تازہ تر ین

امریکہ نے بھی پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی لگا دی

(ویب ڈیسک )امریکہ کے محکمہ ٹرانسپورٹ نے پاکستان کی قومی فضائی کمپنی، پی آئی اے، کو امریکہ تک خصوصی پروازیں چلانے کے حوالے سے دیا جانے والا خصوصی اجازت نامہ بھی منسوخ کر دیا ہے۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پی آئی اے کے ترجمان نے امریکی پابندی کی تصدیق کرتےہوئے کہا ہے کہ پائلٹس کے جعلی لائسینس کے سکینڈل کے بعد یورپ اور امریکہ نے اس نوعیت کے فیصلے کیے ہیں۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق محکمہ ٹرانسپورٹ نے بھی اجازت نامے کی منسوخی کی بڑی وجہ پاکستانی پائلٹس کی اسناد پر خدشات کو قرار دیا ہے۔یہ معلومات یکم جولائی کو جاری کیے گئے ایک ہدایت نامے میں موجود ہیں جس میں ذکر کیا گیا ہے کہ پی آئی اے کا خصوصی اجازت نامہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اور یہ دستاویز محکمہ ٹرانسپورٹ نے جمعے کو روئٹرز کو فراہم کی ہیں۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ نے قومی ایئر لائن پر امریکی پابندی کی تصدیق کی ہے۔ اس حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ ’ہم امریکی خدشات کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔‘عبداللہ حفیظ کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کے پائلٹس کے جعلی لائسینس کا سکینڈل سامنے آنے کے بعد پہلے یورپ اور پھر امریکہ نے یہ فیصلہ لیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے پاکستان سے براہ راست امریکہ جانے کے لیے 12 پراوزوں کو منظوری ملی تھی۔لیکن اب امریکی حکام نے خصوصی پروازیں چلانے کا یہ اجازت نامہ منسوخ کر دیا ہے۔ عبداللہ حفیظ کے مطابق ’ان 12 پروازوں میں سے سات پروازیں امریکہ گئی تھیں اور اس فیصلے کے بعد رہ جانے والی پانچ پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔‘ترجمان کا کہنا ہے کہ کورونا کی وبا سے قبل پی آئی اے اور امریکی حکام کے ساتھ براہ راست امریکہ تک پروازیں چلانے کے بارے میں مذاکرات ہوئے تھے۔ پی آئی اے ترجمان کے بقول ان مذاکرات میں بڑی حد تک پیش رفت ہوئی تھی۔اُنھوں نے کہا کہ امریکی حکام نے پاکستانی حکام کو زبانی طور پر اس بات کی یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ اُنھیں براہ راست امریکہ تک پروازیں چلانے کی اجازت دے دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اب پاکستانی حکام امریکہ سے دوبارہ مذاکرات کی کوشش کریں گے جس میں ان معاملات کو طے کیا جائے گا۔واضح رہے کہ اس سے پہلے امریکہ جانے والی پی آئی اے کی پروازیں برطانیہ میں رُک کر سکیورٹی کلیرنس کے بعد امریکہ جاتی تھیں۔‘یورپی یونین کی طرف سے پائلٹس کے جعلی لائسنس کی وجہ سے پی آئی اے پر پابندی کے بعد پی آئی اے کے حکام اور یورپی یونین کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور پی آئی اے کے حکام اُنھیں اس بات کی یقین دہانی کروانے کی کوشش کر ہے ہیں کہ وہ اس معاملے میں اقدامات کر ر ہے ہیں۔تاہم یورپی یونین کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ لائسنس کے معاملے پر پی آئی اے کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ پاکستان میں سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے لائسینس جاری کیے جاتے ہیں۔پی آئی اے کے ذرائع کے مطابق یورپی یونین کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ جب تک پاکستانی حکومت اور پائلٹس کو لائسینس جاری کرنے والے ادارے یعنی سول ایوی ایشن حکام کی طرف سے اس بات کی یقین دہانی نہیں کروائی جاتی کہ وہ اس معاملے پر فوری اور ہنگامی اقدامات کر رہے ہیں، اس وقت تک ان مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہو سکتی۔جعلی لائسینس سکینڈل کے بعد یورپ اور امریکہ کے لیے فلائٹس پر پابندی کی وجہ سے پی آئی اے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔لیکن پی آئی اے کے ترجمان نے امید ظاہر کی ہے ان معاملات کو حکومت کی جانب سے قومی ایئر لائن میں بہتری کے ذریعے دور کیا جائے گا۔یاد رہے کہ گذشتہ ماہ پاکستان نے اپنے ایک تہائی کے قریب ہوا بازوں کو اس وقت گراؤنڈ کر دیا تھا جب یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ ان میں سے کئی ممکنہ طور پر جعلسازی کے ذریعے اسناد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔یورپی یونین کی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی پہلے ہی پی آئی اے کو یورپی یونین کے ممالک تک پرواز کرنے کی اجازت چھ ماہ کے لیے معطل کر چکی ہے۔مئی میں پی آئی اے کی پرواز کو کراچی میں حادثہ پیش آیا تھا جس میں 97 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ پائلٹس کو گراؤنڈ کرنے کے احکامات اس حادثے کے بعد جاری کیے گئے تھے۔اس حوالے سے پاکستان کے وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں بیشتر پائلٹس کی ڈگریاں جعلسازی کے ذریعے حاصل کی گئی ہیں۔جون کے آواخر میں پی آئی اے نے غیر ملکی سفیروں اور شعبہ ہوا بازی کے عالمی نگراں اداروں کو مطلع کیا تھا کہ پی آئی اے سے وابستہ مشتبہ لائسنس کے حامل تمام 141 پائلٹس کو گراؤنڈ کر دیا گیا ہے۔اس حوالے سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پی آئی اے سے وابستہ مشکوک لائسنس کے حامل 141 پائلٹوں میں سے 17 پائلٹ پہلے ہی معطل تھے تاہم اب باقی رہ جانے والے پائلٹس کو بھی گراؤنڈ کر دیا گیا ہے۔پی آئی اے نے ان تمام 141 پائلٹس کی ناموں کی فہرستیں بھی جاری کی ہیں۔تاہم پاکستان میں پائلٹس کی نمائندہ تنظیم پاکستان ایئرلائن پائلٹس ایسوسی ایشن (پالپا) نے اس فہرست پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ تمام لائسنس سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے خود جاری کیے گئے ہیں۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved