شبلی فراز کا کہنا ہے کہ مولانافضل الرحمن پر اصولی تنقیدکرنے والوں کو پارٹی سے نکالنا آمریت اور فسطائیت کی بدترین شکل ہے۔ فیصلے نے ثابت کردیا کہ جے یوآئی(ف) میں ڈکٹیٹرشپ مسلط ہے۔ اپنے دیرینہ ساتھیوں کی زرا سی تنقید برداشت نہ کرنے والوں نے قوم کودکھادیا کہ وہ اندر سے کتنے جمہوری ہیں۔

سماجی ربطہ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ دوسروں کو اسلام کی مثالوں کے حوالے دینے والوں سے پوچھتا ہوں کہ کیا اسلام میں سوال پوچھنے پر ایسا ہی سلوک کیاجاتا ہے؟ آپ کی جماعت میں آزادی اظہارکا یہ عالم ہے؟عہدے بھائیوں اور چہیتوں میں بانٹ کر جماعت پر جمہوریت کا لیبل چپکانے سے لوگوں کو دھوکہ نہیں دیاجاسکتا۔





































