تازہ تر ین

جو بائیڈن کی حلف برداری سے قبل کئی ریاستوں میں مظاہرے،ہنگامے شروع،مائیک پنس کو قتل کی دھمکیاں

امریکا میں حکام نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی حانب سے ممکنہ پرتشدد مظاہروں کے خطرات کے پیش نظر ملک بھر میں حکومتی اداروں کی عمارتوں کے تحفظ کے لیے اتوار 17 جنوری سے ہی پولیس اور نیشنل گارڈز کے دستوں کو تعینات کر دیا ہے۔ اس دوران ملک کی مختف ریاستوں میں ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے ریلیوں کی اطلاعات ہیں۔

قانون نافذ کر نے والے وفاقی اور ریاستی اداروں نے متنبہ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے ریاستی اسمبلیوں کے آس پاس ممکنہ پرتشدد کارروائیوں کا خدشہ ہے۔ چھ جنوری کو ٹرمپ کے حامیوں نے واشنگٹن ڈی سی میں کیپیٹل ہل پر دھاوا بول دیا تھا اور اسی تناظر میں حکام نے اس طرح کے خطرات کے لیے آگاہ کیا ہے۔

 کیپیٹل ہل پر ہونے والے پرتشدد واقعات اور پھر صدر کے مواخذے کے تناظر میں متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔ صدر ٹرمپ کے حامیوں کا خیال ہے کہ انہوں نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تاہم انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی ہے۔ حالانکہ تمام حکومتی اداروں اور عدالتوں نے اس دعوے کو مسترد کر دیا اور اس بارے میں کوئی ثبوت بھی نہیں ہے۔

اتوار 17 جنوری کو ٹرمپ کے حامیوں نے اوہائیو، جنوبی کیرولائنا، ٹیکسس اور مشیگن جیسی ریاستوں میں پرامن مظاہروں کا آغاز کیا۔ اطلاعات کے مطابق بعض مظاہرین ہتھیاروں سے لیس تھے تاہم مجموعی طور احتجاج پرامن رہا۔

اخبار ‘نیو یارک ٹائمز’ کے مطابق انتہا پسند گروپ ‘بوگالو بوائز’ تحریک کے لوگ بھی ان مظاہروں کے دوران مختلف مقامات پر موجود تھے اور فوجی اسٹائل میں ہاتھوں میں رائفل بندوقیں بھی اٹھا رکھی تھیں۔ اخبار کے مطابق اس گروپ کا خیال ہے کہ ملک میں ایک اور خانہ جنگی کی شروعات سے حکومت کا تختہ پلٹا جا سکےگا۔

اس دوران مختلف ریاستی حکومتوں نے اپنی اپنی پارلیمان کی حفاظت کے لیے اضافی اقدامات کیے ہیں اور بعض ریاستوں نے تواسمبلی کی عمارت تک عوام کی رسائی کو محدود کر دیا ہے۔

انتہا پسندوں کے تئیں ایف بی آئی کی وارننگ

وفاقی تفتیشی ادارے ایف بی آئی نے متنبہ کیا ہے کہ چونکہ دائیں بازو کے انتہا پسند گروپ واشنگٹن کے آس پاس متحرک ہو رہے ہیں اس لیے مسلح مظاہروں کے پر تشدد ہونے کا خدشہ ہے۔ خفیہ اداروں کے مطابق حکومت مخالف ‘بوگالو’ گروپ گزشتہ ایک ہفتے سے ہی تمام پچاس ریاستوں میں ریلیاں کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ اتنی زیادہ سکیورٹی کی وجہ سے کچھ مظاہرین گھر سے باہر نکلنے سے گریز کریں گے یا پھر اس کا کوئی اثر نہیں پڑےگا۔ اس دوران دائیں بازو کے ایک گروپ نے بندوق کی حمایت میں پیر 18 جنوری کو جس مظاہرے کا اعلان کیا تھا اسے منسوخ کر دیا ہے۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق اس دوران اس سینئر اہلکار کو سکیورٹی فورسز نے گرفتار کر لیا ہے جس نے جو بائیڈن کی حلف برداری تقریب کی مخالفت میں ہتھیاروں کے ساتھ واشنگٹن جا کر مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ کوئے گرفن نے ٹرمپ کی حمایت “کاؤ بوائز فار ٹرمپ” کی تشکیل کی تھی اور وہ چھ جنوری کو کیپیٹل ہل پر ہونے والے حملے میں بھی آگے آگے تھے۔

واشنگٹن میں سکیورٹی سخت

اس دوران واشنگٹن ڈی سی اور کیپیٹل ہل کے آس پاس سکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گيا ہے۔ اس وقت شہر میں عوام کے بجائے ہر جانب فوجیوں کا پہرہ ہے۔ حکام نے بدھ 20 جنوری کو نو منتخب صدر جو بائیڈن کی حلف برداری تقریب کے موقع پر حفاظت کے لیے کئی روز پہلے ہی نیشنل گارڈز کو طلب کر لیا تھا جنہیں کونے کونے پر تعینات کیا گيا ہے۔

صدر ٹرمپ نے پہلے ہی جو بائیڈن کی حلف برداری تقریب میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جسے بائیڈن نے اچھا قدم بتایا۔ تاہم اطلاعات کے مطابق نائب صدر مائیک پینس اس میں شریک ہوں گے۔

 صدر کی حلف برداری تقریب دیکھنے کے لیے لاکھوں لوگ واشنگٹن آتے ہیں۔ لیکن اس بار تقریب کے منتظمین اور شہر کے میئر مریئل باؤزر نے امریکیوں سے اس تقریب میں شرکت کے لیے واشنگٹن نہ آنے کی اپیل کی ہے۔ جب تک اس تقریب کا باقاعدگی سے اختتام نہیں ہوجاتا اس وقت تک شہر کو ہائی الرٹ پر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے اس بار کی افتتاحی تقریب پہلے ہی مختصر کر دی گئی تھی اور سکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر اس بار اس کے مزید سادہ رہنے کی توقع ہے۔ اس بار کی تقریب کی تھیم ”متحد امریکا” ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved