تازہ تر ین

پنجاب، سندھ میں ضلعی سطح پر کرپشن اے سی، ڈی سی، تھانیدار تنگ کرے تو سٹیزن پورٹل پر شکایت کریں، عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا غلط کام پر افسر کا تبادلہ کرنے کے بجائے برطرف کیا جائے گا، عوام رشوت مانگنے والے کی شکایت پاکستان سٹیزن پورٹل پر بھیجیں ، یہ پورٹل مدینہ کی ریاست کی جانب ایک اہم قدم ہے ،اس سے اداروں،بیوروکریسی اور وزرا کی کارکردگی جانچنے میں مدد مل رہی ہے ،مقامی حکومتوں کے نئے نظام سے انقلاب آئے گا اور عوام کے مسائل ان کے اپنے شہر میں حل ہوں گے ، مساجد کو کسی صورت بند نہیں کیا جا سکتا تاہم کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد ضروری ہے ۔تفصیلات کے مطابق پاکستان سٹیزن پورٹل کی دو سالہ کارکردگی کے حوالے سے خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا پاکستان سٹیزن پورٹل کی ٹیم نے جس عزم سے یہ یونٹ چلایا ہے وہ مبارک باد کے مستحق ہے ، پاکستان میں نئی سوچ اور نیا رجحان آرہا ہے ، بدقسمتی سے آزادی ملنے کے بعد حکومت میں جو لوگ آئے ان کی ذہنیت نہیں بدلی اور وہ سمجھتے رہے کہ انگریزوں کی جگہ اب وہ آگئے ہیں، انگریز غلاموں پر حکومت کر رہا تھا اور غلاموں کے وہ حقوق نہیں ہوتے جو آزاد شہریوں کے ہوتے ہیں، عوام کی خدمت کرنا حکومت کا فرض ہے ، وزیر اعظم نے کہا پاکستان سٹیزن پورٹل کا قیام مدینہ کی ریاست کی طرف سفر کا اہم قدم ہے ، مدینہ کی ریاست دنیا کی تاریخ میں وہ پہلی فلاحی ریاست تھی جہاں کمزور،یتیم اور ضعیف سب کی ذمہ داری ریاست نے لی،پاکستان میں اب تک 30 لاکھ لوگوں نے پورٹل استعمال کیا ہے ، اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کس حکومت یا ادارے کے خلاف کتنی شکایات ہیں، سٹیزن پورٹل میں سب سے بڑا مسئلہ سامنے آیا کہ لوکل گورنمنٹ سسٹم ٹھیک طرح سے کام نہیں کرتا لیکن اب شہری حکومت بھی صوبوں کی طرح ہوگی، ہم ایسا لوکل گورنمنٹ نظام لارہے ہیں جس سے تبدیلی آجائے گی ، نچلی سطح پر فنڈز جائیں گے ، گائوں کے لوگ اپنے نمائندوں کا چنائو خود کریں گے ، دنیا میں شہری مسائل مقامی حکومتیں حل کرتی ہیں ، کراچی پشاور سمیت بڑے شہروں میں براہ راست انتخابات ہوں گے اور اپنی حکومتیں بنیں گی،ان کے مسائل اپنے شہروں میں ہی حل ہوں گے ، تارکین وطن پاکستان کا اثاثہ ہیں،ان کی مشکلات اور مسائل سٹیزن پورٹل کے ذریعے حل ہو رہے ہیں۔انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں سے کہا کہ وہ سٹیزن پورٹل کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔وزیراعظم نے کہا سندھ اور پنجاب میں ضلع کی سطح پر کرپشن سے لوگ بہت تنگ ہیں، کوئی اے سی، ڈی سی یا تھانیدار تنگ کرے تو لوگ سٹیزن پورٹل پر شکایت کریں، اب تبادلہ نہیں ہوگا بلکہ کرپٹ افسر نوکری سے جائے گا ، عوام بے بس نہیں ہوں گے ۔ ہم سٹیزن پورٹل کو مزید بہتر اور مضبوط کریں گے ، سٹیزن پورٹل سے عوام کے اختیارات بڑھیں گے ، بیوروکریسی کا معیار اوپر جائے گا، سول سرونٹس کیلئے اصلاحات بھی لارہے ہیں، اداروں کی کارکردگی کا علم ہوگا تو سزا و جزا دینا آسان ہو جائے گا، مزید لوگ سٹیزن پورٹل کا استعمال کریں ، اس سسٹم سے مجھے یہ جاننے میں آسانی رہے گی کہ کون سا ادارہ یا وزارت کام کر رہی ہے ،کون سا بیوروکریٹ یا وزیر کام کر رہا ہے اس سے جزا و سزا کا نظام آسان ہوگا اور اس کا احتساب کر سکیں گے ،ایسے افسروں کی ترقی اور ان کے خلاف کارروائی میں آسانی ہوگی۔ قبل ازیں وزیر اعظم کو پاکستان سٹیزن پورٹل کی دو سالہ کارکردگی کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔سینیٹر فیصل جاوید نے نظامت کے فرائض سر انجام دئیے ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے ریڈیو سکول اور ای تعلیم پورٹل کا افتتاح بھی کیا ، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ایک نصاب ایک قوم بنائے گا،دینی مدارس کو قومی دھارے میں لانا ایک اہم خدمت ہے ،تعلیم کے عمل میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال خوش آئند ہے ، اس سے دور دراز علاقوں میں معیاری تعلیم پہنچانے میں مدد ملے گی، وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اب ہمیں خصوصی طور پر دوردراز علاقوں میں اساتذہ کی تربیت پر توجہ دینا ہوگی جس سے ان علاقوں کے تعلیمی معیار میں بہتری آئے گی۔وزیراعظم نے نیشنل ایجوکیشن پالیسی کو بھی جلد سے جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا میں نے گورنمنٹ کالج کے پہلے پرنسپل کی کتاب کا مطالعہ کیا جس میں انہوں نے لکھا 1857 کے بعد کیسے انگریزوں نے مسلمانوں کے تعلیمی نظام کو تباہ کیا ، اس وقت دینی مدارس میں ہندو اور سکھ بھی تعلیم حاصل کرتے تھے جبکہ یہاں پر جدید علوم پڑھائے جاتے تھے تاہم بعد ازاں دینی مدارس کو آئسولیٹ کر دیا گیا، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو تعلیم کے حوالے سے ماڈل بنایا جائے ، علاوہ ازیں وزیر اعظم عمران خان کی صدارت میں موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی کے نفاذ کے حوالے سے اجلاس ہوا۔ جس میں بتایا گیا کہ موبائل فون کے حوالے سے پاکستان ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے ، ملک میں سالانہ تقریباً چار کروڑ موبائل فون خریدے جاتے ہیں۔ ڈی آئی آر بی ایس سسٹم کے اطلاق کے بعد ملک سے موبائل فون سمگلنگ کا خاتمہ ہوگیا ہے جس کی وجہ سے ریونیو 22 ارب سے بڑھ کر 54 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے ۔ اس سسٹم کے اطلاق کے بعد اب کئی انٹرنیشنل کمپنیاں پاکستان میں مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ میں دلچسپی ظاہر کر رہی ہیں۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا ہمارا مقصد ملک میں صنعتی پیداوار کو بڑھا نا ہے ۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بیرونی سرمایہ کاری اور صنعتکاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے اور تمام ممکنہ سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے ۔ علاوہ ازیں وزیراعظم سے معروف کاروباری شخصیت جاوید آفریدی نے بھی ملاقات کی، جن سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے غربت کے خاتمے کیلئے چینی ماڈل میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہاپاکستان میں بھی ایساہی ماڈل لایاجائے گا۔ ملاقات میں چینی موبائل فون کمپنی ہواوے کے منیجنگ ڈائریکٹربھی شریک تھے ۔ جاویدآفریدی نے وزیراعظم کوغربت کے خاتمے کا چینی ماڈل پیش کیا۔ مزیدبرآں وزیر اعظم عمران خان سے وزیرِ مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے ملاقات کی جس میں وزیرِ اعظم نے وزارتِ مذہبی امور کو کورونا وائرس کی وبا کے حوالے سے علما اور این سی او سی کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی اور کہا کہ وزارتِ مذہبی امور علما و مشائخ کو کورونا وائرس کی وبا کے پھیلائو کے اعداد وشمارکی فراہمی یقینی بنائے تاکہ دینی مواعظ اور خطبات میں کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کی تاکید منبر کے ذریعے ممکن ہو،پیر نور الحق قادری نے وزیرِ اعظم سے علما و مشائخ کونسل کی تنظیمِ نو پر بھی مشاورت کی۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain