے ہیں اور ایکسپورٹ انڈسٹری کو فوری بنیاد پر 100 ارب روپے کے ٹیکس ری فنڈ فراہم کیے جائیں گے، چھوٹی صنعت اور زرعی شعبے کے لیے بھی 100 ارب روپے وقف کیے گئے ہیں اور ان کے لیے کم سود پر قرضے بھی دیے جائیں گے۔انہوںنے کہاکہ میں اپنے غریبوں کے بارے میں سوچتا ہوں کہ وہ ان حالات میں کہاں سے اپنے گھر کا چولہا جلائیں گے، اٹلی، چین جیسے معاشی حالات ہوں تو کرفیو لگانا آسان اقدام ہے۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے فیصلے ایک چھوٹی سے ایلیٹ کلاس کو دیکھ کر کیے جاتے ہیں،کرونا وائرس کے پیش نظر بھی لاک ڈاو¿ن کو لیکر عمومی سوچ یہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ معاشرے کے انتہائی غریب طبقے کے لیے 150ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں جس کے تحت ہر غریب خاندان کو 4 ہزار روپے ماہانہ فراہم کیے جائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ غریبوں کا خیال کیسے رکھنا ہے یہ سوچنے والی باتیں ہیں کیا ہمارے اتنے وسائل ہیں کہ کچی آبادیوں میں کھانا پہنچا سکیں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ یوٹیلٹی اسٹور کے لیے 50 ارب روپے مزید مختص کیے جائیں گے، گندم کی خریداری کے لیے 280 ارب روپے رکھے گئے ہیں تاکہ کسانوں کے ہاتھ میں پیسہ آئے اور کم سے کم دیہی علاقوں میں حالات قابو میں رہیں۔ وفاقی وزیر فوڈ سیکورٹی خسروبختیار نے قوم کو خوشخبری سنائی ہے کہ اپریل میں دالوں کی قیمت 35 سے 40 روپے مزید کم ہو جائے گی۔ قومی خوراک کی تفصیلات کا اعلان کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان میں غذائی ضروریات کے تحت اجناس موجود ہیں۔ 90فیصد عوام کی غذائی ضروریات کی اجناس ملک سے ہی پوری ہوتی ہیں۔ پچھلے سال 40لاکھ ٹن گندم جبکہ اس سال 82 لاکھ ٹن ذخیرہ کررہے ہیں۔ 80,82 لاکھ ٹن گندم اگلے چھ ہفتوں میں وفاق اور صوبائی حکومتوں کے پاس آجائے گی۔ پاکستان 70 لاکھ ٹن چاول پیداکرتا ہے 25 لاکھ ٹن ملکی ضروریات ہے اور باقی 35 لاکھ ٹن برآمد کرتے ہیں۔ ہم نے ایک ماہ پہلے پیاز کی برآمد پر پابندی لگا دی ہے پیاز ہماری ملکی ضروریات کیلئے کافی ہے وہ برآمد نہیں ہوسکتا ۔43 لاکھ ٹن آلو ملک میں پیدا ہوگا ۔ 40 لاکھ ٹن آلو کی ہمیں ضرورت ہے ۔ ہوسکتا ہے ہم آلو کی برآمد پر بھی پابندی لگادیں ۔ ٹماٹر سندھ سے ختم ہورہا ہے۔ پنجاب میں اسکی فصل آرہی ہے اور انشاءاللہ نظام چلے گا ۔پولٹری ہمارے ملک کیلئے کافی ہے پولٹری فیڈ کی سپلائی لائن کو یقینی بنائیں گے۔ بدقسمتی سے پاکستان 80 فیصد دالیں درآمد کرتا ہے ۔ ہمارے پاس ملکی ضروریات کے لئے 2ماہ کی دالیں ہیں ۔عالمی منڈی میں دالوں کی قیمتیں کم ہورہی ہیں۔ اپریل میں دالوں کی قیمت 35 سے 40 روپے مزید کم ہو جائے گی۔ ہمارے پاس گھی کا 80ہزار ٹن سٹاک ہے جبکہ 40ہزار ٹن گھی ہر ماہ استعمال ہوتا ہے۔ یوں گھی بھی دو ماہ کا اسٹاک ہے۔ گھی کی قیمتیں جنوری سے اب تک 200ڈالر فی ٹن کم ہوئی ہیں اور آئندہ بھی یہی توقع ہے ۔ مستقبل میں امپورٹڈ اجناس کی قیمتیں کم ہوتی نظر آرہی ہیں۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved