تازہ تر ین

کرونا کا مذاق اڑانے والے ممالک مین سب سے زیادہ اموات،فاخر محمود

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کی کورونا اسپیشل ٹرانسمیشن میں گفتگو کرتے ہوئے گلوکار فاخر محمود نے کہاہے کہ دنیا کے بڑے بڑے ملک بھی کورونا کے عذاب سے نہیں بچ سکے جو اسکا مذاق اڑا رہے تھے۔ یو کے اور امریکہ کے حکمران اسے غیر سنجیدگی سے لے رہے تھے، امریکہ میں دو سے ڈھائی ہزار لوگ روز جانیں گنوا رہے ہیں اور برطانیہ میں روزانہ کی بنیاد پر ایک ہزار افراد کورونا سے متاثر ہو رہے ہیں۔ دکھ ہوتا ہے کیونکہ ساری انسانیت ہماری اپنی ہے، اللہ کرے یہ عذاب بہت جلد ہٹ جائے۔ کورونا کو غیر سنجیدہ نہیں لینا، اس سے گھبرانا بھی ہے اور ڈرنا بھی تب ہی احتیاطی تدابیر اختیار کی جاسکیں گی۔ اللہ کرے ہماری بچپن کی ویکسینیشن ہمیں بچا لے مگر کسی بھی لمحہ دنیا کے باقی ممالک کی طرح کورونا پاکستان میں بڑھ سکتا ہے۔ لوگوں کو اپنے پاس موجود رقم سنبھال کر رکھنی ہے ، فضول خرچی نہیں کرنی اور ذخیرہ اندوزی بھی نہیں کرنی۔ بچوں کو گھر میں رکھیں، بزرگوں سے دور رہیں کیونکہ وہ جلد کورونا کا شکار ہو سکتے ہیں۔ باہر سے آنیوالے افراد گھر میں داخل ہوتے ہی اپنی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ پاکستان میں لاک ڈاﺅن سخت نہیں ہے،کھلی فضا میں سانس لینے کے لیے چھتوں پر جائیں ، گھروں سے باہر مجمع نہ لگائیں کیونکہ آپ نہیں جانتے آپکا دوست کوئی آپکا پیارا کن لوگوں سے مل کر آیا ہے، آپکو یہ وائرس نہیں لگ سکتا تو یہ آپکی بھول ہے۔ کورونا وائرس ہالی ووڈ کی عجیب و غریب فلموں کے سکرپٹ جیسا لگتا ہے۔ گھروں میں دعوتوں سے پرہیزکریں ، یہ بڑی لاپرواہی ہے۔ حکومت پاکستان نے کورونا کے خلاف دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت بہتر اقدامات کیے ہیں، تما م صوبائی اوروفاقی حکومت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ اسلام کے نام پر بننے والے پاکستان میں ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری جیسے کام ہورہے ہیں، ہمیں دین کو الگ رکھ کر پہلے بہتر انسان بننا ہے۔ ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری و کرپشن سرکس ہے، چلتا رہا ہے اور چلتا رہے گا۔ چینی رپورٹ کے حوالے سے صرف باتیں ہیں، کچھ نہیں ہونے والا۔ پاکستانی ڈاکٹرز، فوج، پولیس اور میڈیا کو سلام پیش کرتے ہیں، انکی حفاظت کے لیے کٹس کی فراہمی لازمی ہے،میڈیا اپنے ملازمین کی حفاظت کے لیے اقدامات کرے۔ عالم دین علامہ پیر شفاعت رسول نے کہا ہے کہ کورونا کیوجہ سے خوف فطرطی عمل ہے کیونکہ موت کا عمل انسان کو پریشان کرتا ہے۔ قرآن و حدیث پڑھیں تو بڑی جلیل القدرشخصیات کی جب موت کا وقت آیا تو انکی آنکھوں میں آنسو، استغفاراور رب سے تعلق کی باتیں تھیں۔ کسی بھی بیماری سے ڈرنا نہیں چاہئے ، کیونکہ نفسیاتی اثر سے انسان میں بیماری کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ دنیا کے بڑی ایٹمی طاقتیں اس وقت کرونا کے خلاف بالکل بیکار ہیں ، اللہ اپنی فطرت اس نظام کے ذریعے پیدا کر رہا ہے کہ ہر چیز اللہ کی طرف سے ہے اور کوئی کام اللہ کو عاجز نہیں کر سکتا۔ جس طرح نمرود کے ذہن میں یہ بات آگئی تھی کہ اب مجھے کوئی نیچا نہیں کر سکتا تو اللہ کے حکم سے اسکے دماغ میں کیڑا ایک وائرس داخل ہوا جس نے اسے اتنا پریشان کیا کہ اسکے ذہن پر جوتے مارے جاتے تو وہ کیڑا تنگ کرنا کم کردیتا۔اپنے آپ کو وقت کا فرعون سمجھنے والوں کو اللہ کی جانب رجوع کرتے ہوئے معافی اور توبہ استغفار کرنی چاہئے۔ پاکستان میں زیادہ پریشانی نہیں مگر اس خوف نے ہماری رہی سہی معیثت بھی تباہ کر دی ہے ہمیں بھی توبہ کرنی چاہئے کہ ہم فاقوں کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ فاقوں کی وجہ سے کل کو قانون، امن و امان، سلامتی اور مذہب کو خطرہ ہو سکتا ہے، ہمیں اللہ سے اجتماعی توبہ کرنا چاہئے۔


اہم خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved