تازہ تر ین

کر و نا ا للہ کی طر ف سے آز ما ئش ،مشکل و قت میں غر یبو ں کی مد د کر یں ،کر و نا ٹر انسمیشن میں گفتگو

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا بھر میں کورونا کے باعث تباہ کاریاں جاری ہیں جنہیں کنٹرول کرنا کسی چیلنج سے کم دکھائی نہیں دیتا۔ اس حوالے سے پاکستان بھی سرگرم کوششیں کر رہا ہے۔ لاک ڈاﺅن کے باوجودملک میں مریضوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ اب تک کورونا کے باعث پاکستان میں 9ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ چینل فائیو کی کرونا کے حوالے سے”کورونا سپیشل ٹرانسمیشن “ میں گفتگو کرتے ہوئے عالم دین ہما تقوی نے کہا ہے کہ ملک میں اس وقت مشکل مرحلہ ہے ، اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی جگہوں پرانسانوں کو امتحان کی وعید سنائی ہے ۔ کورونا امتحان ہو سکتا ہے مگر اسمیں ہماری ذمہ داری بطور مسلمان اور انسان بہت بڑھ چکی ہے کہ ہم دیکھیں ہمارا رابطہ پروردگار کیساتھ کیسا ہے، شکرگزار ہیں، ناشکرے یا حالات سے گھبرانے والے ہیں۔ اللہ انسان کے درجات کو بلند کرنے کے لیے امتحان لیتا ہے۔ پاکستان کے حکمرانوں کا مساجد کو جزوی طورپر بند کرنے کے فیصلے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں، اس وقت بڑی ذمہ داری انسانیت کی بقا ہے۔ عوام سے درخواست ہے کہ لوگ گھروں میں رہیں ، وباﺅں میں بہترین طریقہ احتیاط ہے کہ خود کو گھروں میں محدود کر لیا جائے۔ کوئی مسلمان نہیں چاہتا کہ خدا کا گھر ویران ہو جائے ، اس وقت خدا نے موقع دیا ہے کہ عوام اپنے گھروں کو مساجد میں تبدیل کر لیں، گھروں کی صفائی کریں، پیراہن صاف رکھیں۔ اسکے بدلے میں اللہ انسان کے دلوں کو صاف کرے گا۔ ہمارے آئمہ معصومین و صحابہ کرام علیہ السلام نے اپنی زندگیوں میں مشکل حالات استقامت کیساتھ گزارے ہیں۔ امام زین العابدین نے کہا ہے کہ مصیبت آنے پر انسان کا اپنا عمل بتائے گا کہ وہ اللہ کا عذاب ہے یا امتحان ہے۔ اگر مشکل وقت میں زبان پر شکایت آجائے تو یہ خدا کا عذاب ہے۔ ماہر علم نجوم عالیہ نذیر نے کہا ہے کہ کورونا سنجیدہ چیلنج ہے ، گزشتہ سال دسمبر کو علم نجوم سے وابستہ تمام لوگوں نے کہاکہ آنیوالے حالات کو پریشان کن کہا تھا کہ تیسری جنگ عظیم کی جانب دنیا جاسکتی ہے مگر ایسا نہیں ہوا اور کورونا جیسی پریشانی کا شکار ساری دنیا ہو گئی۔ کورونا سے 30مارچ تک زیادہ مسائل ہوں گے ، 15اپریل کے بعد نظام زندگی بحال ہونا شروع ہو جائے گا۔ اسی طرح کے واقعات 1915ءسے 1920ءتک ہوئے تھے ۔ ان واقعات کیوجہ قدرت آپکو کچھ سکھانا چاہتی ہے جسے ہم نہیں سمجھتے۔ ہمیں قدرت سے قریب ہونا ہے ، اپنا زندگی گزارنے کا ڈھنگ بدلنا ہے اور مذہب اور روحانیت کو زندگی میں شامل کرنا ہے۔ پاکستان میں کورونا سے زیادہ نقصان اس لیے نہیں ہوا کہ ابھی یہاں مذہبی روایات و اقتدار باقی ہیں، مستقبل میں بھی زیادہ نقصان نہیں ہوگا۔ برج جدی میں پلوٹو اور دیگر سیارے ایک ہزار سال بعد ملے ہیں جسکے باعث ہمیں اس پریشان صورتحال کا سامنا ہے جسکی وجہ دنیا کا قدرت سے دور ہونا ہے۔ اللہ نے دنیا کو احساس دلایا ہے کہ لوگ ایکدوسرے کی قدر کریں آج جن سے وہ ہاتھ ملانے کو ترس رہے ہیں۔ پاکستانیوں کو کورونا سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے ۔ کورونا ایک دھکا ہے جو پاکستانی کی معیثت کی بہتری کی جانب ہے ۔ پاکستان کی معیثت کا عروج آئے گا، مگر احتیاط لازم ہے۔ اگست 2020ءپاکستان کی ترقی کا مہینہ ہے جو ستاروں میں لکھ دی گئی ہے ۔ پاکستان ان حالات سے آگے نکل جائے گا اور بہت ترقی کرے گا۔ وزیراعظم عمران خان کے ستارے اگست سے ستمبر تک چمکتے نظر آرہے ہیں، یہ وقت پاکستان کے ستاروں کا ہے اور عمران خان کے ہاتھوں ہی پاکستان بہت آگے جائے گا اور وزیراعظم پاکستان کے لیے بے لوث جدوجہد میں کامیاب رہیں گے۔ معروف گلوکار وارث بیگ کا کہنا تھا کہ پوری دنیا کورونا سے جنگ لڑ رہی ہے۔ پاکستانی عوام سے درخواست ہے کہ زیادہ سے زیادہ گھروں میں رہیں ورنہ کورونا بڑھتا جائے گا۔ لوگ بازار میں راشن اور اشیائے ضروریہ لینے بھی جائیں تو صرف ایک شخص جائے۔ حکومت پاکستان کورونا سے نمٹنے کے لیے بہترین اقدامات کر رہی ہے، عوام کے لیے گھروں میں بیٹھے ڈاکٹرز سے رجوع کے لیے ایپ بنائی گئی ہے۔ چین کے بعد پاکستان ہی دوسرا ملک ہو سکتا ہے جو کورونا کے خلاف جنگ میں کامیاب ہو سکتا ہے مگر اسکے لیے عوام کو حکومت کا ساتھ دینا ہوگا۔ متاثرہ افراد کی تعداد بڑھتی گئی تو لاک ڈاﺅن بھی مزید بڑھے گا، اگر کسی کو اپنی حالت خراب محسوس ہو تو حکومت کی جانب سے قائم کردہ ہیلپ لائن پر کال کریں ۔ میں گذشتہ 7دن سے گھرمیں ہوں ، میری فیملی بھی گھر سے باہر نہیں گئی ، اگر کوئی ملازم باہر جاتا ہے تو واپسی پر اپنی صفائی کا خاص خیال رکھتا ہے ۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر عبدالرزاق نے کہا ہے کہ کورونا سے بچاﺅ عوام پر منحصر ہے کہ وہ حکومتی احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔ یہ بہت خطرناک بیماری ہے ، اسے بہت سنجیدگی سے لیں ۔ کورونا کا واحد حل صفائی اور گھر پر رہ کر احتیاطی تدابیر اپنانا ہے۔ اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ ہمیں احتیاطی تدابیر بارے پتا چل گیا ہے۔ ایک دو ہفتے زیادہ مشکل ہیں، امید ہے جلد ہم اس وائرس سے نجات حاصل کر لیں گے۔ پاکستانی مسلمان اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی جانب رجوع کریں اور اپنے گناہوں سے توبہ کریں۔ عوام حکومت کی جانب سے ملنے والی تمام ہدایات پر دل سے عمل کرے میرا قوم کو یہی پیغام ہے۔ اللہ رمضان سے قبل ہمیں اس وباءسے نجات دیں گے۔ گلوکار حامد ولی نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بطور قوم ہمیں ایکدوسرے کا ساتھ دیتے ہوئے حکومت کی تمام تر ہدایات پر عمل کرنا ہے ۔ تب ہی کورونا سے نجات حاصل ہو سکتی ہے۔ عوام گھروں میں رہیں ، بچوں کے لیے بہت احتیاط کریں ، انہیں لیکر بالکل باہر مت جائیں۔ پوری دنیا اس مسئلے کا سامنا کر رہی ہے اور لوگ چھٹیوں کو سیر و تفریح کا سامان کر رہے ہیں، بچے گلیوں میں کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ ایسے لوگوں سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتا ہوں اپنے پیاروں کا خیال کریں ۔جن لوگوں کو اللہ نے قابل کیا ہے کہ وہ گھروں میں کھانے کا سامان ذخیرہ کیے ہوئے ہیں وہ ان لوگوں کا بھی خیال رکھیں جو اس قابل نہیں ہیں۔ اس وقت زکوة کے علاوہ بھی اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ دوکاندار حضرات مفافع خوری چھوڑیں اور عوام کی خدمت کریں ۔آغا خان ہسپتال کراچی سے ڈاکٹر سیمی جمالی نے کورونا سپیشل ٹرانسمیشن میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے کورونا کے حوالے سے لاک ڈاﺅن سمیت تمام اقدامات بے حد مفید ہیں۔ عوام 15سے 20روز کی تکلیف اٹھا لیں تاکہ اس تکلیف سے بچ سکیں کہ اپنے پیاروں کو کھو دیں۔ لوگ ایکدوسرے سے فاصلہ اختیار کریںاور گھروں میں رہیں۔ حکومت کی جانب سے راشن کے سٹورز اور کھانے پینے کی دوکانیں کھلی ہیں ، عوام پریشان نہ ہوں۔ رسول کریم ﷺ نے ہمیں ہدایت کی ہے کہ خیال رکھو تمہارا پڑوسی بھوکا نہ سو جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں پھر سے انسانیت کی جانب لارہے ہیں۔ لوگوں سے گھروں پر جاکر نہ ملیں ، سوشل میڈیا اور فون کال کے ذریعے رابطہ کریں۔ اس وقت ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف عوام کی خدمت کے لیے گھروں سے باہر نکلے ہوئے ہیں۔ آئسولیشن میں کام کرنے والے ڈاکٹرز کے لیے حفاظتی کٹس کی قلت ہوتی نظر آرہی ہے۔ تھیلیسیمیا کے مریضوں کو مشکل میں ہیلپ لائن پر رابطہ کرنا چاہئے ، انہیں خون کا عطیہ ضرور مل جائے گا۔ دل کے عارضے میں مبتلا لوگوں کو کورونا میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ لوگ کلونجی کا استعمال جاری رکھیں۔ معروف اداکار مصطفیٰ قریشی نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستانی قوم نے ہمیشہ چیلنجز کا مقابلہ کیا ہے اور کامیابی نے ہمارے قدم چومے ہیں۔ کورونا کے خلاف احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا بہت ضروری ہے۔ عوام خود بھی بچیں اور دوسروں کو بچانے کا بھی ذریعہ بنیں۔ لوگ گھروں میں بیٹھ کر کتابیں پڑھیں، تاریخ پڑھیں، قرآن کریم کی تلاوت اور نوافل پڑھیں ، اس طرح وقت اچھا گزرے گا۔ ہمیں اللہ کو راضی کرنا ہے اور اپنے گناہوں سے توبہ کرنا ہے ۔ لوگ شیطان کے پیروکار ہوگئے تھے، ظلم و بربریت کے دور ہورہے تھے، ہوا کا طوفان آیا، سیلاب اور زلزلے آئے، پتھروں کا عذاب آیاجو اللہ کی جانب سے ہمیں تنبیح ہے۔ پاکستان میں لاکھوں لوگ ایسے ہیں جو صاحب ثروت ہیں ، وافر دولت رکھتے ہیں ، ایسا ہر شخص دیہاڑی پر کام کرنے والے 5 ، 5 گھروں کے راشن کی ذمہ داری لے ۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر مشتاق احمد نے کہا ہے کہ ہمارے مالک کی طرف سے یہ آزمائش ہے اور وہی اسے دور کر سکتا ہے ، ہمیں اللہ کی طرف ہی رجوع کرنا ہے۔ ہم اللہ کی طرف جب بھی رجوع کرتے ہیں ہم امن میں رہتے ہیں ۔ دنیا میں سب سے بڑا ڈر موت کا ہے اور مسلمانوں کو بتایا گیا ہے کہ موت تمہارے تعاقب میں ہے ، تمہیں ایک رو ز اللہ سے ملنا ہے۔ اللہ کی نعمت ہے کہ وہ حالات بنا کر ہماری توجہ اپنی جانب مبذول کرواتا ہے ۔ ہم مشینیں بن گئے تھے اور مشینیں کوئی احساس نہیں رکھتیں۔ پاکستانیوں میں اللہ نے ایک خوبی رکھی ہے کہ وہ مشکل حالات و آفات میں دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ اس وقت پوری قوم کے لیے توبہ و استغفار کی ضرورت ہے۔ مساجد کی بجائے گھروں میں عبادات ادا کریں۔ ٹی وی اداکار احسن خان نے کہا ہے کہ کورونا وباءہے یا آفت یہ ہماری آزمائش ہے۔ ہم دین کے حکم کے مطابق اس آزمائش میںکیسے صبر کرتے ہیں، ایکدوسرے کی مدد کرتے ہیں ، ہمیں غور کرنا چاہئے۔ ہماری حکومتی و دیگر سیاسی جماعتوں اور عوام کو اس صورتحال میں ایک ہو جانا چاہئے ۔ لاک ڈاﺅن اور صفائی ہی واحد حل ہے کہ کورونا سے بچا جاسکے۔ اٹلی کا فیملی سسٹم بھی پاکستان سے ملتا ہے مگر وہاں وباءکا بہت زیادہ پھیلنا اس لیے تھا کہ وہ لوگ ایکدوسرے سے رابطے میں تھے، ہمیں سمجھنا چاہئے کہ ہمیں ایکدوسرے سے فاصلہ رکھنا ہے۔ ہماری معیثت پر اثر ضرور پڑے گا مگر ہسپتالوں پر زور نہیں پڑے گا، لوگوں کو جان کا خطرہ نہیں ہوگا۔ مذہبی علماءکے ذریعے عوام کو احتیاط کیساتھ گھروں میں بیٹھ کر عبادت کرنے کا پیغام دیا جائے تاکہ گناہوں کا کفارہ بھی ادا ہو اورلوگوں میں اچھی بات پہنچائیں جس سے کسی کا نقصان نہ ہو۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved