تازہ تر ین

کشمیر پر قبضہ اور اب اپنی کالونی بنانے والا بھارت کس منہ سے یوم جمہوریت منارہا ہے

لاہور(خبریں، چینل۵ ویب ڈیسک) چینل۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ضیاءشاہد کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ میری پیدائش جنت نظیر وادی راولاکوٹ میں ہوئی۔ سرکاری درس گاہوں سے تعلیم حاصل کی۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کا شہری ہونے پر فخر ہے۔ ہمارے قبیلہ نے چارسدہ سے ہجرت کر کے آزادکشمیر میں سکونت اختیار کی صدیوں سے وہیں آباد ہیں۔ چارسدہ سے پہلے ہمارا قبلیہ غزنی سے آیا تھا۔ گریجوایشن کے دوران انگریزی ادب، معاشیات اور پولیٹیکل سائنس پسندیدہ مضامین تھے۔ ایم اے انگلش کیا جس سے مغرب کی تاریخ بارے آگاہی حاصل ہوئی۔ ریڈیو پر کئی پروگرام کیے۔ اہم شخصیات کے انٹرویو بھی کیے۔ پی ٹی وی میں کام کیا۔ بطور اینکر پرسن بھی کیا۔ اسی دوران سی ایس ایس امتحان پاس کیا اور فارن آفس میں تعینات رہا۔ بیجنگ، ہالینڈ، نیویارک میں فرائض سرانجام دیے۔ فارن آفس جوائن نہ کرتا تو ادیب ہوتا اردو ادب کے پرانے نئے ترقی پسند لکھاریوں کو بہت پڑھا۔ شاعری اور افسانہ نگاری کی۔ فکائیہ کالم نگاری بھی کرتا رہا۔ انشائیہ لکھنا پسند تھا۔ کامیاب سفارتکاری کیلئے عالمی قوانین سے آگاہی بہت ضروری ہے۔ ادب کی دنیا میں کچھ نہ کر پانے کی ہمیشہ محرومی محسوس کی۔ بھارت 26جنوری کو جو یوم جمہوریت منا رہا ہے کشمیریوں کی لاشیوں پر منارہا ہے۔ بھارت کی ہر سیاسی جماعت اقتدار میں آکر کشمیریوں پر ظلم و ستم کیا۔ اب تک 5 لاکھ کشمیریوں کو شہید کیا چکا ہے۔ کشمیریوں نے آزادی کی تحریک اپنے خون سے سینچی ہے۔ کشمیر زبردستی قبضہ کرے اور اسے اپنی کالونی بنانے والا بھارت کس منہ سے یوم جمہوریت منا رہا ہے۔ سات دہائیوں سے کشمیر محصور ہے آج وہا کشمیریوں کو گھروں میں بند کردیا گیا ہے ذرائع مواصلات کاٹ دئیے گئے ہیں۔ ذرٹیکل 370 ایک خالی خول کی طرح تھا۔ بھارت نے آئینی طور پر اہل کشمیر کو دھوکا دیا تھا جس کا مقصدر بھارت نوازکشمیریوں کو بھارت کے ساتھ ملانا تھا۔ آرٹیکل 370 کے تحت جمو کشمیر اسمبلی کو کچھ نام نہاد اختارات دیے گئے تھے تاہم 50 کی دہائی سے آج تک وہ آرٹیکل 370 کو تقریباً ختم کرچکے تھے۔ ان تمام حرکتوں کے باوجود کشمیر ایک متنازعہ علاقہ تھا۔ اب 5اگست 2019 کو بھارت نے وہ پردہ بھی چاک کردیا کیونکہ اسے اب مزید دھوکا دینے کی ضرورت نہ تھی اور براہ راست قبضہ کر لیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر کو 3حصوں میں تقسیم کر دیا اور ایک نان کشمیر منوج سنہا کو لیفٹیننٹ گورنر بنا دیا۔ اب یہی شخص 1 کروڑ چالیس لاکھ کشمیریوں کی قسمت کے تمام فیصلے کرتا ہے تمام حقوق چھین لئے گئے۔ کشمیر کی زمین نوکریاں تعلیم وظائف سمیت تمام حقوق ریاست کے تحت لے گئے اور نان کشمیریوں کے لیے تمام دروازے کھول دیے گئے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved